Thursday , September 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / حج کا مقصد اللہ کی رضاوخوشنودی

حج کا مقصد اللہ کی رضاوخوشنودی

 

ایس ۔ احمد
حج ۹ ہجری میں فرض عبادت قرار پائی اور پہلے سال حضرت ابوبکر صدیقؒ نے ۳۰۰ صحابہ کرامؓ کے ہمراہ حج ادا کیا ۔ یہ دین اسلام کا پہلا حج تھا اور پھر اگلے سال ۱۰ ہجری میں حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے حجۃ الوداع ادا فرمایا ۔ جب آپؐ ۹ ذی الحجہ کی صبح منیٰ سے عرفات کو روانہ ہوئے آپ کے ساتھ ایک لاکھ ۲۴ ہزار یا ایک لاکھ ۴۴ ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین موجود تھے ۔ آپؐ نے ظہر اور عصر کی نمازوں سے قبل ایک جامعہ خطبہ ارشاد فرمایا : ’’لوگو ! میری بات سن لو ، کیونکہ میں نہیں جانتا ، شائد اس سال کے بعد اس مقام پر میں تم سے کبھی نہ مل سکوں۔ اور فرمایا کہ سن لو ہم سب کا رب ایک ہے ۔ تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر حرام ہے ۔ آپؐ نے فرمایا کہ غلاموں سے بہتر سلوک کرو اور عورتوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو کیونکہ تم نے انھیں اﷲ کی امانت کے ساتھ حاصل کیاہے اور کلمے کے ذریعہ حلال کیا ہے ۔لوگو میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں لہذا اکیلے اپنے رب کی عبادت کرنا اور فرمایا کہ میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اُسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز ہرگز گمراہ نہ ہونگے اور وہ ہے اﷲ کی کتاب ’’قرآن‘‘ ۔اسی ( عرفہ کے ) دن سورۃ المائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی : ’’ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کرلیا‘‘۔اﷲ رب العزت قرآن مجید میں فرماتا ہے ، جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے اُن ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ۔ سب نے جواب دیا ، کیوں نہیں ۔ ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ یہ دن عرفہ ہی کا دن تھا اور قرآن کہتا ہے کہ یہ وعدہ کادن ’’عہد الست‘‘ تھا۔ جب ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو پکارو کہ وہ حج کو آئیں تو حکم کے مطابق آواز دیدی گئی اور جن جن ارواح نے اس پر لبیک کہا تھا وہ سب ضرور حج کریں گے اور ان خوش نصیب لوگوں میں آپ(حاجی صاحبان) بھی موجود ہیں جن کو یہ نادر موقع نصیب ہونے جارہا ہے ۔ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جارہا تھا تو فرشتوں نے کہا کہ کیا ہم آپ کی مدد کریں حتیٰ کہ جبرئیل امین آ موجود ہوئے اور فرمایا کہ آپ حکم دو تو میں آپ کی مدد کروں ۔ ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ کیا میرے اس حال کو اﷲ نہیں جانتا ؟ فرمایا : کیوں نہیں تو جواب میں حضرت ابراہیم ؑ نے کہا کہ ’’میرے لئے اﷲ ہی کافی ہے ‘‘ ۔ یہ ادا اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کو اتنی پسند آئی کہ آپ کو مقام ابراہیم بھی عطا کردیا اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ درودِ ابراہیم میں شامل کردیا۔ اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بی بی ہاجرہؓ کو ویران میں بالکل اکیلے حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کے ساتھ چھوڑکر جارہے تھے تو دو بار حضرت ہاجرہؑ نے ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ کیوں ہم کو اس طرح ویران اور غیرآباد علاقہ میں چھوڑے جارہے ہو تو جواب نہیں ملا۔ جب تیسری مرتبہ بی بی ہاجرہ ؑ نے پوچھا کہ کیا یہ اﷲ کا حکم ہے تو جواب ملا ہاں ۔ تب بی بی ہاجرہؑ نے فرمایا تو پھر جاؤ اﷲ ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔ یہ الفاظ اﷲ کو اتنے پسند آئے کہ ان کی سنت کو حج کا رکن قیامت تک کیلئے قائم کردیا۔ اور پھر جب اﷲ کے حکم پر ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسمعٰیل ؑکو لیکر اﷲ کی ہدایت و حکم بجالانے کے لئے قربان گاہ کی جگہ پہنچے اور قربان کرنے کا وقت تھا تب اسمعٰیل ؑ نے اپنے والد سے فرمایا کہ آپ مجھے ذبح کیجئے انشاء اللہ مجھے صابر پائیں گے ۔ یہ بات اﷲ کو اتنی پسند آئی اتنی پسند آئی کہ اس عمل کو قربانی کے طورپر ساری اُمت پر قیامت تک کیلئے حسبِ استطاعت لازم کردیا ۔ یہ ہے اصل حج کی روح ۔ سارے نبی اور رسولوں نے اپنی اپنی زندگی میں حج ادا کیا اور نبی ہوتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام کو سب سے پہلے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حج کروایا۔ اگر آپ اس حج کی رُوح کو ذہن میں موجود پائیں گے تو حج کا فائدہ ہوگا اور اﷲ راضی ہوجائے گا ورنہ آپ کا فرض تو بہرحال ادا ہوجائیگا مگر اﷲ رب العزت آپ کو بہت کچھ دینے کیلئے بلوایا ہے اور حاصل کرنے کی بجائے دنیاوی ضرورتوں میں دل مائل ہوجائے تو پھر خسارہ ہے ۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ حج کا تعلق پیسے سے نہیں ہے بلکہ اُس لبیک سے ہے جس کو آپ نے عالم ارواح میں کہا تھا ۔ حج کے دو درجات ہیں (۱) حج کا ادا ہوجانا (۲) حج کا قبول ہوجانا ۔ جب حاجی احرام کی حالت میں حرم سے منیٰ اور پھر عرفات میں داخل ہوجائیگا تو اُس کا حج ادا ہوجائیگا ۔ ادائیگی فرض کی الگ ہوتی ہے اور قبولیت فرض کی الگ ہوتی ہے جب ادا ہوجاتا ہے تو اس کو چھوڑنے کے عذاب سے تو بچ جاتا ہے، اس لئے حج پر جانے سے پہلے یہ طئے کریں کہ آپ حج پر کیوں جارہے ہیں ۔ آیا فرض کی ادائیگی کیلئے یا قبولیت کیلئے اگر مقصد اﷲ کی رضا حاصل کرنا ہے تو پھر اُسے حاصل کرنے کیلئے دل وجان سے کوشش کرنی چاہئے ۔ عرفات کا دن ہی اصل حج کا دن ہے ۔ جتنی بھیک مانگ سکتے ہو اﷲ تعالیٰ سے اپنے لئے اور اپنے سب عزیزوں کیلئے مانگ لو ۔ آنسو بہاکر مانگنے کو اﷲ پسند کرتے ہیں آپ کی دُعا بہرحال سنی جائیگی اور آج ہی کے دن اﷲ سارے فرشتوں کو یہ منظر دکھاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ تم نے جب میں آدم کو پیدا کرنے کے بارے میں کہا تھا تو تعجب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی مخلوق کو زمین پر فساد کرے گی آٖ پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر اب دیکھو یہ وہ ہیں جو اپنے گناہ پر مجھ سے معافی مانگ رہے ہیں اور صرف میری ہی شفاعت چاہتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT