Saturday , October 21 2017
Home / مضامین / حج کا پیغام خصوصاً حجا ج کرام و خیر امت کے نام

حج کا پیغام خصوصاً حجا ج کرام و خیر امت کے نام

 

ڈاکٹر محمد سراج الرحمن فاروقی
حجاج کرام ( ضیوف الرحمن ) قابل مبارکباد ہیں کہ ساری انسانیت میں سے رب العالمین کو اس سال منتخب فراکر اپنے گھر کی زیارت، بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کیلئے بلوایا۔ بلا شک و شبہ اس سے مبارک سفر کوئی اور نہیں ہے،۔ جہاں سے مومن بندہ لوٹتا ہے تو گناہوں سے ایسے پاک ہوجاتا ہے جیسے وہ ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔ دراصل تاریخ حج اور اس کیلئے انبیاء علیہ السلام ، خاص کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور پیغمبر اسلام کے جاں نثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین جو آزمائشوں اور قربانیوں کے انبار پیش کئے جس کی تاریخ کے اوراق کھل کر گواہی دیتے ہیں اس کی جانکاری حاصل کرنا ہر حاجی کیلئے ضروری ہے تاکہ وہ مکہ جہاں کے درو دیوار صحابہ کرام ؓ کی قربانیاںدیکھی ہیں ، انتہائی ناموافق اور نامساعد حالات میں مسلمان کو اپنی شناخت تک چھپائے ہوئے گذر بسر کرنا ہوتا تھا۔ آج وہ امن کا شہر کیسے بناہے؟ وہ کیا انقلابی پہلو تھا؟
یہی وہی سرزمین ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت جب کہ ساری دنیا رب کائنات کو بھولی ہوئی تھی، تقریباً چار ہزار برس پہلے جس قوم میں انھوں نے آنکھیں کھولی تھیں قوم گمراہ اور بت پرستی تھی۔ نجوم ، فال، غیب گوئی، جادو، ٹونا کا طرح طرح کے نت نئے باطل رسومات کے خوب چرچے دور دورا تھا۔

جس طرح اس زمانے میں ہم دیکھ رہے ہیں پجاریوں کی حکومت وقت مددگار ہے۔ اسی طرح اس زمانے میں بھی پجاریوں کو بادشاہ وقت سے ملی بھگت تھی۔ عام لوگوں کو ( آج کی طرح ) پجاری اپنے پھندے میں پھانس کر رکھتے ورنہ تباہی کا خوف دلاتے۔ لیکن جس طرح ایمان والا کسی کے آگے جھکتا نہیں ، تنہا حالات کا مقابلہ کرتا ہے، ایمان کے معاملہ میں کسی بھی قسم کی مصالحت کے آگے سرنگوں نہیں ہوتا۔ اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی علی الاعلان للکارا، تم جن معبودوں کو پوجتے ہو، میں ان کو ہرگز نہ پوجوں گا۔ جس کا تذکرہ قرآن کرتا ہے۔ ’’ جن کو تم خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو، ان سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔ ( الانعام ) اور کہا ’’ میں ہر چیز سے منہ موڑ کر اس ذات کی عبادت اور بندگی کرتاہوں جس نے آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا۔ آج جس طرح مسلمانوں پر تہمت لگائی جارہی ہے ، لوجہاد، گھر واپسی، سوریہ نمسکار، گیتا کے پاٹھ، بھارت ماتا، گائے رکھشک کے بہانے قتل ناحق کئے جارہے ہیں ایسے ہی مصیبت کے پہاڑ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ٹوٹ پڑے۔ جس طرح آج حکومت ایمان والوں کو دھمکارہی ہے، ملک چھوڑ دو، ورنہ ہماری کو جھیلو۔ لیکن ایسے ناموافق حالات کے مقابلے کا حوصلہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے ملتا ہے۔ آپ ؑ نے یکہ و تنہا، سچائی کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔قوم کی دھمکیوں کے جواب میں اپنے ہاتھ سے بتوں کو توڑ کر بتادیا کہ ان بے بس Idols کو مت پوجو۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ کوـآگ میں جھونکا گیا، رب العالمین نے بچالیا۔
حضرت ابراہیم ؑ کی طرح پیغمبر اسلام صلی للہ علیہ وسلم کو بھی ایک سچے خدا کی طرف بلانے کی پاداش میں وطن سے نکال دیئے گئے۔ اپنی روٹی کمائی کی فکر نہیں بلکہ انسانیت کو راہ خدا دکھانے کی فکر تھی، کبھی کنعان میں ، کبھی ریگستان عرب میں ساری جوانی ایک ہی فکر بندے کا ربط اس کے خالق سے ہوجائے۔ جب رب العالمین کی آزمائشوں پر پورا اترے تو رب نے انھیں امام ( پیشوا ) بنادیا۔ اس طرح سارے عالم میں دین ابراہیمی کے ماننے والوں کے سردار بنے۔ آج حجاج کرام کو یہ جانا اور ماننا ہے کہ آپؐ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے دنیوی معاملات کا مقابلہ آپ کریں تو یقیناً وہی وعدہ رب العلمین پورا کرے گا۔ صبر اور استقامت کے ساتھ دعوت دین حق محنت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں گے یہی دشمنان اسلام ہمارے سامنے سرنگوں ہوں گے۔ ہمارا کھویا ہوا وقار بحال ہوگا۔ حکمرانی کی باگ ڈور کوئی عجب نہیں ہاں ہمارے ہاتھ سونپی جائے گی۔ حاجی حضرات دعوت حق کو اپنا مقصد حیات بنائیں۔

پیغمبر اسلام اور زمانہ حج
جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں بت پرستی کا دور دورہ تھا اسی طرح بلکہ اس سے بے انتہا زیادہ کسمپرسی، مصیبت زدہ، کربناک حالات مکہ مکرمہ میں پیغمبر اسلام کے دور میں تھے۔ جو کوئی اللہ اکبرکی صدا لگاتا اس پر جان کے لالے پڑجاتے۔ سارا مکہ برچھے بھالوں، تلواروں سے اس پر ٹوٹ پڑتا، حجاج کو جاننا چاہیئے کہ یہی وہ مکہ کی پرآشوب سرزمین ہے جہاں پر آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی مرتبہ جان لیوا حملے کئے گئے۔ تین سال تک مقید ( قیدسعیب ) کیا گیا ۔ مکہ کی پہاڑیوں میں گھانس، پتے کھاکر سماجی مقاطعہ (Social bycott) کا مقابلہ کرتے ہوئے گذر بسر کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ۳۶۰قریش کے سردار، برہنہ شمشیروں کے ساتھ نعوذ باللہ پیغمبر اسلام کے قتل کی نیت سے آپ کو گھیر لیا تھا۔ یار غار ابوبکر صدیقؓ جو وقت کے چیف جسٹس کا مقام رکھتے تھے انھیں اذیتیں دی گئیں۔ اسلام پر آپ کی قربانی کا یہ عالم کہ آ پ کے گھر میں فقر فاقہ گذرتا۔
دراصل حج کا پیغام کیا ہے؟ اس پر ہم سرسری جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے۔ حج کا مقصد خطبہ حجۃ الوداع میں بہترین اعلیٰ ترین جامع انداز میں بتایا دیا گیا۔ وہ جامع خطبہ حجتہ الوداع جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۸سے زیادہ حکایتیں امت مسلمہ کو دیں، اور آخر میں ارشاد فرمایا ( یہ ایسا جامع خطبہ تھا جو 5 مقامات پر دھرایا گیا۔ میدان عرفات، مزدلفہ، منیٰ، جمرات، مقام غدیر ) فرمایا نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ اے میرے جان نثار ساتھیوں ( صحابہ ؓ ) سن لو، جتنے لوگ یہاں حاضر ہیں، ان پر یہ ذمہ داری ہے کہ جو یہاں موجود نہیں ہیں ان تک یہ میرا پیغام ( اسلام کی دعوت ) کو پہنچانا ہے لیکن امت مسلمہ کا المیہ یہ ہے کہ دیگر عبادات کی طرح عبادت حج کو بھی ایک رسمی عبادت بناچکی ہے۔ خطبہ حجتہ الوداع کے ذریعہ تاجدار حرم، سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور درد وہ تڑپ، وہ جامع منشور، بہترین قانون، ضابطہ حیات ہمیں دیا گیا۔ ساتھ میں ایک جامع ذمہ داری اعلائے کلمتہ الحق کی ہمیں دی گئی جو قیامت تک آنے والی انسانیت کو سسکتی بلکتی، دم توڑتی سکون کی متلاشی انسانیت کے ایک عظیم نسخہ کیمیاء (Life Saving Drug) کفر جیسے Life threatening مرض کے لئے، شفایاب کرتا ہے وہ ہے کلمہ طیبہ کی محنت ہے۔ اور حکم بھی دیا گیا ہے کہ گھر گھر، دردر، پہنچاؤ، اس پر صحابہ کرام نے عمل کیا۔ رضائے الہی حاصل کی۔ افسوس کہ آج حاجی صاحبان اس صحابہ کرام کی قربانی ( دعوت دین ) کی محنت کو جس محنت نے انہیں رضائے الٰہی کا مستحق بنایا، یہی مشن رسول ؐ کو بھی آج حجاج کرام بھول رہے ہیں۔ رسمی عبادات، خانہ پُری کرتے ہوئے دعوت دین کی طرف بے اعتنائی برتی جارہی ہے۔ افسوس کہ پس حاجی جب لوٹتا ہے تو جاء نماز، تسبیح، زم زم، کھجور، ٹوپی تقسیم کرتے ہوئے یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہی حج کا مقصد ہے۔ اسی لئے علامہ اقبالؒ نے کہا :
زائرین کعبہ سے اقبال یہ پوچھے کوئی
کیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں
حج اور خطبہ حجتہ الوداع کا بنیادی پہلو اعلائے کلمتہ الحق ہے۔ کتنے سنگ دل ہیں ہم جنگل کی آگ کی طرح اطراف بسنے والے برادران وطن کو جہنم کا ایندھن بنتا دیکھ کر خاموش ہیں۔
جبکہ پیغمبر اسلام حج کے موسم میں دعوت دین کی محنت میں اپنے جان نثار صحابہ کرامؓ کے ساتھ دن کے اُجالے میں رات کے اندھیرے میں ، گلی کوچوں میں، سڑکوں، شاہراہوں میں کبھی چھپ کر کبھی علانیاں، جھلسادینے والی دھوپ کی پرواہ نہ ہوتی تو طوفانی بارش نہ گرد غبار کی نہ خوفناک آندھیوں کی بس ایک ہی نعرہ ’’یایھاالناس قولو لا الہ الہ اللہ و تفلحو‘‘ کہو عبادت کے لائق اللہ کی ذات ہے کامیاب ہوجاؤ گے۔
یعنی ساری انسانیت کو دوزخ کی آگ سے نجات مل جائے اسی محنت میں لگے رہتے، اندھی بصیرت رکھنے والی، جان کی دشمن قوم کو بچانے موسم حج کا بھرپور فائدہ اٹھائے۔ لیکن آج حج جیسا ایک اسلام کی تکمیل کا اہم رکن بھی اسلامی عبادات کی رسمی کڑی بن گیا ہے، جس کی وجہ حج کے بعد کی زندگی کے متوقع فوائد نہیں حاصل ہورہے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کہتے ہیں:
ہے طواف حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کُند ہوکر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیام
اگر آج بھی حجاج کرام بالخصوص اور امت مسلمہ بالعموم یہ طئے کرلیں کہ وہ پیغمبرانہ تڑپ کے ساتھ دعوت دین حق کی محنت کے ساتھ وابستہ ہوجائیں گے تو اس کا کھویا ہوا وقار ، دوبارہ حاصل ہوگا اور ساری روئے زمین پر پُررونق انقلاب برپا ہوگا۔تبھی حاجی کا دل اسلامی رنگت میں رنگ جائے گا۔
پھر سے امت وحدہ کا شعور جاگ جائیگا۔ اور یہی مقصد حج ہے، کاش کہ اسے ہم سمجھتے اور اپناتے۔
اے مسلماں ! اپنے دل سے پوچھ مُلا سے نہ پوچھ
ہوگیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم

TOPPOPULARRECENT