Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی کی تشکیل کی منصوبہ بندی

حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی کی تشکیل کی منصوبہ بندی

چیف منسٹر کے سی آر کی ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو فہرست پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/7مئی، ( سیاست نیوز) اقلیتی اداروں پر جلد تقررات کا امکان ہے اور حکومت نے اس سلسلہ میں اقلیتی اداروں کے نامزد عہدوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت پہلے مرحلہ میں حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی کی تشکیل کا منصوبہ رکھتی ہے۔ سنٹرل حج ایکٹ اور اردو اکیڈیمی کے ریاستی ایکٹ کے تحت ان دونوں اداروں پر تقررات کے سلسلہ میں سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو ہدایت دی کہ وہ اقلیتی اداروں کیلئے موزوں پارٹی قائدین کے ناموں کی فہرست پیش کریں۔ تقررات کے سلسلہ میں پارٹی کے قیام سے وابستہ قائدین کو اولین ترجیح دی جائے گی اور پارٹی کیلئے خدمات کی بنیاد پر نامزد عہدوں کیلئے نام کی سفارش کی جائے گی۔ حکومت فوری طور پر حج کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے جبکہ اردو اکیڈیمی کی تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں تقسیم ابھی باقی ہے لہذا تقسیم کے بعد ہی اس پر تقرر کیا جاسکے گا۔ حج کمیٹی میں صدر نشین کے علاوہ 14ارکان کی گنجائش ہے جن میں رکن پارلیمنٹ، رکن اسمبلی اور رکن قانون ساز کونسل شامل ہوں گے۔ ایکزیکیٹو آفیسر حج کمیٹی بحیثیت ممبر کنوینر شریک رہیں گے۔ مذہبی اُمور سے وابستہ شخصیتوں کو حج کمیٹی میں نامزد کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق  حج کمیٹی کی صدارت کیلئے ٹی آر ایس کی تائید کرنے والے بعض مذہبی قائدین دوڑ میں ہیں۔ شہر کی تاریخی مسجد کے امام، ایک دینی مدرسہ کے ناظم اور بعض دیگر مذہبی تنظیموں سے وابستہ شخصیتیں اس عہدہ کیلئے پیروی میں مصروف ہیں۔ ٹی آر ایس کے علاوہ حکومت کی حلیف جماعت کی جانب سے بھی بعض ناموں کی حج کمیٹی کی صدارت کیلئے سفارش کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر بہت جلد چیف منسٹر کو اپنی سفارشات پیش کردیں گے جس میں  حج کمیٹی، اردو اکیڈیمی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کیلئے پارٹی قائدین اور ہمدردوں کے ناموں کی سفارش کی جائے گی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کے ساتھ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر نے تقررات کے سلسلہ میں بات چیت کی اور اقلیتی اداروں کی تفصیلات حاصل کی۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد سے چونکہ نامزد عہدوں پر تقررات نہیں کئے گئے لہذا اقلیتی قائدین  عہدوں کیلئے کافی پُر امید ہیں اور مختلف وزراء کے ذریعہ چیف منسٹر کو اپنے نام کی سفارش کررہے ہیں۔ ریاستی وزراء کے ٹی آر، ہریش راؤ کے علاوہ رکن پارلیمنٹ کویتا کے پاس عہدہ کے خواہشمندوں کا زبردست ہجوم دیکھا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے وقت لگ سکتا ہے کیونکہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے۔

TOPPOPULARRECENT