Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / حج کے متعلق مسائلِ شرعیہ

حج کے متعلق مسائلِ شرعیہ

دوسری و آخری قسط

حج بدل
سوال : بکر ایک تاجر پیشہ ہے ‘ اسکا کاروبار کافی وسیع ہے ۔ اوربکر اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینا چاہتاہے اور بکر نے اب تک حج نہیں کیا۔ بکر کے دل میں بہت خواہش و تمنا ہے کہ حج و زیارت کی سعادت حاصل کرے ‘بکر کے پاس مال و دولت ہے ‘ کوئی ذمہ داری وغیرہ کچھ نہیں ‘صحت مند ہے‘کوئی عارضہ لاحق نہیں ‘ بکر اگر حج کیلئے جائے تو بکر کا کاروبار بڑی حد تک متاثر ہوجائیگا ۔ اس لئے بکر کی خواہش ہے کہ اس کی طرف سے کسی کو حج بدل کرایاجائے ۔کیا حج بدل کرانے سے بکر کی طرف سے حج ساقط ہوجائے گا یا نہیں ؟
جواب : شریعت مطہرہ میں عبادات کی تین نوعیتیں ہیں (۱) خالص مالی عبادت جیسے زکوٰۃ اور صدقہ فطر (۲) خالص بدنی عبادت جیسے نماز اور روزہ (۳) مالی و بدنی عبادت جیسے حج ۔ پہلی قسم کی عبادت جیسے زکوٰۃ میں اختیار و اضطرار ہر دو صورت میں دوسرے کو نائب بنانا درست ہے ۔ دوسری قسم کی عبادت مثلاً نماز و روزہ میں کسی کو نائب بنانا درست نہیں ۔ تیسری قسم کی عبادت جیسے حج میں اس وقت نائب بنانا درست ہے جبکہ آدمی سفر حج یا فریضہ حج ادا کرنے سے عاجز ہو ۔ و نیز فرض حج بدل کیلئے بھی شرط ہیکہ وہ حج بدل کرانے سے موت تک اسکو دوبارہ قدرت حاصل نہ ہو ۔ عالمگیری جلد اول ص ۲۵۷ میں ہے: و منھا استدامۃ العجز من وقت الا حجاج الی وقت الموت ھکذا فی البدائع۔ اگر کوئی شخص باوجود استطاعت کے حج نہ کرے اور کسی دوسرے کو حج بدل کرائے تو اس کی طرف سے حج ساقط نہیں ہوگا ۔ اس کو دوبارہ حج کرنا لازم ہوگا ۔
پس دریافت شدہ مسئلہ میں بکر پر حج فرض ہوچکا ہے اوربکر صاحبِ قدرت ہیں ‘بکر کا اپنی طرف سے فرض حج کیلئے کسی کو نائب بنانا اور حج بدل کرانا شرعاً درست نہیں، کیونکہ شریعت کی رو سے اگر کوئی تاجر پیشہ ہو اور تجارت کر کے زندگی بسر کرتا ہو ‘ حج کی استطاعت رکھتا ہو ‘ توشہ و سواری پر قادر ہو ‘ جا کر آنے تک آل و اولاد کا نفقہ موجود ہو اور اس کے واپسی تک تجارت کا اصل سرمایہ اس کے پاس باقی رہتا ہو تو ایسے شخص پر حج کرنا لازم ہے۔’عالمگیری ج اول ص ۳۱۸: قال بعض العلماء ان کان الرجل تاجرا یعیش بالتجارۃ فملک مالا مقدار ما لو رفع منھا الزاد والراحلۃ لذھابہ و ایابہ و نفقۃ اولادہ و عیالہ من وقت خروجہ الی وقت رجوعہ و یبقی لہ بعد رجوعہ راس التجارۃ التی کان یتجر بھا کان علیہ الحج ۔
سوار ہو کر طواف کرنا
سوال :زید کی عمر تقریباً ۵۵ سے زائد ہے ‘ زید چلنے پھرنے پر قادر ہے، لیکن مطاف میں طواف کے دوران جو ہجوم رہتا ہے اس کو دیکھ کر طبیعت پست ہوجاتی ہے اور طواف کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔ اگر زید طواف زیارت کیلئے چند لوگوں کو کرایہ دے جو زید کو پالکی میں بٹھا کر طواف کرادیں تو کیا اس سے زید کا طواف ادا ہو جائیگا یا نہیں ۔ طواف کے دوران چمڑے کے سلے ہوئے جوتے پہن سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب : پیدل طواف کرنا واجب ہے اگر کسی شخص کو کوئی عذر ہو ‘ پیدل طواف کرنے پر قادر نہ ہو تو ایسے شخص کو سوار ہو کر طواف کرنے کی اجازت ہے اور اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے سوار ہو کر طواف کرے تو اس پر دوبارہ طواف کرنا واجب ہے جب تک کہ وہ مکہ مکرمہ ہو اور اگر وہ اپنے وطن کو لوٹ جائے اور طواف نہ کرے تو اس پر دم لازم ہوگا ۔ بدائع الصنائع ج ۲ ص۳۱۱ میں ہے ’’ و من واجبات الطواف أن یطوف ماشیا لا راکباً الا من عذر حتی لو طاف راکباً من غیر عذر فعلیہ الاعادۃ مادام بمکۃ و ان عاد الی أھلہ یلزمہ الدم‘‘۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر سوار ہو کر طواف فرمایا تھا ۔ ’’عن جابر رضی اللہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم طاف راکباً لیراہ الناس فیسالوہ و یتعلموا منہ‘‘ (مسند احمد ۳؍۷۱۳) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا سبب بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار ہو کر طواف کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر سیکھ سکیں اور مسائل دریافت کرنا ہوں تو معلوم کرسکیں ۔ مطاف میں ازدحام کا خوف کوئی عذر نہیں ہے ۔لہذا آپ چونکہ پیدل طواف کرنے پر قادر ہیں اور کوئی عذر نہیں اس لئے آپ پرپیدل طواف کرنا واجب ہے ۔ چمڑے کے موزے یا نعلین پہن کر طواف کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ پاک ہوں اور پشت قدم کی ہڈی کھلی رہے عالمگیری جلد اول ص ۲۲۴ میں ہے: ’’ و لا یلبس مخطیا قمیصاً او قباء … أو خفا الا أن یقطع الخف اسفل من الکعبین کذا فی فتاوی قاضی خان و الکعب ھنا المفصل الذی فی وسط القدر عند معقد الشراک کذا فی التبیین ۔کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعلین کے ساتھ طواف فرمایا ۔ ’’ روی عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ طاف مع نعلیہ‘‘(مسند ابو یعلی ۸۴۳)
مسجد حرام کے بالائی حصہ سے طواف کرنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حج کے موقعہ پر لوگوں کی کثرت کی وجہ سے لوگ مطاف اور مسجد حرام میں سے طواف کرتے ہیں اور بعض مسجد کے اوپری حصہ سے طواف زیارت کرتے ہیں کیا ان کا اوپر سے طواف کرنا صحیح ہے یا مجبوری میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔کس حد تک اس کی اجازت ہے ۔ اور اگر کوئی شخص حطیم کعبہ میں طواف کرے تو کیا اس کا طواف ہوگا یا نہیں؟
جواب : ازروئے شریعت ‘مسجد حرام میں خانہ کعبہ کا قریب سے یا دور سے طواف کرنا درست ہے۔’بدائع الصنائع : ج ۲ ‘ ص۳۱۳ میں ہے: فیجوز الطواف فی المسجد الحرام قریبا من البیت او بعیدا عنہ۔ لہذا مسجد حرام کے بالائی حصے یا نیچے حصے سے طواف کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں لیکن اگر مسجد حرام کے باہر سے طواف کرے ‘ اس طرح کہ طواف کرنے والے اور خانہ کعبہ کے درمیان مسجد حرام کی دیواریں حائل ہوتی ہیں تو شرعاً ایسے طواف کا اعتبار نہیں ۔ کیونکہ خانہ کعبہ کے اطراف طواف کا حکم ہے ’’ ولیطوفوا بالبیت العتیق ‘‘ (الحج ؍ الایۃ ۲۹) جو مسجد حرام میںقریب یا دور سے کرنے سے حاصل ہوتا ہے ۔ مسجد حرام کے باہر سے کرنے سے طواف کاحکم ادا نہیں ہوگا ۔
حطیم کعبہ کے باہر سے طواف کرنا چاہئے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خانہ کعبہ کا حصہ قرار دیا ’’ ان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال لھا ‘ ان قومک قصرت بھم النفقۃ فقصروا البیت عن قواعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام و ان الحطیم من البیت و لولا حدثان عھدھم بالجاھلیۃ لرددتہ الی قواعد ابراہیم و لجعلت لہ بابین ‘ بابا شرقیاً و بابا غریبا ‘‘ (البخاری کتاب الحج ‘ باب فضل مکۃ) ۔یعنی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہاری قوم کے پاس پیسہ کم ہوگیا تو انھوں نے قواعد ابراہیم سے بیت اللہ کو کم کر دیا اور حطیم‘ بیت اللہ کا حصہ ہے اگر تمہاری قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو میں اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد تک دوبارہ تعمیر کر دیتا اور اس کے دو دروازے ایک مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب بنا دیتا ۔ بعض روایات سے ثابت ہے کہ بی بی عائشہ اور ایک روایت میں ایک آدمی نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کی نذر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی عائشہ اور اس شخص کو حطیم کعبہ میں نماز پڑھنے کا حکم فرمایا ۔
اس سے واضح ہیکہ حطیم کعبہ بیت اللہ شریف کاحصہ ہے اس لئے اگر کوئی شخص حطیم کعبہ میں طواف کرے تو اس پر طواف کا اعادہ ضروری ہے ۔ اور اگر دوبارہ طواف نہ کرے اور اپنے وطن لوٹ جائے تو اس پر دم لازم ہوگا کیونکہ حطیم کا حصہ بیت اللہ شریف کا چوتھائی حصہ ہے اور یہ چوتھائی حصہ کا طواف چھوٹ گیا ہے جس کی وجہ سے طواف میں نقص لازم آگیا اس کی پابجائی دوبارہ طواف سے ہوگی ۔ جب تک وہ مکہ مکرمہ میں مقیم رہے یا اس کی تلافی قربانی سے ہوگی اگر وہ اپنے وطن کو لوٹ جائے ۔ بدائع الصنائع ج ۲ ص ۳۱۴ میں ہے:والافضل أن یعید الطواف کلہ مراعاۃ للترتیب فان أعاد علی الحجر خاصۃ اجزأہ لان المتروک ھو لا غیر و قد استدرکہ و لم یعد حتی عاد الی اھلہ یجب علیہ الدم لان الحطیم ربع البیت فقد ترک من طوافہ ربعہ۔

TOPPOPULARRECENT