Saturday , September 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / حج کے متعلق مسائلِ شرعیہ

حج کے متعلق مسائلِ شرعیہ

قسط اول

ذی الحجہ کے ابتدائی ایام میں عمرہ کرنا
سوال : زید سعودی عرب میں ملازم ہے۔ بقرعید کے چھٹیوں میں زید گزشتہ سال جب اپنے گھر حیدرآباد آیا تو ذی الحجہ کے پہلے ہفتہ میں مکہ مکرمہ گیا اور عمرہ ادا کیا ۔ پھرزید اپنے وطن واپس آیا ۔ اب زید کو خلش ہے کہ ذی الحجہ کے دس دنوں میں اگر عمرہ کریں تو اس کے ساتھ حج کرنا ضروری ہے یا عمرہ کی بالکل اجازت نہیں۔ اس سے قبل زید فرض حج ادا کرچکا ہے۔ ایسی صورت میں کیا زید کا عمرہ ادا ہوا یا نہیں۔ بیان فرمائیں تو مہربانی ہوگی۔
جواب : فقہاء کرام نے عمرہ کے وقت کے بابت صراحت کی ہے کہ سال کے بارہ مہینوں میں کبھی بھی عمرہ ادا کیا جاسکتا ۔ البتہ ایام تشریق یعنی ۹؍ذی الحجہ سے ۱۳؍ ذی الحجہ تک عمرہ کرنا غیر قارن (حج قران کرنے والے کے علاوہ) کے لئے مکروہ ہے ۔ تاہم اگر کوئی ان ایام تشریق میں عمرہ ادا کرے تو عمرہ کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گا۔ عالمگیری جلد اول ص۲۳۷ میں ہے : (ووقتھا) جمیع السنۃ الاخمسۃ ایام تکرہ فیھا العمرۃ لغیر القارن کذا فی فتاوی قاضی خان ۔ وھی یوم عرفۃ و یوم النحر و ایام التشریق ۔ والاظھر من المذہب ماذ کرنا ولکن مع ھذا لوادا ھا فی ھذہ الایام صح و یبقی محرما بھا فیھا کذا فی الھدایۃ۔
اگر کوئی شخص حج نہ کیا ہو اور وہ اشھر حج : شوال ، ذوالقعدۃ اور ذوالحجۃ کے دس دنوں میں خانہ کعبہ کو دیکھے تو اس پر حج کرنا فرض ہے۔ لیکن زندگی میں ایک ہی بار حج فرض ہونے کی وجہ زید پر دوبارہ حج فرض نہیں، کیونکہ زید پہلے ہی فریضہ حج کی تکمیل کرچکاہے۔ لہذا جو عمرہ زید نے ذی الحجہ کے ابتدائی ہفتہ میں ادا کیا ہے۔ شرعاً وہ صحیح ہے۔
عدت کے دوران حج کا سفر
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کیا کوئی خاتون دوران عدت وفات حج کیلئے جاسکتی ہیں، کیونکہ مشہور ہے کہ عورت عدت میں گھر کے باہر نہیں جاسکتی تو کیا عدت میں حج کے لئے جانا صحیح ہے یا نہیں۔
جواب : عورت پر حج کے فرص ہونے کے منجملہ شرائط میں عدت کا نہ ہونا بھی ایک شرط ہے۔ لہذا عورت کا عدت کے دوران خواہ عدت وفات ہو یا عدت طلاق حج کے لئے جانا شرعاً درست نہیں۔ عالمگیری جلد اول ص ۲۱۹ میں ہے : فلا تخرج المرأۃ الی الحج فی عدۃ طلاق أو موت۔
احرام کی حالت میں ٹوٹے ہوئے ناخن کو نکالنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر حج کے دوران مزدلفہ سے واپسی کے دوران ٹھوکر لگ کر پاؤں کا ناخن تقریباً ٹوٹ جائے اور وہ لٹک رہا ہو، جس سے کافی تکلیف ہوتی ہے۔ اگر وہ ناخن نکال دیا جائے تو کیا احرام کی حالت میں ناخن نکالنے سے کوئی کفارہ لازم ہے یا نہیں ؟
جواب : حالت احرام میں اگر ناخن ٹھوکر یا کسی وجہ سے ٹوٹ جائے اور لٹکتے رہے اور محرم ایسے ناخن کو نکال دے تو شرعاً اس پر کوئی چیز واجب نہیں۔ عالمگیری جلد اول ص۲۴۴ میں ہے : انکسر ظفر المحرم و تعلق فاخذہ فلا شیئی علیہ کذا فی الکافی۔
حالت احرام میں غلاف کعبہ کو چومنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالت احرام میں کعبہ شریف کے غلاف کو چومنا اور سر پر رکھنا کیسا ہے۔ اگر ایسا کیا جائے تو کیا قربانی دینا ہوگا ۔ و نیز اگر کسی کے ہاتھ میں موچھ ہے اوروہ پٹی باندھ رہا ہو تو کیا حالت احرام میں پٹی باندھنے کی اجازت ہے یا نہیں ؟ کیا خاتون حا لت احرام میں اپنے چہرے پر نقاب ڈال سکتی ہیں یا نہیں؟
جواب : محرم کو حالت احرام میں سر اور چہرے کو چھپانے سے بچنا چاہئے ۔ عالمگیری جلد اول ص۲۲۴ میں ہے : و یتقی سترالراس والوجہ۔
لہذا اگر کوئی کعبہ شریف کے غلاف میں داخل ہوجائے اس طرح کہ غلاف اس کے سر اور چہرے کو نہ لگے تو کوئی حرج نہیں اور اگر لگ جائے تو مکروہ ہے۔ و کذالو دخل تحت سترالکعبۃ حتی غطا راسہ او وجھہ کرہ ذلک لمکان التغطیۃ۔ لہذا احرام کی حالت میں کعبہ شریف کے غلاف کو اس طرح چومنا کہ جس سے چہرہ چھپ جائے یا سر چھپ جائے مکروہ ہے۔
احرام کی حالت میں پٹی باندھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ ولا باس للمرحم ان یحتجم او یفتصد اویجبر الکسر او یختتن کذا فی فتاوی قاضی خان۔
عورت احرام کی حالت میں اگر اجنبیوں سے پردہ کرنا چاہے تو اپنے چہرے کوچھپا سکتی ہے بشرطیکہ پردہ یا نقاب اس کے چہرہ کو مس نہ کرے۔ کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعۃ جلد اول ص ۶۴۵ میں ہے: و یجوز للمراۃ ان تستر و جھھا و یدیھا وھی محرمۃ اذا قصدت الستر عن الاجانب بشرط ان تسدل علی وجھھا ساترا لایمس وجھھا عندالحنفیۃ و الشافعیۃ۔
حج اکبر
سوال : حج اکبر کی کوئی فضیلت شرع میں موجود ہے یا نہیں ، یا صرف جمعہ کی فضیلت کی وجہ سے لوگ اس کو فضیلت والا اور با برکت سمجھتے ہیں ۔ و نیز ذوالحجہ کے دس دن کی کیا فضیلت ہے اور اس کے کیا احکام ہیں۔
جواب : شریعت مطہرہ میں حج اکبر کی فضیلت و عظمت ثابت ہے۔ چنانچہ حدیث صحیح میں ہے کہ افضل ترین دن عرفہ کا دن ہے اور اس دن جمعہ ہو تو وہ ستر حج سے افضل ہے۔’’ افضل الایام یوم عرفۃ اذا و افق یوم جمعۃ ، وھو افضل من سبعین حجۃ ‘‘۔( تجرید الصحاح بعلامۃالموطا)
قرآن مجید اور احادیث شریفہ سے ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی فضیلت ثابت ہے۔ قرآن مجید میں والفجر ولیالِ عشر (سورۃ الفجر ۱ ؍۲ ) سے مفسرین کرام ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن مراد لئے ہیں۔ و نیز اللہ سبحانہ تعالی جب کسی چیز کی قسم کھاتا ہے تو اس کی عظمت و تقدس معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ متذکرہ آیات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ذوالحجہ کے دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔ ان مبارک ایام کے احکام یہ ہیں کہ جو شخص صاحب نصاب ہے اس کو چاہئے کہ ذوالحجہ کا چاند دیکھ کر قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کتروائے ، اسی حالت میں رہے۔ و نیز یوم عرفہ کا روزہ مسنون ہیں۔ ایام تشریق یعنی ۹؍ ذوالحجہ کی فجر سے ۱۳؍ ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بآواز بلند ایک مرتبہ تکبیر کہنا واجب ہے۔ تین مرتبہ کہنا افضل ہے۔ و نیز ۱۰؍ ذوالحجہ کی عید کی نماز کے بعد سے احناف کے پاس ۱۲؍ ذوالحجہ کی عصر تک نصاب والے پر قربانی دینا واجب ہے۔
حج بدل
سوال : بکر ایک تاجر پیشہ ہے ‘ اسکا کاروبار کافی وسیع ہے ۔ اوربکر اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینا چاہتاہے اور بکر نے اب تک حج نہیں کیا۔ بکر کے دل میں بہت خواہش و تمنا ہے کہ حج و زیارت کی سعادت حاصل کرے ‘بکر کے پاس مال و دولت ہے ‘ کوئی ذمہ داری وغیرہ کچھ نہیں ‘صحت مند ہے‘کوئی عارضہ لاحق نہیں ‘ بکر اگر حج کیلئے جائے تو بکر کا کاروبار بڑی حد تک متاثر ہوجائیگا ۔ اس لئے بکر کی خواہش ہیکہ اس کی طرف سے کسی کو حج بدل کرایاجائے ۔کیا حج بدل کرانے سے بکر کی طرف سے حج ساقط ہوجائے گا یا نہیں ؟
جواب : شریعت مطہرہ میں عبادات کی تین نوعیتیں ہیں (۱) خالص مالی عبادت جیسے زکوٰۃ اور صدقہ فطر (۲) خالص بدنی عبادت جیسے نماز اور روزہ (۳) مالی و بدنی عبادت جیسے حج ۔ پہلی قسم کی عبادت جیسے زکوٰۃ میں اختیار و اضطرار ہر دو صورت میں دوسرے کو نائب بنانا درست ہے ۔ دوسری قسم کی عبادت مثلاً نماز و روزہ میں کسی کو نائب بنانا درست نہیں ۔ تیسری قسم کی عبادت جیسے حج میں اس وقت نائب بنانا درست ہے جبکہ آدمی سفر حج یا فریضہ حج ادا کرنے سے عاجز ہو ۔ و نیز فرض حج بدل کیلئے بھی شرط ہیکہ وہ حج بدل کرانے سے موت تک اسکو دوبارہ قدرت حاصل نہ ہو ۔ عالمگیری جلد اول ص ۲۵۷ میں ہے: و منھا استدامۃ العجز من وقت الا حجاج الی وقت الموت ھکذا فی البدائع۔ اگر کوئی شخص باوجود استطاعت کے حج نہ کرے اور کسی دوسرے کو حج بدل کرائے تو اس کی طرف سے حج ساقط نہیں ہوگا ۔ اس کو دوبارہ حج کرنا لازم ہوگا ۔
پس دریافت شدہ مسئلہ میں بکر پر حج فرض ہوچکا ہے اوربکر صاحبِ قدرت ہیں ‘بکر کا اپنی طرف سے فرض حج کیلئے کسی کو نائب بنانا اور حج بدل کرانا شرعاً درست نہیں، کیونکہ شریعت کی رو سے اگر کوئی تاجر پیشہ ہو اور تجارت کر کے زندگی بسر کرتا ہو ‘ حج کی استطاعت رکھتا ہو ‘ توشہ و سواری پر قادر ہو ‘ جا کر آنے تک آل و اولاد کا نفقہ موجود ہو اور اس کے واپسی تک تجارت کا اصل سرمایہ اس کے پاس باقی رہتا ہو تو ایسے شخص پر حج کرنا لازم ہے۔’عالمگیری ج اول ص ۳۱۸: قال بعض العلماء ان کان الرجل تاجرا یعیش بالتجارۃ فملک مالا مقدار ما لو رفع منھا الزاد والراحلۃ لذھابہ و ایابہ و نفقۃ اولادہ و عیالہ من وقت خروجہ الی وقت رجوعہ و یبقی لہ بعد رجوعہ راس التجارۃ التی کان یتجر بھا کان علیہ الحج ۔
سوار ہو کر طواف کرنا
سوال : زید کی عمر تقریباً ۵۵ سے زائد ہے ‘ زید چلنے پھرنے پر قادر ہے، لیکن مطاف میں طواف کے دوران جو ہجوم رہتا ہے اس کو دیکھ کر طبیعت پست ہوجاتی ہے اور طواف کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔ اگر زید طواف زیارت کیلئے چند لوگوں کو کرایہ دے جو زید کو پالکی میں بٹھا کر طواف کرادیں تو کیا اس سے زید کا طواف ادا ہو جائیگا یا نہیں ۔ طواف کے دوران چمڑے کے سلے ہوئے جوتے پہن سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب : پیدل طواف کرنا واجب ہے اگر کسی شخص کو کوئی عذر ہو ‘ پیدل طواف کرنے پر قادر نہ ہو تو ایسے شخص کو سوار ہو کر طواف کرنے کی اجازت ہے اور اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے سوار ہو کر طواف کرے تو اس پر دوبارہ طواف کرنا واجب ہے جب تک کہ وہ مکہ مکرمہ ہو اور اگر وہ اپنے وطن کو لوٹ جائے اور طواف نہ کرے تو اس پر دم لازم ہوگا ۔ بدائع الصنائع ج ۲ ص۳۱۱ میں ہے ’’ و من واجبات الطواف أن یطوف ماشیا لا راکباً الا من عذر حتی لو طاف راکباً من غیر عذر فعلیہ الاعادۃ مادام بمکۃ و ان عاد الی أھلہ یلزمہ الدم‘‘۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر سوار ہو کر طواف فرمایا تھا ۔ ’’عن جابر رضی اللہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم طاف راکباً لیراہ الناس فیسالوہ و یتعلموا منہ‘‘ (مسند احمد ۳؍۷۱۳) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا سبب بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار ہو کر طواف کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر سیکھ سکیں اور مسائل دریافت کرنا ہوں تو معلوم کرسکیں ۔ مطاف میں ازدحام کا خوف کوئی عذر نہیں ہے ۔لہذا آپ چونکہ پیدل طواف کرنے پر قادر ہیں اور کوئی عذر نہیں اس لئے آپ پرپیدل طواف کرنا واجب ہے ۔ چمڑے کے موزے یا نعلین پہن کر طواف کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ پاک ہوں اور پشت قدم کی ہڈی کھلی رہے عالمگیری جلد اول ص ۲۲۴ میں ہے: ’’ و لا یلبس مخطیا قمیصاً او قباء … أو خفا الا أن یقطع الخف اسفل من الکعبین کذا فی فتاوی قاضی خان و الکعب ھنا المفصل الذی فی وسط القدر عند معقد الشراک کذا فی التبیین ۔کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعلین کے ساتھ طواف فرمایا ۔ ’’ روی عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ طاف مع نعلیہ‘‘
(مسند ابو یعلی ۸۴۳)
مسجد حرام کے بالائی حصہ سے طواف کرنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حج کے موقعہ پر لوگوں کی کثرت کی وجہ سے لوگ مطاف اور مسجد حرام میں سے طواف کرتے ہیں اور بعض مسجد کے اوپری حصہ سے طواف زیارت کرتے ہیں کیا ان کا اوپر سے طواف کرنا صحیح ہے یا مجبوری میں اس کی اجازت دی گئی ہے ۔کس حد تک اس کی اجازت ہے ۔ اور اگر کوئی شخص حطیم کعبہ میں طواف کرے تو کیا اس کا طواف ہوگا یا نہیں ۔
جواب : ازروئے شریعت ‘مسجد حرام میں خانہ کعبہ کا قریب سے یا دور سے طواف کرنا درست ہے۔’بدائع الصنائع : ج ۲ ‘ ص۳۱۳ میں ہے: فیجوز الطواف فی المسجد الحرام قریبا من البیت او بعیدا عنہ۔ لہذا مسجد حرام کے بالائی حصے یا نیچے حصے سے طواف کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں لیکن اگر مسجد حرام کے باہر سے طواف کرے ‘ اس طرح کہ طواف کرنے والے اور خانہ کعبہ کے درمیان مسجد حرام کی دیواریں حائل ہوتی ہیں تو شرعاً ایسے طواف کا اعتبار نہیں ۔ کیونکہ خانہ کعبہ کے اطراف طواف کا حکم ہے ’’ ولیطوفوا بالبیت العتیق ‘‘ (الحج ؍ الایۃ ۲۹) جو مسجد حرام میںقریب یا دور سے کرنے سے حاصل ہوتا ہے ۔ مسجد حرام کے باہر سے کرنے سے طواف کاحکم ادا نہیں ہوگا ۔
حطیم کعبہ کے باہر سے طواف کرنا چاہئے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خانہ کعبہ کا حصہ قرار دیا ’’ ان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال لھا ‘ ان قومک قصرت بھم النفقۃ فقصروا البیت عن قواعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام و ان الحطیم من البیت و لولا حدثان عھدھم بالجاھلیۃ لرددتہ الی قواعد ابراہیم و لجعلت لہ بابین ‘ بابا شرقیاً و بابا غریبا ‘‘ (البخاری کتاب الحج ‘ باب فضل مکۃ) ۔یعنی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہاری قوم کے پاس پیسہ کم ہوگیا تو انھوں نے قواعد ابراہیم سے بیت اللہ کو کم کر دیا اور حطیم‘ بیت اللہ کا حصہ ہے اگر تمہاری قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو میں اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد تک دوبارہ تعمیر کر دیتا اور اس کے دو دروازے ایک مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب بنا دیتا ۔ بعض روایات سے ثابت ہے کہ بی بی عائشہ اور ایک روایت میں ایک آدمی نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کی نذر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی عائشہ اور اس شخص کو حطیم کعبہ میں نماز پڑھنے کا حکم فرمایا ۔
اس سے واضح ہیکہ حطیم کعبہ بیت اللہ شریف کاحصہ ہے اس لئے اگر کوئی شخص حطیم کعبہ میں طواف کرے تو اس پر طواف کا اعادہ ضروری ہے ۔ اور اگر دوبارہ طواف نہ کرے اور اپنے وطن لوٹ جائے تو اس پر دم لازم ہوگا کیونکہ حطیم کا حصہ بیت اللہ شریف کا چوتھائی حصہ ہے اور یہ چوتھائی حصہ کا طواف چھوٹ گیا ہے جس کی وجہ سے طواف میں نقص لازم آگیا اس کی پابجائی دوبارہ طواف سے ہوگی ۔ جب تک وہ مکہ مکرمہ میں مقیم رہے یا اس کی تلافی قربانی سے ہوگی اگر وہ اپنے وطن کو لوٹ جائے ۔ بدائع الصنائع ج ۲ ص ۳۱۴ میں ہے:والافضل أن یعید الطواف کلہ مراعاۃ للترتیب فان أعاد علی الحجر خاصۃ اجزأہ لان المتروک ھو لا غیر و قد استدرکہ و لم یعد حتی عاد الی اھلہ یجب علیہ الدم لان الحطیم ربع البیت فقد ترک من طوافہ ربعہ۔

TOPPOPULARRECENT