Friday , August 18 2017
Home / عرب دنیا / حج کے موقع پر افراتفری پھیلانے کی سازش کا ایران پر الزام

حج کے موقع پر افراتفری پھیلانے کی سازش کا ایران پر الزام

دبئی۔ 11 جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) اردن کے سابق وزیر اور ایران میں سابق سفیر ڈاکٹر بسام العموش نے تہران کی جانب سے اپنے شہریوں کو فریضہ حج کی ادائیگی سے روکے جانے کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران ایک منظم منصوبے کے تحت حج کے موقع پر افراتفری پھیلانے کی سازش کر رہا ہے ایک انٹرویو میں انہوں نے تمام عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کا متفقہ طور پر بائیکاٹ کریں تاکہ تہران کی عرب ممالک کے خلاف جاری سازشوں کا توڑ کیا جاسکے۔ ڈاکٹر العاموش کا کہنا تھا کہ ایرانی توسیع پسندی کے خلاف اردن سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ کن طوفان آپریشن نے یمن کو ایرانی جبڑوں سے چھین لیا ورنہ ایران نے یمن پر قبضے کی مکمل منصوبہ بندی کرلی تھی۔ ایران میں اردن کے سابق سفیر ڈاکٹر العاموش سے جب پوچھا گیا کہ تہران کی جانب سے اپنے شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے روکنے کے درپردہ کیا مقاصد ہوسکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کے پاس اپنے شہریوں کو حج سے روکنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حج ایک عبادت ہے اور صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ مگر ایران میں ملاؤں کی حکومت نے حج جیسے عظیم فریضے اور مقدس عبادت کو بھی اپنی سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے۔ ایرانی شہریوں کو حج سے روکنا بد ترین ظلم ہے۔ اسی ظلم سے تنگ آئے لاکھوں ایرانی شہری ملک سے باہر ہیں۔جہاں تک شہریوں کو حج سے روکنے کے مقاصد کا سوال ہے تو وہ صاف واضح ہے۔ ایران اپنے شہریوں کو نام نہاد اور من گھڑت دعووں کی بنیاد پر فریضہ حج کی ادائی سے روک کر سعودی عرب سے انتقام لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT