Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حج ہاؤز سے متصل کھلی اراضی پر محکمہ اقلیتی بہبود متنازعہ فیصلہ سے دستبردار

حج ہاؤز سے متصل کھلی اراضی پر محکمہ اقلیتی بہبود متنازعہ فیصلہ سے دستبردار

اندرون ایک گھنٹہ منظوری و منسوخی، پارکنگ الاٹمنٹ تجویز پر وقف بورڈ حکام کی مخالفت

حیدرآباد۔/16جنوری، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے آج حج ہاوز سے متصل کھلی اراضی کے بارے میں ایک متنازعہ فیصلہ کیا اور صرف چند گھنٹوں میں فیصلہ سے دستبرداری بھی اختیارکرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ حج ہاوز کی عمارت سے متصل 3,600 مربع گز کھلی اراضی کو شادی خانہ کی پارکنگ کے طور پر الاٹ کرنے گزشتہ تین ماہ سے پیروی کی جارہی تھی۔ ایک اقلیتی ادارہ کے ذمہ دار اس پیروی میں پیش پیش تھے اور آخر کار مسلسل دباؤ کے تحت سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے آج فائیل کو منظوری دیتے ہوئے لیز پر دینے کے احکامات جاری کردیئے۔ مذکورہ احکامات فنکشن ہال کے ذمہ داروں کو حوالے کرنے اندرون ایک گھنٹہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کو ہدایت دی کہ اس فیصلہ سے فوری دستبرداری اختیار کرلیں اور کھلی اراضی کو شادی خانہ کی پارکنگ کیلئے دیئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق لیز پر دینے کیلئے جو شرائط تیار کی گئی تھیں ان میں ماہانہ ایک لاکھ روپئے کرایہ اور 10ماہ کیلئے 10لاکھ روپئے قابل واپسی ڈپازٹ کی رقم ادا کرنا شامل تھا۔ پارکنگ کیلئے صرف 10ماہ کھلی اراضی کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی اور ہر سال لیز معاہدہ کی تجدید 10فیصد اضافہ کے ساتھ کرنا طئے کیا گیا تھا۔ وقف بورڈ کھلی اراضی کے باہر حد بندی کرتے ہوئے حج ہاوز کے اطراف کے علاقے کو محفوظ کردیگا اور شادی خانہ کیلئے علحدہ گیٹ فراہم کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس تجویز کی وقف بورڈ کے عہدیداروں نے یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ اس سے عمارت کا تحفظ خطرہ میں پڑ سکتا ہے اور حج ہاوز کے احاطہ میں پارکنگ کی اجازت سے غیر سماجی عناصر کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کا اندیشہ ہے جو حج ہاوز کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ ماتحت عہدیداروں کے اعتراض کے باوجود بعض افراد کے مبینہ دباؤ اور پیروی کے تحت سکریٹری نے آج پارکنگ کی اجازت کے احکامات پر دستخط کردیئے۔ سکریٹری نے بحیثیت عہدیدار مجاز وقف بورڈ یہ احکامات دیئے لیکن ایک گھنٹہ میں فیصلہ کو واپس لینے کی ہدایت دی۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ کے احاطہ میں پہلے ہی غیر مجاز سرگرمیاں عروج پر ہیں ان پر قابو پانے میں ناکام وقف بورڈ اگر کھلی اراضی کو پارکنگ کیلئے الاٹ کرتا ہے تو اس سے نہ صرف عمارت کی سیکوریٹی خطرہ میں پڑ سکتی ہے بلکہ اس طرح کی سرگرمیوں کو کھلی چھوٹ ملنے کا اندیشہ تھا۔ مذکورہ کھلی اراضی پر حج کیمپ منعقد ہوتا ہے جہاں نماز گاہ کا بھی انتظام کیا جاتا ہے ایسے میں اس حصہ کو خانگی پارکنگ کیلئے الاٹ کرنا تنازعہ کا سبب بن سکتا تھا۔ موجودہ حالات میں ہی حج ہاوز کے احاطے میں پارکنگ انتہائی تنگ ہے اور اقلیتی بہبود کے دفاتر پہنچنے والے افراد کو گاڑیوں کی پارکنگ کیلئے دشواری ہورہی ہے۔ عمارت کے دوسرے حصہ میں زیر تعمیر کامپلکس ہے جہاں پارکنگ کی کوئی گنجائش نہیں، ایسے میں کھلی اراضی کو خانگی پارکنگ کیلئے الاٹ کرنا اقلیتی دفاتر کو آنے والے افراد کیلئے مسائل میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے چند گھنٹوں میں کیوں اپنے فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرلی اس کی فوری طور پر وضاحت نہیں کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT