Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حج ہاوز ، سرکاری دفاتر کی عمارت میں تبدیل

حج ہاوز ، سرکاری دفاتر کی عمارت میں تبدیل

حج 2016 انتظامات میں مشکلات ، عازمین کے قیام کی گنجائش ختم
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جون (سیاست نیوز) حج 2016 ء کیلئے عازمین حج کے قیام کے انتظامات میں دشواریوں کا سامنا یقینی ہے کیونکہ حج ہاؤز کی عمارت سرکاری دفاتر کی عمارتوں میں تبدیل ہوچکی ہے اور وہاں عازمین حج کے قیام کی کوئی گنجائش نہیں ۔ ہر سال حج سیزن میں عازمین حج کے قیام کے مقصد سے تعمیر کی گئی یہ عمارت اب سرکاری دفاتر کا مرکز بن چکی ہے جس کے سبب جاریہ سال تلنگانہ اور آندھراپردیش حج کمیٹیاں اپنے عازمین کے قیام کے بارے میں پریشان ہیں۔ دونوں ریاستوں کی کمیٹیوں کو باہمی اشتراک کے ساتھ کام کرنا پڑے گا تاکہ عازمین حج کو دشواریوں سے بچایا جاسکے۔ تلنگانہ حج کمیٹی کے اسپیشل آفیسر پروفیسر ایس اے شکور نے آندھراپردیش حج کمیٹی کے عہدیداروں سے مشاورت کا آغاز کرتے ہوئے ہنگامی منصوبوں کی تیاری شروع کردی ہے ۔اس کے علاوہ دونوں حکومتوں کے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ 4 اگست سے ہندوستانی عازمین حج کی روانگی کا آغاز ہوگا اور دوسرے مرحلہ میں تلنگانہ اور آندھراپردیش کے عازمین روانہ ہوں گے ۔ توقع ہے کہ 12 اگست کے بعد سے دونوں ریاستوں کے عازمین کی روانگی کا آغاز ہوگا اور گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ایر انڈیا کو یہ خدمات فراہم کی گئی ہے۔ گزشتہ سال ایر انڈیا نے روانگی اور واپسی کے موقع پر موثر انتظامات کئے تھے۔ دونوں ریاستوں کے عازمین حج احرام کی حالت میں مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔

 

روزانہ دو فلائیٹ کی روانگی کے اعتبار سے حج کمیٹی کو کم سے کم 1200 عازمین کی رہائش کے انتظامات کرنے ہوں گے کیونکہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے عازمین 48 گھنٹے قبل رپورٹ کرتے ہیں۔ ان حالات میں دونوں حج کمیٹیوں نے باہم یادداشت مفاہمت کے ذریعہ عازمین کی خدمت کا فیصلہ کیا ہے ۔ آندھراپردیش کے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال نے حج ہاؤز سے متصل وسیع و عریض فنکشن ہال کو حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ تاہم ان ایام میں فنکشن ہال مکمل طور پر بک ہے۔ لہذا آندھراپردیش کے عہدیدار بھی اپنے عازمین کے قیام کے انتظامات کے بارے میں فکرمند ہیں۔ بیک وقت 1200 عازمین کے قیام و طعام کا انتظام کرنا آسان نہیں اور حج ہاؤز کی عمارت میں بمشکل 100 تا 150 عازمین کے قیام کی گنجائش ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد سے آندھراپردیش کے علحدہ دفاتر اسی عمارت میں قائم کردیئے گئے ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ جگہ کی تنگی کو دیکھتے ہوئے جو منصوبہ تیار کیا گیا ، اس کے مطابق حج ہاؤز سے متصل کھلی اراضی پر واٹر پروف ٹینٹ میں عازمین کی رہائش کا انتظام کیا جائے گا کیونکہ دوسری طرف موجود زیر تعمیر عمارت میں رہائش کے انتظام کرنا آسان نہیں ہے اور گزشتہ سال عازمین حج کو زیر تعمیر عمارت میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کھلی اراضی میں عازمین کیلئے وضو خانے اور ٹائیلٹس موجود ہیں ، لہذا اسی علاقہ میں رہائشی کیمپ قائم کیا جاسکتا ہے ۔ گزشتہ سال اس علاقہ کو عازمین کی روانگی کے مرکز کے طور پر استعمال کیا گیا تھا ۔ منصوبہ کے مطابق سابق کی طرح حج ہاؤز کے سیلر سے عازمین کو وداع کیا جائے گا اور اسی علاقہ میں مختلف محکمہ جات کے کاؤنٹرس قائم کئے جائیں گے۔ رمضان المبارک کے فوری بعد حج کیمپ کی تیاریوں کا آغاز کردیا جائے گا ۔ ٹینٹ کی تنصیب سے لیکر طعام کے انتظامات تک ہر سہولت کیلئے دونوں حج کمیٹیاں مشترکہ طور پر معاہدہ کریں گی اور اپنے اپنے عازمین کی تعداد اور ایام کے اعتبار سے رقم ادا کریں گے۔

 

قطب شاہی مسجد خیریت آباد میں
عازمین حج کا تربیتی اجتماع
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جون : ( پریس نوٹ ) : تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی کے زیر اہتمام منتخب عازمین حج کے لیے چوتھا تربیتی اجتماع اتوار 19 جون کو صبح 9-30 بجے تا 1-30 بجے دن قدیم قطب شاہی مسجد خیریت آباد میں منعقد ہوگا ۔ اسپیشل آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور صدارت کریں گے ۔ اس کیمپ میں علمائے کرام اور ماہرین فضائل و مناسک حج و عمرہ اور سفر حج سے متعلق ضروری امور بیان کریں گے ۔ احرام باندھنے کا طریقہ سمجھایا اور اس کی شرائط بیان کی جائیں گی ۔ خاتون عازمین کے لیے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT