Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حج ہاوز سے متصل کھلی اراضی پر نیا حج ہاوز تعمیر کرنے کا مطالبہ

حج ہاوز سے متصل کھلی اراضی پر نیا حج ہاوز تعمیر کرنے کا مطالبہ

کانگریس دور حکومت میں 12 کروڑ کی منظوری ، برسر اقتدار ٹی آر ایس حکومت کی خاموشی
رقم کے خرچ پر وضاحت طلب : محمد علی شبیر

حیدرآباد ۔ 16 ۔ اگست (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حج ہاؤز سے متصل کھلی اراضی پر نیا حج ہاؤز تعمیر کرے۔ کانگریس دور حکومت میں نئے حج ہاؤز کی تعمیر کیلئے 12 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے لیکن گزشتہ تین برسوں میں حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار حج ہاؤز کیلئے مناسب جگہ کے انتخاب میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ حج ہاؤز میں عازمین حج کو وداع کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ حج ہاؤز کی موجودہ عمارت تنگ دامنی کا شکوہ کر رہی ہے۔ عمارت میں مختلف اقلیتی دفاتر کی موجودگی کے باعث عازمین حج کے قیام کی گنجائش نہیں ہے، لہذا نئے حج ہاؤز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ دور دراز کے علاقوں میں اراضی کی تلاش کے بجائے حج ہاؤز سے متصل کھلی اراضی پر نئی عمارت تعمیر کرے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کانگریس دور حکومت میں جاری کردہ 12 کروڑ روپئے کے خرچ کے بارے میں وضاحت کرے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں چیف منسٹر نے حج ہاؤز ، اسلامک سنٹر اور دیگر کئی اعلانات کئے لیکن آج تک ایک بھی اعلان پر عمل آوری نہیں ہوسکی۔ حد تو یہ ہوگئی کہ چیف منسٹرنے انیس الغرباء کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا لیکن دو ماہ گزرنے کے باوجود تعمیری کاموں کا آج تک آغاز نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہر سے دور دراز علاقہ میں حج ہاؤز کی تعمیر سے نہ صرف عازمین بلکہ ان کے رشتہ داروں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ ے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نامپلی شہر کا مرکزی مقام ہے اور انٹرنیشنل ایرپورٹ کو پہنچنے کیلئے صرف 20 تا 25 منٹ درکار ہوتے ہیں۔ عازمین اور ان کے رشتہ دار جو اضلاع سے حیدرآباد پہنچتے ہیں، انہیں کھانا اور دیگر بنیادی سہولتیں نامپلی اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بآسانی دستیاب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نامپلی کے علاقہ میں غریب اور متوسط طبقات کیلئے کم قیمت پر کھانا بآسانی دستیاب ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عازمین لمحہ آخری تک کچھ نہ کچھ ضروری اشیاء کی خریدی کرتے ہیں، ایسے میں اگر حج ہاؤز شہر کے باہر ہو تو انہیں خریدی کیلئے حیدرآباد پہنچنا پڑے گا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ رشتہ داروں کو وداع کرنے کیلئے آنے والے افراد نامپلی اور اطراف کے علاقوں میں ہوٹلوں میں کم قیمت پر قیام کرسکتے ہیں جبکہ شہر کے باہری علاقہ میں کم قیمت پر ہوٹلیں دستیاب نہیں ہیں۔ محمد علی شبیر نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ حج ہاؤز کیلئے مخصوص ہمہ منزلہ عمارت تعمیر کریں جس میں 11 مہینے تک تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا جائے ۔ پولیس رکروٹمنٹ گروپ امتحانات اور سیول سرویسز کیلئے اقلیتی طلبہ کو کوچنگ فراہم کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر کی عصری ٹریننگ کا اہتمام اس عمارت میں کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح نئی عمارت حج سیزن میں عازمین کے قیام اور باقی ایام میں تعلیمی سرگرمیوں کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے حج ہاؤز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس کی فوری تکمیل کا مطالبہ کیا تاکہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوسکے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT