Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حج ہاوز سے متصل ہمہ منزلہ کامپلکس کی تعمیر کیلئے بلدیہ سے پلان کی منظوری

حج ہاوز سے متصل ہمہ منزلہ کامپلکس کی تعمیر کیلئے بلدیہ سے پلان کی منظوری

خانگی اداروں کو لیز پر دینے کی کوشش کامیاب ، عالمی ٹنڈرس طلب کئے جانے کا امکان
حیدرآباد۔ /26فبروری ، ( سیاست نیوز) حج ہاوز سے متصل زیر تعمیر ہمہ منزلہ کامپلکس کی تکمیل اور اسے لیز پر دیئے جانے کی کوششوں کو آج اس وقت کامیابی حاصل ہوئی جب گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے عمارت کے پلان کو منظوری دیتے ہوئے تعمیر کیلئے باقاعدہ اجازت نامہ جاری کردیا ہے۔ اس طرح گزشتہ 9 ماہ سے جاری کوششیں ثمر آور ثابت ہوئیں اور 4کروڑ 60لاکھ 50ہزار 185 روپئے بطور میونسپل فیس سے استثنیٰ کے ساتھ عمارت کے پلان کو منظوری حاصل ہوئی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود اب اس زیر تکمیل عمارت کو مکمل کرنے اور اسے خانگی اداروں کو لیز پر دینے کے اقدامات کرے گا۔ اس سلسلہ میں فیصلہ کیا گیا کہ عالمی ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے تاکہ سرکردہ ادارے ٹنڈر میں شریک ہوسکیں۔ واضح رہے کہ زیر تکمیل عمارت کی بلڈنگ فیس کی معافی کیلئے اسوقت کے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جلال الدین اکبر نے کافی مساعی کی تھی اور ان کی مسلسل نمائندگی اور چیف منسٹر تک اس مسئلہ کو پیش کرنے کے بعد حکومت نے 20مئی 2015 کو جی او ایم ایس 77 جاری کرتے ہوئے 4کروڑ 60لاکھ روپئے کی بلڈنگ فیس سے استثنیٰ دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے اس بھاری رقم کی معافی کے باوجود گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے پلان کی منظوری میں تساہل سے کام لیا اور مسلسل کوششوں کے بعد جی ایچ ایم سی کمشنر نے آخر کار پلان کو منظوری دیتے ہوئے وقف بورڈ کو اس کی اطلاع دی۔9 ماہ کے بعد حاصل ہوئی اس اہم کامیابی میں جلال الدین اکبر کی مساعی کا اہم رول ہے۔ انہوں نے حکومت کو تجویز پیش کی تھی کہ زیر تکمیل عمارت کو مکمل کرتے ہوئے اسے خانگی اداروں کو لیز پر دیا جائے تاکہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوسکے۔ حکومت نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ 4,800 مربع گز اراضی پر محیط ہمہ منزلہ عمارت میں گراؤنڈ فلور کے علاوہ 7 فلور ہیں۔ شہر کے مرکزی مقام پر واقع اس عمارت کو لیز پر دینے سے وقف بورڈ کی  آمدنی میں قابل لحاظ اضافہ ہوگا۔ اس کامپلکس کی تعمیر کے سلسلہ میں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے اوقافی جائیدادوں کی آمدنی کو استعمال کیا گیا تھا لہذا آندھرا پردیش وقف بورڈ استعمال کردہ رقم کی واپسی یا پھر عمارت میں حصہ داری کا مطالبہ کررہا ہے۔ بجٹ کی کمی کے باعث طویل عرصہ سے عمارت زیر التواء تھی اور پلان کی منظوری کیلئے 4کروڑ 60لاکھ روپئے کی بھاری رقم کی ادائیگی سے قاصر وقف بورڈ نے عمارت کو یوں ہی چھوڑ دیا تھا۔ اب جبکہ حکومت نے بلڈنگ فیس معاف کردی ہے اور مجلس بلدیہ نے پلان کو منظوری دے دی توقع ہے کہ جلد ہی عمارت کی تکمیل کے کام کا آغاز ہوگا۔ جی ایچ ایم سی کے بلڈنگ پرمٹ لیٹر میں 23اگسٹ 2017 سے قبل تعمیر کے آغاز اور 23فبروری 2022 تک تکمیل کی شرط رکھی گئی ہے۔ حج ہاوز کی عمارت کی دوسری جانب کھلی اراضی پر کانگریس حکومت نے ایک اور حج ہاوز کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تھا اور پہلی قسط کی رقم بھی جاری کردی تھی لیکن ابھی تک موجودہ حکومت نے حج ہاوز کی تعمیر کے مقام کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT