Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حج ہاوز نامپلی کی عمارت کو تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کی تیاریاں

حج ہاوز نامپلی کی عمارت کو تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کی تیاریاں

عہدیدار مجاز وقف بورڈ خواب غفلت میں ، بورڈ کے ملازمین میں تشویش
حیدرآباد۔/10جون، ( سیاست نیوز) حج ہاوز نامپلی کی عمارت کو بتدریج تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے اور عہدیدار مجاز وقف بورڈ کو اطلاع اور مرضی کے بغیر بعض تجارتی سرگرمیوں کی اجازت سے وقف بورڈ کے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ حج ہاوز کی عمارت دراصل وقف اراضی پر تعمیر کی گئی جس کا منشائے وقف تعلیمی امداد فراہم کرنا ہے۔ وقف بورڈ اس منشائے وقف کی کس حد تک تکمیل کررہا ہے اس کا کسی کو علم نہیں لیکن عمارت کو مکمل طور پر سرکاری اور خانگی دفاتر کے مرکز میں تبدیل کردیا گیا۔ افسوسناک پہلو تو یہ ہے کہ رزاق منزل کی جس عمارت پر حج ہاوز تعمیر ہوا ہے اس کے واقف کی مزار عمارت کے ایک حصہ میں موجود ہے لیکن وقف بورڈ کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ ان کی مزار پر چادر گل یا پھر فاتحہ خوانی کا اہتمام کرے۔ برخلاف اس کے منشائے وقف کی خلاف ورزی میں وقف بورڈ پیش پیش ہے۔ وقف بورڈ کے داخلی اُمور میں وقف مافیا کی بڑھتی مداخلت اور سرکاری اسکیمات کے بروکرس کے اثر و رسوخ نے وقف بورڈ کے حکام کو تجارتی سرگرمیوں کی اجازت پر مجبور کردیا۔ گذشتہ 5 برسوں تک غیر قانونی طور پر چلنے والے زیراکس اور آن لائن سنٹر کو سکریٹری اقلیتی بہبود نے برخاست کردیا تھا جس کے بعد وہاں سرکاری اسکیمات کے بروکرس کا داخلہ کم ہوگیا تھا لیکن سیاسی دباؤ اور پھر وقف بورڈ کے اندرونی افراد کی ملی بھگت کے ذریعہ دوبارہ اس طرح کی سرگرمیوں کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا اور اسے ایک آن لائن سنٹر کی شکل دی جارہی ہے تاکہ دوبارہ غیر مجاز سرگرمیاں شروع ہوسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے حکام نے عہدیدار مجاز کی منظوری حاصل کئے بغیر ہی اوپن آکشن کے ذریعہ دو افراد کو عمارت کے سیلر میں جگہ کی فراہمی سے اتفاق کرلیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس میں ایک شخص وہ ہے جس کے خلاف رینٹ ریویو کمیٹی نے غیر مجاز طور پر کئی برسوں تک سنٹر قائم رکھنے کی پاداش میں ایک لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا تھا لیکن اس شخص نے آج تک جرمانہ کی رقم وقف بورڈ کو ادا نہیں کی۔ اس کے باوجود قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے اوپن آکشن میں مدعو کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیلر میں کمرشیل سرگرمیوں کے آغاز کی اجازت کے فیصلہ سے اور بھی کئی دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد وقف بورڈ سے رجوع ہوئے تاکہ انہیں بھی جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے کاروبار کے اسٹال قائم کرسکیں۔ اس طرح بہت جلد حج ہاوز کا سیلر تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا۔ سیلر میں پہلے ہی غیر مجاز سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں ایسے میں اس طرح کے سنٹرس کے قیام سے ان سرگرمیوں میں مزید اضافہ کا اندیشہ ہے۔ حج ہاوز کی عمارت میں سرکاری اسکیمات کے فوائد کا لالچ دے کر برورکرس ہزاروں روپئے وصول کررہے ہیں۔ اس بات کی بھی شکایات ملی تھیں کہ سابق میں غیر قانونی طور پر چلنے والے آن لائن و زیراکس سنٹر کے افراد شادی مبارک اور دیگر اسکیمات کے اسکام میں ملوث ہیں اور اینٹی کرپشن بیورو اس معاملہ کی تحقیقات کررہی ہے۔ اسی دوران عہدیدار مجاز عمر جلیل نے ان سے اجازت کے بغیر تجارتی سرگرمیوں کے آغاز پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس سلسلہ میں وقف بورڈ سے جواب طلب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حج ہاوز کی عمارت میں اس طرح کی کسی سرگرمیوں کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی کیونکہ ان کی آڑ میں غیر قانونی اور غیر مجاز سرگرمیاں پروان چڑھنے کا خطرہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے مختلف گوشوں سے دباؤ کے سبب سیلر میں تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کی اجازت کا فیصلہ کیا حالانکہ گذشتہ کئی ماہ سے کوئی سنٹر موجود نہیں اور کسی نے قیام کا مطالبہ تک نہیں کیا۔ مختلف اسکیمات کیلئے حج ہاوز پہنچنے والے افراد اپنے ساتھ تمام ضروری دستاویزات لارہے ہیں لہذا مزید علحدہ کسی سنٹر کی کوئی چنداں ضرورت نہیں۔

TOPPOPULARRECENT