Thursday , August 17 2017
Home / عرب دنیا / حج 2016ء : جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے اوقات مقرر

حج 2016ء : جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے اوقات مقرر

نماز پنجگانہ سے ایک گھنٹہ قبل اور ایک گھنٹہ بعد تک طواف کعبہ کی بھی اجازت نہیں ہوگی
ریاض۔ 24 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں دوران حج تمام عازمین کو جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے اہم رکن کی بھی ادائیگی کرنا لازم ہوتا ہے تاہم گزشتہ سال اس رکن کی ادائیگی کے دوران بھگدڑ میں 2,300 عازمین جاں بحق ہوگئے تھے جس کے بعد سعودی حکومت نہیں چاہتی کہ ایسے کسی حادثہ کا اعادہ ہو۔ روزنامہ ’’سعودی گزٹ‘‘ اور ’’عرب نیوز‘‘ اخبار کے مطابق حکام نے اب جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے اہم رکن کا دورانیہ 12 گھنٹے کم کردیا ہے، جبکہ 11 ستمبر سے منٰی میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے سہ روزہ رکن کا آغاز ہوجائے گا البتہ جاریہ سال صبح 6 بجے تا 10:30 بجے دن (پہلے دن)، دوپہر 2 بجے تا شام 6 بجے (دوسرے دن) اور 10:30 بجے دن تا دوپہر 2 بجے (تیسرے دن) کنکریاں مارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ’’سعودی گزٹ‘‘ نے اس سلسلے میں متعلقہ وزارت کے انڈر سیکریٹری حسین الشریف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے عازمین کیلئے کنکریاں مارنے کا عمل آسان تر ہوجائے گا اور زائد بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے بھگدڑ کا اندیشہ بھی نہیں ہوگا، البتہ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کہ اوقات متعین کرنے سے آخر بھیڑ بھاڑ کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ حج بیت اللہ کے دوران جب بھی کوئی بدترین اور افسوسناک حادثہ ہوا ہے تو وہ ہمیشہ بھگدڑ کا واقعہ ہوتا ہے۔ پانچ منزلہ جمرات پل دور سے دیکھنے میں ایسا لگتا ہے جیسے کوئی طویل و عریض پارکنگ گیریج ہو۔

یہیں پر شیطان کو کنکریاں مارنے کا رکن مکمل کیا جاتا ہے جس کی تعمیر میں ایک بلین امریکی ڈالرس کے مصارف ہوئے۔ یہ علاقہ تقریباً ایک کیلومیٹر طویل ہے اور تین لاکھ عازمین کو کنکریاں مارنے کا اہم رکن انجام دینے میں ایک گھنٹہ صرف ہوتا ہے۔ عازمین نے ہمیشہ بھگدڑ کے لئے پولیس کے ناقص انتظامات اور شدید گرمی کو موردالزام ٹھہرایا ہے کیونکہ پولیس اہم موقع پر سڑکوں کو بند کردیتی ہے جس کے بعد انسانی سروں کے سیلاب کو آگے بڑھنے میں جب دشواریاں پیدا ہوتی ہیں تو بھگدڑ مچ جاتی ہے حالانکہ گزشتہ سال کے حادثہ کی فوری طور پر تحقیقات کا ولیعہد شہزادہ محمد بن نائف نے حکم صادر کردیا تھا تاہم تحقیقات کے نتائج ہنوز نامعلوم ہیں۔ بہرحال جاریہ سال متعلقہ حکام نے شیطان کو کنکریاں مارنے کے اوقات مقرر کردیئے ہیں۔ گزشتہ سال 24 ستمبر کو رونما ہوئے واقعہ میں 2,300 عازمین جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ سعودی عرب کی جانب سے جاں بحق ہوجانے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 769 بتائی گئی تھی۔ جمرات کے علاوہ تحدیدات کا ایک اور معاملہ بھی سامنے آیا ہے کہ مسجد نبویؐ میں پنجگانہ نماز کے ایک گھنٹہ قبل اور ایک گھنٹہ بعد تک طواف کعبہ کی اجازت نہیں ہوگی۔ جاریہ سال مناسک حج کا آغاز 9 ستمبر سے ہوگا جبکہ اقطاع عالم سے عازمین کی کثیر تعداد ابھی سے سعودی عرب پہنچ چکی ہے۔ فریضہ ٔ حج اسلام کے پانچ اہم ارکان میں سے ایک ہے اور ہر مسلمان صاحب استطاعت پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ اسے ادا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT