Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / حج 2017 ء کے انتظامات مکمل حجاج کرام کی خدمت ہمارا اولین فرض

حج 2017 ء کے انتظامات مکمل حجاج کرام کی خدمت ہمارا اولین فرض

قونصل جنرل ہند جدہ محمد نور رحمن شیخ کا عارف قریشی کو خصوصی انٹرویو

عارف قریشی
17 جولائی کو میں نے قونصل جنرل ہند جدہ برائے سعودی عرب محمد نور رحمن شیخ کو فون کیا اور ان سے حج 2017 ء کے انتظامات کے سلسلہ میں انٹرویو کیلئے وقت مانگا ۔ انہوں نے کہا کہ آج میں صبح سے مکہ مکرمہ میں ہوں اور شائد رات تک مکہ مکرمہ میں ہی رہوں گا ، اس لئے آپ کل 10.30 بجے قونصلیٹ آفس انٹرویو کیلئے آجائے ۔ میں 18 جولائی کو وقت پر قونصلیٹ ان کے آفس پہونچ گیا اور پھر وقت ضائع کئے بناء پہلا سوال کیا۔
سوال : امسال ہندوستان سے کتنے حجاج کرام حج کی سعادت حاصل کرنے ارض مقدس آرہے ہیں اور ان کے رہائش کے انتظامات کہاں تک ہوئے ہیں ؟
جواب : قونصل جنرل محمد نور رحمن شیخ نے کہا کہ جملہ ایک لاکھ 70 ہزار ہندوستانی عازمین فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے ارض مقدس آئیں گے ۔ ایک لاکھ 25 ہزار حجاج کرام مرکزی حج کمیٹی کے ذریعہ اور 45 ہزار حاجی پرائیویٹ ٹور آ پریٹرز کے ذریعہ آئیں گے ۔ قونصل جنرل نے مزید کہا کہ مکہ مکرمہ سنٹرل حج کمیٹی کے ذریعہ آنے والے حجاج کرام کیلئے دو قسم کی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے ۔ ایک عزیزیہ کے محلے میں کیا گیا ہے اور دوسرا حرم شریف سے قریب کی عمارتوں میں کیا گیا ہے، جس کو گرین زمرہ کہتے ہیں۔ آج تک کی تاریخ میں گرین زمرہ کی عمارتوں میں 13,500 حجاج کرام کے رہائش کا انتظام کیا گیا ہے ۔ باقی کے حجاج کرام عزیزیہ محلے کی عمارتوں میں رہائش کریں گے۔
سوال : حجاج کرام کے طعام کا انتظام کون کر رہے ہیں؟
جواب : قونصل جنرل نے کہا کہ گرین زمرہ کی عمارتوں میں کچن نہیں ہے اس لئے حجاج کرام کو کھانا پکانے کی سہولت نہیں ہے ، ان کو ہوٹل سے کھانے کا انتظام کرنا پڑے گا۔ عزیزیہ کی عمارتوں میں کچن کا انتظام ہے جو حاجی اپنا کھانا خود بنانا چاہتے ہیں وہ بناسکتے ہیں۔
سوال : مدینہ منورہ میں حجاج کرام کے رہائش کے انتظامات کہاں تک پہونچے؟
جواب : مدینہ منورہ میں حجاج کرام کیلئے مرکزیہ کے محلے میں رہائش کے انتظامات مکمل ہوچکے ہیں، اگر کوئی حاجی مرکزیہ کے باہر رہائش اختیار کرے گا تو اس کو پیسے واپس کردیئے جائیں گے ۔
سوال : اگر کسی حاجی کو کسی قسم کی شکایت کرنی ہو تو وہ کس طرح اپنی تکلیف یا شکایت آپ تک پہنچا سکتا ہے ؟
جواب : عازمین کو اپنی تکلیف یا کوئی شکایت درج کروانے کیلئے ہم نے پانچ طریقے بنائے ہیں ۔ (1) موبائیل انفارمیشن سسٹم کے ذریعہ شکایت درج کرواسکتے ہیں۔ (2) ہر بلڈنگ میں رجسٹر ہوگا۔ حاجی اس رجسٹر میں اپنی شکایت لکھ سکتے ہیں۔ (3) بلڈنگ کے (یارس) چوکیدار کو بھی اپنی شکایت بتاسکتے ہیں۔ (4) خادم الحجاج کو اپنی شکایت بتاسکتے ہیں۔ ایک خادم الحجاج کے زیر نگرانی 200 حجاج ہوتے ہیں اور خادم الحجاج کا اولین فرض ہے کہ وہ حجاج کرام کی شکایت کو نوٹ کرے اور فوری حجاج کرام کو راحت پہنچائے۔ (5) برانچ میں بھی شکایت درج کرواسکتے ہیں۔
سوال : ہندوستان سے عازمین حج کی فلائیٹ کب اور کس ایرپورٹ پر آرہی ہے؟
جواب : 24 جولائی کو پہلی فلائیٹ 8.30am کو مدینہ منورہ کے ایرپورٹ پر آئے گی اور یہ سلسلہ 8 اگست تک جاری رہے گا۔ مدینہ منورہ کے ایرپورٹ پر 62-175 عازمین حج اُتریں گے اور 8 اگست سے 26 اگست تک 62-825 عازمین کرام جدہ کے ایرپورٹ پر اُتریں گے۔
سوال : عازمین حج کیلئے آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟
جواب : جو عازمین کرام فریضہ حج کی سعادت حاصل کرنے کیلئے ارض مقدس آرہے ہیں ، ان سے گزارش ہے کہ وہ سفر حج سے قبل مناسک حج و آداب زیارت مدینہ منورہ کے متعلق اچھی طرح معلومات حاصل کر کے آئیں تاکہ ان کو مناسک حج کی ادائیگی میں سہولت ہو اور مدینہ منورہ میں زیارت روضتہ النبی صلی الہ علیہ وسلم کے موقع پر آسانی ہو۔ قونصل جنرل نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں جو اشیاء ممنوع ہیں ، اس کو ہرگز اپنے ساتھ نہ لائیں اور کسی کا دیا ہوا گفٹ یا پارسل بھی اپنے ساتھ ہرگز نہ لائیں۔ قونصل جنرل محمد نور رحمان شیخ نے مزید کہا کہ میں اور میرے قونصلیٹ کا اسٹاف عازمین حج کو بہتر سے بہتر طریقے سے خدمات انجام دینے اور ہرممکن آرام و سہولت فراہم کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے۔
سوال : خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے سعودی عرب میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کو 90 دن کی مہلت دی گئی تھی ، اس میں ایک مہینہ کی اضافہ بھی کردی گئی ۔ ان دنوں میں کتنے ہندوستانی آپ کے قونصلیٹ کے ذریعہ ہندوستان واپس ہوچکے ہیں؟
جواب : ہماری انڈین قونصلیٹ جنرل آفس جدہ اپنے غیر قانونی مقیم تارکین وطن کو اپنے وطن جانے کیلئے (اوٹ پاس) جاری کرتی ہے۔ آج تک کی تاریخ میں ہم نے 6,600 اوٹ پاس جاری کئے ، ریاض انڈین ایمبسی کی جانب سے 25 ہزار سے زیادہ اوٹ پاس جاری کئے گئے۔
سوال : نجران میں آگ کے حادثہ میں کتنے ہندوستانی ہلاک ہوئے ؟
جواب : گیارہ ہندوستانی ہلاک ہوئے ۔ 5 یو پی ، 3 کیرالا ، ایک بہار ، ایک پنجاب ، ایک ٹاملناڈو ۔ ان کے علاوہ 5 ہندوستانی زخمی ہوئے ہیں جو زیر علاج ہیں۔
سوال : کیا ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کے خاندان کو کفیل کی جانب سے معاوضہ دیا جارہا ہے ؟
جواب : ہاں ، ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کو کفیل کی جانب سے معاوضہ دلوایا جائے ۔ اس سلسلے میں نجران کے گورنر شہزادہ جلوی بن عبدالعزیز سے میری فون پر بات ہوئی ہے ۔ انہوں نے ہم کو ہر طرح سے مدد کرنے کا یقین دلایا ہے۔
سوال : ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کی لاشیں کیا ہندوستان ان کے گھر بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے ؟
جواب : ہاں ، ہم پوری کوشش کر رہے ہیں، ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کی لاشیں ان کے گھر ہندوستان بھیجی جائے ۔ اس سلسلے میں ہم کارروائی کا آغاز کرچکے ہیں۔ جیسے ہی قانونی کارروائی پوری ہوجائے ہم ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کی لاشیں ہندوستان میں ان کے گھر بھیج دیں گے۔

TOPPOPULARRECENT