Thursday , June 29 2017
Home / مضامین / حج 2018 ء کے انتظامات کیلئے ہندوستانی حج کمیٹی کی جدہ آمد انڈین کمیونٹی سے ملاقات اور پریس کانفرنس سے خطاب

حج 2018 ء کے انتظامات کیلئے ہندوستانی حج کمیٹی کی جدہ آمد انڈین کمیونٹی سے ملاقات اور پریس کانفرنس سے خطاب

عارف قریشی
ہندوستانی حکومت کی جانب سے حج 2018 ء کے انتظامات کیلئے چار رکنی اعلیٰ سطح حج کمیٹی سابق قونصل جنرل جدہ جناب افضل امان اللہ کے زیر قیادت جدہ پہنچی۔ اس کمیٹی کے کنوینر جناب افضل امان اللہ ہیں، ان کے ہمراہ سابق جسٹس ایس ایس پارکر سابق مرکزی حج کمیٹی کے چیرمین قیصر شمیم ، جے عالم جوائنٹ سکریٹری منسٹری آف میناریٹی افیر گورنمنٹ آف انڈیا شامل ہیں۔
17 اپریل کو انڈین قونصلیٹ جنرل آفس جدہ کے پریس روم میں افضل امان اللہ نے انڈین کمیونٹی کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حج 2018 ء کے انتظامات کیلئے ہماری انڈین حج کمیٹی جدہ آئی ہوئی ہے اور ہم جدہ میں مقیم ہندوستانیوں کے نمائندوں سے آئندہ سال حج 2018 ء کے انتظامات کیلئے آپ تمام کی رائے اور مشورے حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ کس طرح کم سے کم خرچ پر اور زیادہ سے زیادہ آرام اور سہولت کے ساتھ آئندہ سال حج کے انتظامات کئے جاسکتے ہیں۔
انڈین کمیونٹی کے نمائندوں نے کہا کہ حج کے ایام میں قربانی کے کوپن (اسلامک ڈیولپمنٹ بینک) IDP سے دیئے جاتے ہیں مگر بعض دفع ان کوپن کو حاصل کرنے کیلئے کچھ پرابلم ہوتی ہے ، کیوں نہ ہندوستان میں ہی حج کمیٹی ہر حاجی سے قربانی کی رقم حاصل کرلے اور حج کے ایام میں حاجیوں کی موجودگی میں قربانی دی جا ئے ۔
کمیونٹی کے کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ میں حاجیوں کیلئے رہائش کے انتظامات پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ مکہ مکرمہ میں عزیزیہ کے محلے سے حرم شریف آنے اورجانے کیلئے کافی وقت ہوتا ہے ۔ اس لئے بہتر ہے کہ حرم شریف کے قریب حجاج کرام کو مستقل رہائش کا انتظام کیا جائے ۔ بعض کمیونٹی کے نمائندوں کا کہنا یہ بھی تھا کہ ہندوستانی حجاج کرام جس اسٹیٹ سے حج کیلئے آتے ہیں، ان کو مکہ مکرمہ میں ایک ہی بلڈنگ میں ایک ہی اسٹیٹ کے حاجیوں کے ساتھ رہائش دی جائے تاکہ ان کی اپنی زبان میں بات چیت کرنے اور کھانے پینے کی سہولت ہو اور جب حج کے بعد واپسی ہو تو ان حجاج کرام کا سامان ایک ہی وقت میں ایک ہی ٹرک میں رکھ کر ایرپورٹ بھیجا جائے اور ایک ہی فلائیٹ میں ان کا سامان رکھا جائے تاکہ ہندوستان پہنچنے پر ان کو بیاگیج کیلئے کوئی پرابلم نہ ہو۔ ان نمائندوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک اسٹیٹ کے حجاج کرام کو ایک ہی بلڈنگ میں رہائش دینے سے یہ بھی فائدہ ہے کہ وہ آرام اور سکون سے عبادت کرسکیں گے اور ایک دوسرے سے دینی معلومات بھی اپنی زبان میں حاصل کرسکیں گے ۔
راقم نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ نے 2012 ء میں ایک حکمنامہ جاری کیا تھا کہ سبسیڈی کو دس سال میں آہستہ آہستہ ختم کیا جائے مگر حکومت ابھی سے سبسیڈی ختم کرنے کی کوشش کیوں کر رہی ہے ۔
افضل امان اللہ کنوینر انڈین حج کمیٹی نے کہا کہ سبسیڈی آہستہ آہستہ ہی ختم کی جائے گی ۔ 2020 ء تک مکمل طورپر سبسیڈی ختم کردی جائے گی ۔ جدہ آنے کا مقصد ہمارا یہ ہے کہ کسی طرح 2018 ء کے حج کیلئے کم سے کم خرچہ پر ہندوستانی حج کرام کو حج کروایا جائے۔ راقم الحروف کے دوسرے سوال کے جواب میں افضل امان اللہ نے کہا کہ مستقبل میں ہندوستانی حجاج کرام کو بحری جہاز سے بھیجنے کا پلان بنایا جا رہا ہے کیونکہ بحری جہاز کا خرچہ کم ہوتا ہے مگر ابھی تک حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں مکمل منظوری نہیں ملی ہے ۔ افضل امان اللہ نے کہا کہ آپ حضرات اپنے تجاویز تحریری طور پر ہمیں ارسال کریں ہم آپ کی تجاویز کو اپنی رپورٹ میں شامل کریں گے ۔
18 اپریل کو انڈین قونصلیٹ جنرل آفس جدہ کے پریس روم میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی جس میں سفیر ہند ریاض احمد جاوید، قونصل جنرل ہند جدہ محمد نور الرحمن شیخ، قونصل حج و ڈپٹی قونصل جنرل جدہ محمد شاہد عالم ، چار رکنی اعلیٰ سطح انڈین حج کمیٹی کے کنوینر افضل امان اللہ سابق جسٹس ایس ایس پارکر، سابق مرکزی حج کمیٹی کے چیرمین قیصر شمیم اور جے عالم جوائنٹ سکریٹری منسٹری آف میناریٹی افیر گورنمنٹ آف انڈیا موجود تھے۔ انڈین حج کمیٹی کے کنوینر افضل امان اللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ ہماری انڈین حج کمیٹی نے سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیداروں سے حج 2018 ء کے انتظامات کے سلسلے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ہمارے حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں کم سے کم خرچ پر رہائش کے لئے بھی بات چیت کی گئی ہے۔
افضل امان اللہ نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ ہندوستانی حکومت نے حج 2018 ء کے لئے نئی پالیسی بنانے کی تیاری شروع کردی ہے اور یہ پالیسی پانچ سال کے لئے ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حج کمیٹی نے زیادہ توجہ حج اخراجات میں کمی کیلئے کی ہے تاکہ ہندوستانی حجاج کرام کی حج سبسیڈی ختم ہونے کے بعد ان پر زیادہ اخراجات کا بارنہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حج 2018 ء کی نئی پالیسی میں پرائیوٹ ٹور آپریٹرز کی خدمات کو بھی شامل کیا گیا ہے اور ان کو حجاج کرام کیلئے بہترین خدمات کیلئے پابند کیا جائیگا۔
افضل امان اللہ نے مزید کہا کہ امسال ہندوستان سے ایک لاکھ 70 ہزار حجاج کرام حج کا مقدس فریضہ ادا کرنے ارض مقدس آئیں گے ۔ ایک لاکھ 25 ہزار مرکزی حج کمیٹی سے اور 45 ہزار پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے ذریعہ آئیں گے۔
عارف قریشی نے افضل امان اللہ کو بتایا کہ ہمارے حجاج کرام مکہ مکرمہ میں عزیزیہ کے محلے کی عمارتوں میں قیام کرتے ہیں ان کو کھانا پکانے کی زحمت سے بچایا جائے کیونکہ خواتین کو اپنا وقت عبادت میں گزارنا چاہئے نہ کہ کھانا پکانے میں مصروف رہنا چاہئے۔
افضل امان اللہ نے کہاکہ آپ کا خیال بہت اچھا ہے اور میرا بھی یہی خیال ہے کہ سارے حجاج کرام اپنا وقت زیادہ سے ز یادہ عبادت میں گزاریں ۔ مجھے امید ہے کہ مرکزی حج کمیٹی اس کا کوئی حل تلاش کرے گی تا کہ حجاج کرام کو زیادہ سے زیادہ آرام و سکون سے عبادت کا موقع فراہم ہوسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہند کی جانب سے حجاج کرام کو بہتر سے بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ ہمارے حجاج کرام آرام و سکون سے فریضہ حج ادا کرسکیں۔
افضل امان اللہ کنوینر ہندوستانی حج کمیٹی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی کمیٹی انڈیا پہنچ کر اپنی رپورٹ حکومت کو دے گی اور ہم کو قوی  امید ہے کہ انشاء اللہ ہماری رپورٹ پر حج 2018 ء کے لئے نئی پالیسی کا اعلان ہوگا جوپانچ سال کیلئے ہوگی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT