Monday , August 21 2017

حج

کے این واصف
موسم حج کی آمد آمد ہے۔ سال 1437ھ کے حج کی تیاریوں کی نوکِ پلک سنواری جارہی ہیں۔ ادھر دنیا کے کونے کونے میں عازمین حج بھی مقامات مقدسہ کو پہنچنے کیلئے پر تول رہے ہوں گے۔ یہ عازمین جب یہاں پہنچیں گے تو حج انتظامات کو گذشتہ سے بہتر پائیں گے۔ حج انتظامات کو بہتر سے بہتر ترین بنانے کیلئے وزارت حج مملکت سعودی عرب کے تحت ایک خصوصی ادارہ ہے جو دوران حج انتظامات میں پیش آئیں کوتاہیوں، کمیوں اور حجاج کرام کی شکایات و تجاویز کو نوٹ کرکے آنے والے موسم حج کے انتظامات کو قطعیت دیتا ہے۔ اس سلسلہ میں دران سال حج انتظامات پر سمینارز، ورکشاپس اور کمپوزیم وغیرہ کا انعقاد بھی عمل میں لایا جاتا ہے۔ جس میں مختلف شعبہ جات کے ماہرین اپنی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل حج انتظامات پر مامور اداروں کے اشتراک سے ایک حج ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا تھا جس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر مکہ مکرمہ شہزاد خالد الفیصل نے واضح کیا کہ مکہ مکرمہ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے شعائر مقدسہ کا ترقیاتی منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ اس کے تحت 40 لاکھ حاجیوں کے قیام کی گنجائش پیدا ہوجائے گی۔ اعلیٰ قیادت سے منصوبے کی منظوری ہوتے ہی عملدرآمد شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبہ کے تحت تجویز کیا گیا ہیکہ منیٰ میں خیموں کا نظام جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ طہارت خانے کثیر تعداد میں بنائے جائیں گے۔

ایرکنڈیشنڈ راستے قائم کئے جائیں گے۔ عرفات اور مزدلفہ کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ شہزادہ خالدالفیصل نے بتایا کہ سعودی حکومت نے ایک تو وزارت حج قائم کر رکھی ہے، دوسرے اعلیٰ حج کمیٹی اور تیسرے مرکزی حج کمیٹی تشکیل دیئے ہوئے ہے۔ سعودی حکومت کی تمام وزارتیں حج خدمات کو اپنی ترجیحات میں شامل کئے ہوئے ہیں۔ خالد الفیصل نے اطمینان دلایا کہ شوائرمقدسہ کا ترقیاتی منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر نافذ کیا جائے گا۔ اس پر عمل درآمد کے سلسلہ میں اخراجات کا خیال نہیں کیا جائے گا۔ جتنا بھی خرچ ہوگا کیا جائے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ حج موسم میں غلطیاں مختلف اداروں کی من مانی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہیکہ تمام حج ادارے ایک دوسرے سے تال میل پیدا کرکے ٹیم ورک کے طور پر کام کریں۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ اعلیٰ قیادت کی ہدایت کے مطابق حج موسم ختم ہوتے ہی ہم انتظامات کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حج ورکشاپس میں ایسی سفارشات منظور کی جائیں جن کے تحت حج انتظامات ایک سائبان تلے انجام دیئے  جائیں۔
حج انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے سعودی حکومت کوئی دقیقہ فراگزاشت نہیں چھوڑتی مگر حج انتظامات کی کامیابی سے عمل آوری صرف اور صرف حجاج کرام کے تعاون پر منحصر کرتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی ملک سے آنے والے حجاج کی تربیت پر زور دیا جانا چاہئے۔ حج کیلئے منعقد تربیتی پروگرامس میں عام طور سے مناسک حج پر ہی توجہ دی جاتی ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہیکہ تربیت میں سفر کے دوران کن باتوں کا خیال رکھا جائے، خیموں میں قیام کے دوران اپنے اطراف کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے، کھانے پینے کی اشیاء کو جابجا نہ پھینکنے، باتھ رومس کو استعمال کرنے، پانی ضائع نہ کرنے، ایک مقام سے دوسرے مقام مناسک کی ادائیگی کیلئے جاتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور سب سے اہم رمی جمرات کو جاتے ہوئے انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کی جانی چاہئے۔

حرم مکی کی گنجائش میں اضافہ کرنے، حجاج کیلئے مختلف سطح کی سہولتوں میں اضافہ کرنا تو مسلسل جاری رہتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ مملکت کے علماء اور خطیب حرمین شریفین اپنے تقاریر اور خطبات میں عازمین سے کہتے رہتے ہیں کہ حج توحید اور اتحادکی پہچان دیتا ہے۔ عازمین کو چاہئے کہ حج اجازت نامہ نہ ملنے پر حج ملتوی کردیا جائے۔ حیلے بازی، دھوکہ دہی، دروغ گوئی اور جعلسازی سے پرہیز اور حج قوانین کا احترام کیا جائے۔ اسلامی شریعت نے اپنے پیروکاروں کیلئے فرائض، سنتیں، نفلیں اور جائز اشیاء مقرر کی ہیں۔ اسلام سے ایسے تمام مسلمانوں پر جو استطاعت رکھتے ہوں حج فرض کیا ہے۔ حج اسلام کا پانچواں عظیم رکن ہے جو شخص استطاعت رکھتا ہے اسے پوری زندگی میں ایک بار حج کرنا لازم ہے۔ جس شخص پر حج فرض ہوجائے اور وسائل مہیا ہوجائیں اسے پہلی فرصت میں حج کرنا ضروری ہے۔ یہ ہدایت پیغمبراعظم و آخرالزماں محمد مصطفیؐ کی ہے۔ خطیب حرم نے یہ بھی واضح کہا تھا کہ جو شخص اپنے طور پر حج کرنے کی سکت رکھتا ہے اسے اپنی جانب سے کسی اور کو حج پر نہیں بھیجنا چاہئے۔ اگر کسی نے ایسا کیا ہے تو حج ادا نہیں ہوگا۔ غریب مسلمان پر حج فرض نہیں۔ البتہ کوئی بھی شخص اپنے طور پر اسے حج کراسکتا ہے۔ جو شخص بھی کسی غریب کو حج کرا کے احسان نہیں جتلائے گا تو اللہ تعالیٰ حج کرانے والوں کو بھی اجروثواب سے نوازے گا۔ نیابتی حج کرنے والا حج کرانے والے سے محنتانہ لے سکتا ہے۔ جس شخص نے فرض حج نہ کیا ہو وہ کسی اور کی طرف سے حج نہیں کرسکتا۔ اگر اس نے ایسا کیا تو ایسی صورت میں حج کرانے والے کے بجائے حج خود اس کا ہوجائے گا جو حج کررہا ہے۔ اگر والدین کا انتقال ہوگیا ہے یا وہ معذور ہوں تو ایسی  حالت میں بہتر ہوگا کہ اولاد اپنے والدین کی طرف سے حج کریں۔ پہلے ماں کی جانب سے حج کرے کیونکہ بیٹے پر ماں کا حق زیادہ ہے۔ اگر کسی خاتون کو حج کیلئے محرم مل جائے تو ایسی حالت میں شوہر کیلئے اپنی بیوی کو حج سے محروم کرنا جائز نہیں۔ اگر کسی شخص پر قرض ہو تو ایسی حالت میں اسے پہلے قرض ادا کرنا چاہئے پھر حج کا ارادہ کرنا چاہئے۔ الا یہ کہ قرضہ دینے والا اسے حج کی اجازت دیدے یا قرضے کی ادائیگی کی قسطوں پر ہورہی ہے تو قسط دینے والے قرضہ دینے والے سے اجازت لینا ضروری نہیں۔ اگر کوئی شخص کمزوروں، عورتوں، مریضوں اور حج پر آنے والے بوڑھوں کو سہولت کی غرض سے نفلی حج یا عمرہ ترک کردے تو یہ عمل کارخیر کا عمل ہوگا اور اللہ اسے ایسا کرنے پر اجر دے گا۔ وجہ یہ ہے کہ نفلی حج یا عمرہ سنت ہے اور مسلمانوں کو اذیت سے بچانا فرض ہے۔ نفلی حج کا اجازت نامہ نہ ملا ہے تو ایسے شخص کو اجازت نامہ ملنے پر حج کی ادائیگی ملتوی کرنا واجب ہے۔

وجہ یہ ہیکہ اسلامی شرعی حکمت کے تحت ہی حجاج اور معتمرین کی تعداد مقرر کی جاتی ہے۔ شریعت کا حکم ہیکہ دھکے بازی، بدنظمی اور بے ضابطگی سے حج اجتماع کو بچانا ضروری ہے۔ امام حرم نے خبردار کیا تھا کہ جو لوگ حج قوانین سے جان چھڑانے کیلئے کذب بیانی، دھوکہ دہی، حیلے  بازی اور رشوت ستانی کے طریقے اختیار کرتے ہیں یا وہ لوگ جو چیک پوسٹوں سے فرار ہونے کیلئے پرخطر راستے اور ٹیڑھے میڑھے طریقے اپناتے ہیں  وہ بڑا گناہ کرتے ہیں۔ مقامی حکام نے اس حوالہ سے جو پابندیاں مقرر کی ہیں وہ حاجیوں کی سلامتی اور حج موسم کو پرامن اور پرسکون بنانے کیلئے لگائی ہیں۔ امام حرم نے توجہ دلائی کہ جو لوگ اسلامی شریعت کے احکام میں خلل پیدا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں پامال کرتے ہیں، جو لوگ حرام کا ارتکاب کرتے ہیں۔ میقانوں سے پابندی کے باوجود بلااجازت نامہ کے گزرتے ہیں وہ قابل مذمت ہیں۔ تفتیشی چوکیوں سے احرام کے بغیر گزرنا درست نہیں۔ جھوٹ بول کر، دھوکہ دے کر، قوانین پامال کرکے کس طرح کا حج ہوسکتا ہے لمحہ فکریہ ہے۔ امام حرم نے کہا تھا کہ جو لوگ غیرقانونی طریقے سے عازمین کو حج مقامات پر لے جاتے ہیں اور اس سے آمدنی حاصل کرتے ہیں یہ حرام کی کمائی ہے۔ یہ کمائی صحیح نہیں ہے۔ امام حرم کی ان ہدایات کی روشنی میں ہر عازم حج کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے ورنہ حج یا عمرہ کیلئے پیسہ خرچ کرکے مشقت اٹھا کر بھی خسارے میں رہیں گے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT