Sunday , August 20 2017

حدیث

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک دن اپنے گھروالوں کے پاس آیا (یعنی کہیں باہر سے آکر گھر میں داخل ہوا) تو اس نے گھروالوں پر محتاجگی اور فقر و فاقہ کے آثار دیکھے۔ وہ (یہ دیکھ کر اپنے خدا کے حضور اپنی حاجات پیش کرنے اور یکسوئی کے ساتھ اس کی بارگاہ میں) عرض و مناجات کے لئے جنگل کی طرف چلا گیا۔ ادھر جب اس کی بیوی نے یہ دیکھا (کہ شوہر کے پاس کچھ نہیں ہے) تو وہ اُٹھی اور چکی کے پاس گئی۔ چکی کو اس نے اپنے آگے رکھا (یا اس نے چکی کے اوپر کا پاٹ نیچے کے پاٹ پر رکھا، یا یہ معنی ہیں کہ اس نے اس امید میں چکی کو صاف کیا اور تیار کرکے رکھ دیا کہ شوہر باہر سے آئے گا تو کچھ لے کر آئے گا، جس کو پیس کر روٹی پکالوں گی) پھر وہ تنور کے پاس گئی اور اس کو گرم کیا، اس کے بعد خدا سے یہ دعاء کی: ’’الہی! (ہم تیرے محتاج ہیں، تیرے غیر سے ہم نے اپنی امید منقطع کرلی ہے، تو خیرالرازقین ہے، اپنے پاس سے) ہمیں رزق عطا فرما‘‘۔ پھر جو اس نے نظر اُٹھائی تو کیا دیکھتی ہے کہ چکی آٹے سے بھری ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب وہ آٹا (گوندھ کر) تنور کے پاس گئی تو تنور کو روٹیوں سے بھرا ہوا پایا (یعنی خدا کی قدرت نے یہ کرشمہ دِکھایا کہ خود بخود اس آٹے کی روٹیاں بن کر تنور میں جالگیں، یا یہ کہ آٹا تو چکی میں ہی رہا اور تنور میں غیب سے روٹیاں نمودار ہو گئیں) راوی کہتے ہیں کہ کچھ دیر بعد جب خاوند (بارگاہ رب العزت میں عرض و مناجات سے فارغ ہوکر) گھر آیا تو بیوی سے پوچھا: کیا میرے جانے کے بعد تمھیں (کہیں سے) کچھ (غلہ وغیرہ) مل گیا تھا (جس سے تم نے یہ روٹیاں تیار کی ہیں؟)۔ بیوی نے کہا: ہاں! یہ ہمیں خدا کی طرف سے ملا ہے۔ خاوند نے یہ سنا تو (اس کو بہت تعجب ہوا اور وہ) اُٹھ کر چکی کے پاس گیا (اور چکی کو اُٹھایا، تاکہ خدا کا کرشمہ دیکھے)۔ پھر جب اس واقعہ کا ذکر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپﷺ نے (پورا قصہ سن کر) فرمایا: ’’جان لو! اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر وہ شخص اس چکی کو اُٹھا نہ لیتا تو وہ چکی مسلسل قیامت تک گردش میں رہتی اور اُس سے آٹا نکلتا رہتا‘‘۔ (احمد)

TOPPOPULARRECENT