Wednesday , September 20 2017

حدیث

حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مؤمن کی بھی عجیب شان ہے کہ اس کی ہر حالت اس کے لئے خیر و بھلائی کا باعث ہے اور یہ بات صرف مؤمن کے لئے مخصوص ہے، کوئی اور اس کے وصف میں شریک نہیں ہے۔ اگر اس کو (رزق، فراخی، راحت، چین، صحت و تندرستی، نعمت و لذت اور طاعت و عبادت کی توفیق کی صورت میں) خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے، پس یہ شکر اس کے لئے خیر و بھلائی کا باعث ہوتا ہے اور اگر اس کو (فقر و افلاس، مرض و تکلیف، رنج و الم اور آفات و حادثات کی صورت میں) مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے، پس یہ صبر بھی اس کے لئے خیر و بھلائی کا باعث ہوتا ہے‘‘۔ (مسلم)
مطلب یہ ہے کہ ہر انسان اپنی شب و روز کی زندگی میں یا تو ایسی حالت سے دو چار ہوتا ہے، جو اس کو رنج و تکلیف میں مبتلا کردیتی ہے یا وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ جس سے وہ خوشی و مسرت محسوس کرتا ہے۔ ان دونوں حالتوں سے کوئی شخص خالی نہیں ہوتا، پس مؤمن کے لئے رنج و تکلیف میں مبتلا کرنے والی حالت صبر کا تقاضہ کرتی ہے اور خوشی و مسرت دینے والی حالت شکر کا۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں مقام یعنی صبر و شکر نہایت اعلیٰ ہیں اور بہت زیادہ اجر و ثواب کا باعث بنتے ہیں، اس طرح مؤمن گویا ہر حالت میں اعلی مقام و مرتبہ اور بہت زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ حدیث شریف میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’اور یہ بات صرف مؤمن کے لئے مخصوص ہے‘‘ تو بظاہر مؤمن سے مراد ’’مؤمن کا دل‘‘ ہے، کیونکہ یہ کامل مؤمن کی ہی شان ہوتی ہے کہ وہ تنگی و سختی اور رنج و تکلیف کی حالت میں صبر کرتا ہے اور خوشحالی و مسرت کی صورت میں شکر گزار ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف غیر کامل مؤمن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کو خوشی و مسرت کے اسباب میسر ہو جاتے ہیں تو وہ مغرور ہو جاتا ہے اور خلاف شرع حرکتیں کرنے لگتا ہے اور اگر رنج و تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو شکوہ اور کفرانِ نعمت کرنے لگتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT