Wednesday , August 23 2017

حدیث

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے عمل کو لوگوں کے درمیان شہرت دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے اس ’’ریاکارانہ‘‘ عمل کو اپنی مخلوق کے کانوں تک پہنچا دے گا (یعنی جو شخص کوئی نیک کام کرکے لوگوں کو یہ سنائے گا کہ اس نے یہ کام کیا ہے اور اس کے ذریعہ اس کا مقصد شہرت و عزت حاصل کرنا ہوگا) تو اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری کو ظاہر کردے گا اور لوگوں کے کانوں تک یہ بات پہنچا دے گا کہ یہ شخص ریاکار اور غیر مخلص ہے۔ نیز (قیامت کے دن) اس کو رُسوا کرے گا اور (دنیا و آخرت میں) ذلت و خواری سے دو چار کرے گا‘‘۔ (بیہقی شعب الایمان)
مطلب یہ ہے کہ اعمال کے نتائج و آثار مرتب ہونے کا مدار نیت پر ہے، جس شخص کے پیش نظر صرف آخرت کا مفاد ہوتا ہے اور جو اپنے اعمال کے تئیں مخلص و صادق ہوتا ہے، وہ آخرت کی سعادتوں اور نعمتوں کا مستحق تو ہو ہی جاتا ہے، اس دنیا میں بھی اس کو اپنے تمام معاملاتِ زندگی میں اطمینان و عافیت اور خاطر جمعی کی دولت حاصل رہتی ہے۔ نیز اس کو اس کا رزق نہایت آسانی اور آسودگی کے ساتھ پہنچتا ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص محض دنیا کی طلب و چاہ رکھتا ہے اور اپنے اعمال کو وسیلۂ آخرت بنانے کی بجائے دنیاوی مال و زر اور دنیاوی نعمتوں کا وسیلہ و ذریعہ بناتا ہے، اس کو آخرت میں تو اس کی سزا بھگتنی ہی ہوگی، اس دنیا میں بھی اس پر اس برائی کا وبال پڑتا ہے کہ وہ خاطر جمعی اور اطمینان و سکون کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ہر وقت طرح طرح کی پریشانیوں اور مختلف تفکرات کی وجہ سے حیران و سرگرداں رہتا ہے۔ نیز اس کو وہ رزق تو ضرور ملتا ہے، جو اس کے مقدر میں ہے، مگر اس کے حصول کے لئے بھی اس کو نہایت محنت و مشقت اور پریشانی برداشت کرنی پڑتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT