Friday , August 18 2017

حدیث

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’میرے متعدد نام ہیں، جن میں سے میرا (مشہور) نام (ایک تو) محمد ہے اور (دوسرا) احمد ہے۔ میرا نام ’’ماحی‘‘ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹاتا ہے۔ میرا نام ’’حاشر‘‘ بھی ہے کہ لوگوں کو میرے نقش قدم پر اٹھایا جائے گا اور میرا نام ’’عاقب‘‘ بھی ہے، یعنی وہ شخص جس کے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ (بخاری و مسلم)
بعض روایتوں میں ’’محمد‘‘ اور ’’احمد‘‘ کے ساتھ ایک نام ’’محمود‘‘ بھی منقول ہے۔ ان تینوں کا مادہ اشتقاق ایک ہی ہے، یعنی ’’حمد‘‘۔ ’’محمود‘‘ کا مطلب ہے وہ ہستی، جس کی ذات و صفات کی تعریف دنیا میں بھی کی گئی اور آخرت میں بھی۔ ’’محمد‘‘ کا مطلب وہ ہستی ہے، جس کی بے انتہا تعریف کی گئی ہو۔ ’’احمد‘‘ کا مطلب ہے وہ ہستی، جس کی تعریف اگلے پچھلوں اور سابقہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ کی گئی ہو۔ ’’احمد‘‘ کے ایک معنی یہ بھی بیان ہوئے ہیں کہ وہ ہستی جو صاحب لوائے حمد ہو اور جو اپنے مولیٰ کی حمد و ثناء اتنی زیادہ اور اتنے اَچَھوتے انداز میں کرے کہ کسی کے علم و گمان کی رسائی اس تک نہ ہو، جیسا کہ قیامت کے دن مقامِ محمود میں ہوگا۔
’’ماحی‘‘ کے معنی ہیں مٹانے والا، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کی دعوت و تبلیغ کی بہ نسبت سب سے زیادہ آپﷺ ہی کی دعوت و تبلیغ کے ذریعہ کفر کو مٹایا۔ ’’حاشر‘‘ کے معنی ہیں جمع کرنے والا، یعنی قیامت کے دن سب سے پہلے آپﷺ اپنی قبر سے اُٹھ کر میدانِ حشر میں آئیں گے۔ آپﷺ کے بعد پھر اور تمام لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل کر میدانِ حشر میں جمع ہوں گے۔ ’’عاقب‘‘ کے معنی ہیں سب سے پیچھے آنے والا، یعنی آپﷺ اللہ کے وہ نبی اور رسول ہیں، جو تمام رسولوں اور نبیوں کے بعد اس دنیا میں تشریف لائے اور آپ کے بعد کوئی اور نبی و رسول اس دنیا میں مبعوث نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT