Sunday , August 20 2017

حدیث

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بھی کوئی انسان پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کی دونوں کوکھ میں اپنی اُنگلیوں سے کونچا مارتا ہے، لیکن عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اس سے محفوظ رہے۔ اس نے ان کی کوکھ میں بھی کونچا مارنا چاہا تھا، مگر وہ صرف پردے میں کونچا مارسکا‘‘۔ (بخاری و مسلم)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام، شیطان لعین کی تکلیف پہنچانے والی اس حرکت سے محفوظ رہے کہ ان کی نانی اور مریم علیہا السلام کی ماں حنہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کردیا تھا کہ ’’(پروردگار!) میں نے اپنی اس بچی کا نام مریم رکھا اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘۔
’’پردے‘‘ سے مراد وہ جھلی ہے، جس میں بچہ پیدائش کے وقت لپٹا ہوا ہوتا ہے، جس کو عربی میں ’’مشیمہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ شیطان نے اپنی عادت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوکھ میں بھی کونچا مارنا چاہا اور اپنی اُنگلیاں چلائیں، لیکن وہ اُنگلیاں ان کے جسم تک نہیں پہنچ سکیں، اسی جھلی میں اَٹک کر رہ گئیں، اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کی اذیت سے محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ حدیث شریف میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’جب بھی کوئی انسان پیدا ہوتا ہے…الخ‘‘ تو اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مستثنیٰ اور خارج ہیں۔ آپﷺ نے اپنے علاوہ تمام بنی آدم کے بارے میں یہ فرمایا ہے، چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح خود آپﷺ کی ذاتِ اقدس بھی شیطان کی اس ایذا رسانی سے محفوظ رہی۔

TOPPOPULARRECENT