Wednesday , August 16 2017

حدیث

حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور (ان ستر ہزار میں سے) ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار اور میرے پروردگار کے چلوؤں میں سے تین چلو بھرکر لوگ جنت میں جائیں گے‘‘۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
’’حساب و عذاب کے بغیر‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس سخت حساب کے مرحلہ سے گزرنا نہیں پڑے گا، جس میں بندہ پُرسش و مواخذہ، دار و گیر اور سخت پوچھ تاچھ سے دوچار ہونے کی وجہ سے عذاب میں مبتلاء ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ’’ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار…الخ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ ستر ہزار لوگ تو حساب و عذاب کے مرحلہ سے گزرے بغیر جنت میں جائیں گے ہی، لیکن ان میں سے بھی ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے تین چلو بھرکر اور لوگوں کو ان کے ساتھ کردے گا۔ اب رہی یہ بات کہ ’’ستر ہزار‘‘ سے کیا مراد ہے؟ تو ہوسکتا ہے کہ یہ خاص عدد ہی مراد ہو اور یا یہ کہ اس عدد سے ’’کثرت‘‘ مراد ہو۔ نیز ’’تین چلوؤں‘‘ کے الفاظ بھی کثرت و مبالغہ سے کنایہ ہیں۔ پس حاصل یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ میری امت کے اتنے زیادہ لوگوں کو حساب و عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا کہ جو شمار بھی نہیں کئے جاسکتے۔
واضح رہے کہ قیامت کے دن آسان حساب اور مواخذہ یہ ہوگا کہ انسان کو اس کے اچھے اور بُرے اعمال بتا دیئے جائیں گے، مثلاً اس سے کہا جائے گا کہ تو نے یہ کیا ہے، وہ کیا ہے اور پھر اس کے بُرے اعمال پر مواخذہ نہیں کرے گا، لیکن جس شخص کے حساب میں باز پُرس کا دخل ہوگا، اس سے ایک ایک چیز اور ہر چھوٹے بڑے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT