Tuesday , October 17 2017

حدیث

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ’’دوزخ میں کافر کے جسم کو اس قدر موٹا اور فربہ بنادیا جائے گا کہ اس کے دونوں مونڈھوں کا درمیانی فاصلہ تیز رو سوار کی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگا ‘‘ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ دوزخ میں کافر کا دانت احد پہاڑ کے برابر ہوگا اور اس کے جسم کی کھال تین دن کی مسافت کے برابر موٹی ہوگی ‘‘ ۔ (مسلم )
اس حدیث میں اہل دوزخ کے جسم کے پھیلاؤ اور مٹاپے کا ذکر ہے جبکہ ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ قیامت کے دن متکبرین کو بروز حشر اس حالت میں لایا جائے گا کہ ان کے جسم تو چیونٹیوں کے برابر ہوں گے اور ان کی صورتیں مردوں کی ہونگی اور پھر انھیں ہانک کر قیدخانہ میں لیا جایا جائے گا ۔ پس ان دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ ’’متکبرین‘‘ سے مراد مؤمن گناہگار ہیں جبکہ مذکورہ بالا حدیث میں ’’کفار‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے لیکن زیادہ درست یہ کہنا ہے کہ ان کو میدان حشر میں تو چیونٹیوں ہی کے جسم میں لایا جائے گا جہاں وہ لوگوں کے تلوؤں تلے خوب روندے جائیں گے ، اس کے بعد پھر ان کے بدن اپنی اصلی حالت میں آجائیں گے اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے ، دوزخ میں ان کے بدن دوبارہ غیرمعمولی ساخت کے ہوجائیں گے اور ان کا مٹاپا اور پھیلاؤ اتنا بڑھ جائے گا جس کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے نیز ان کے بدن کو اس قدر موٹا اور فربہ اس لئے کیا جائے گا تاکہ انھیں زیادہ سے زیادہ عذاب ہوسکے ۔

TOPPOPULARRECENT