Sunday , September 24 2017

حدیث

حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا : ’’یقینا اﷲ تعالیٰ اُس بندے کو بہت پسند کرتا ہے جو متقی و غنی اور گوشہ نشین ہو ‘‘ ۔                               (مسلم )
’’متقی ‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو ممنوع چیزوں سے اجتناب کرے۔ یا یہاں ’’متقی ‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے مال و زر کو بڑے کاموں اور عیش و تفریح میں خرچ نہ کرے۔بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ متقی سے مراد وہ شخص ہے جو حرام اور مشتبہ اُمور سے کلیۃً اجتناب کرے اور ان چیزوں سے بھی احتیاط و پرہیز کرے جن کا تعلق خواہشات نفس اور مباحات سے ہے ۔ اور ’’غنی ‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جو مالدار و دولتمند ہو یا دل کا غنی ہو ۔ لیکن اس حدیث کا یہاں اس باب میں نقل کرنا اس بات کو زیادہ ثابت کرنا ہے کہ ’’غنی ‘‘ سے مراد وہی شخص ہے جو مال و دولت رکھتا ہو ، اور یہ بات دل کے غنی ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ ’’غنا‘‘ کے باب میں وہی شخص اصل اور کامل ترین ہے جو ظاہری مال و دولت کے ساتھ دل کا غنا بھی رکھتا ہو اور جس کے ذریعہ ہاتھ کے غنا کا وہ تقاضا بھی پورا ہوتا ہے جو دنیا و آخرت میں مراتب ور درجات کی بلندی کا باعث بنتا ہے ۔اس صورت میں یہ بات بجا طورپر کہی جاسکتی ہے کہ یہاں ’’غنی ‘‘ سے مراد اصل میں شکرگذار مالدار ہے ۔ چنانچہ بعض حضرات نے اس حدیث سے یہی استدلال کیا ہے کہ شکرگذار مالدار ، صبر اختیار کرنے والے فقیر و مفلس سے افضل ہے ۔ اگرچہ یہ قول ( کہ شاکر غنی ، صابر فقیر سے افضل ہوتا ہے ) اس قول کے خلاف ہے جس کو زیادہ صحیح اور قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے ( اور وہ یہ کہ صابر فقیر ، شاکر غنی سے افضل ہوتا ہے ) ۔

TOPPOPULARRECENT