Tuesday , August 22 2017

حدیث

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ’’میں ( معراج کی رات میں) جنت کی سیر کررہا تھا کہ اچانک میرا گزر ایک نہر پر ہوا جس کے دونوں طرف موتیوں کے گنبد تھے میں نے پوچھا کہ جبرئیل یہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ یہ حوضِ کوثر ہے جو آپؐ کو آپؐ کے پروردگار نے عطا کیا ہے ۔ پھر جو میں نے دیکھا تو اس کی مٹی مثل مشک تیز خوشبودار تھی ۔ (بخاری)
موتی کے گنبد سے مراد یہ ہے کہ حوض کوثر کے دونوں کناروںپر جو گنبد اور قبے ہیں وہ اینٹ پتھر اور چونے گارے جیسی چیزوں سے تعمیرشدہ نہیں ہیں بلکہ ہرگنبد دراصل ایک بہت بڑا موتی ہے جو اندر سے کھوکھلا ہے اور جس میں نشست و رہائش کی جملہ آسائشیں موجود ہیں۔
جو ’’آپؐ کو آپؐ کے پروردگار نے عطا کیا ہے ‘‘ کے ذریعہ آیت کریمہ انا اعطینک الکوثر کی طرف اشارہ ہے جس کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت کریمہ میں ’’کوثر‘‘ سے مراد ’’خیرکثیر یعنی بیشمار بھلائیاں اور نعمتوں کی کثرت ‘‘ ہے جو پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو عطا فرمائی ہے ۔ اس میں نبوت و رسالت ، قرآن کریم اور علم و حکمت کی نعمتیں بھی شامل ہیں اور اُمت کی کثرت اور وہ تمام مراتب عالیہ بھی شامل ہیں جن میں ایک بہت بڑی نعمت آپؐ کو آخرت میں مقام محمود ، لوائے حمد اور مذکورہ حوض کا عطا کیا جانا ہے ۔ اسی طرح حضرت جبرئیل ؑ کے مذکورہ جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو جو ’’کوثر‘‘ عطا کیاہے اسی میں کی ایک چیز یہ ’’حوضِ کوثر ‘‘ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT