Thursday , August 17 2017

حدیث

حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک دن ) رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے ان سے فرمایا کہ ’’اس وقت تم کیا کرو گے جب تم اپنے آپ کو ناکارہ لوگوں کے زمانہ میں پاؤگے ، جن کے عہد و پیمان اور جن کی امانتیں خلط ملط ہوں گی اور جو آپس میں اختلاف رکھیں گے ، گویا وہ لوگ اس طرح کے ہوجائیں گے۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر داخل کیا ‘‘ ۔ حضرت عبداﷲ نے (یہ سنکر ) عرض کیاکہ آپؐ مجھے ہدایت فرمائیے کہ اس وت میں کیا کروں ؟ آپؐ نے فرمایا : ’’اس وقت تم پر لازم ہوگا کہ اس چیز کو اختیار کرو اور اس پر عمل کرو جس کو تم ( دین و دیانت کی روشنی میں ) حق جانو اور اس چیز سے اجتناب و نفرت کرو جس کو تم ناحق اور بُرا جانو ، نیز صرف اپنے کام اور اپنی بھلائی سے مطلب رکھو اور خود کو عوام الناس سے دور کرلو‘‘ ۔ اور ایک روایت میں یوں منقول ہے کہ ’’اپنے گھر میں پڑے رہو ( بلاضرورت باہر نکل کر اِدھر اُدھر نہ جاؤ) اپنی زبان کو قابو میں رکھو ، جس چیز کو حق جانو اس کو اختیار کرو اور جس چیز کو بُرا جانو اس کو چھوڑدو ، صرف اپنے کام اور اپنی بھلائی سے مطلب رکھو اور عوام الناس کے معاملات سے کوئی تعلق نہ رکھو‘‘ ۔ (ترمذی)

TOPPOPULARRECENT