Wednesday , August 23 2017

حدیث

حضرت مستورد ابن شداد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ’’خدا کی قسم ! آخرت ( کے زمانہ اور وہاں کی نعمتوں ) کے مقابلے میں دنیا (کے زمانہ اور اس کی نعمتوں ) کی مثال ایسی ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ وہ انگلی کیا چیز لے کر واپس آئی ہے ‘‘۔ ( مسلم ؒ)
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی اُنگلی کو سمندر میں ڈبوکر باہر نکالے تو وہ دیکھے گا کہ اس کی انگلی سمندر میں سے محض تری یا صرف ایک آدھ قطرہ پانی کا لے کر واپس آئی ہے ، پس سمجھنا چاہئے کہ آخرت کے زمانہ اور وہاں کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی زمانہ اور دنیا کی تمام نعمتیں اسی قدر قلیل و کمتر ہیں جس قدر کہ سمندر کے مقابلہ میں اس کی انگلی کو لگا ہوا پانی، بلکہ حقیقت تو یہ ہیکہ یہ تمثیل بھی محض لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہے ورنہ متناہی کو غیرمتناہی کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہوسکتی ، پانی کا وہ ایک قطرہ جو دریا سے باہر آیا ہے اپنی کمتری و بے وقعتی کے باوجود سمندر سے کچھ نہ کچھ نسبت ضرور رکھتا ہے مگر دنیا ، آخرت سے اس قدر بھی نسبت نہیں رکھتی !۔ ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ نہ تو نہایت جلد فنا ہوجانے والی دنیا کی نعمتوں اور آسائشوں پر مغرور ہو اور نہ اس کی سختیوں اور پریشانیوں پر روئے پیٹے اور نہ شکوہ و شکایت کرے بلکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی تعلیم کے مطابق یہی کہے کہ : اے اﷲ ! اصل زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے ۔
نیز اس حقیقت کو ہرلمحہ مدنظر رکھے کہ یہ دنیا ، مزرعۃ الاٰخرۃ (آخرت کی کھیتی ہے ) اور یہاں کی زندگانی بس ایک ساعت کی ہے لہذا اس ایک ساعت کو گنوانے کی بجائے طالب الٰہی میں مصروف رکھنا ہی سب سے بڑی دانشوری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT