Sunday , September 24 2017

حدیث

نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے صحابہ میں سے ایک کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسولِ کریم ﷺ آکر ہمارے درمیان تشریف فرما ہوگئے ، اس وقت آپؐ کے سر مبارک پر (غسل کے ) پانی کی تری تھی، ہم نے عرض کیا کہ ’’یا رسول اﷲ ! اس وقت ہم آپؐ کو بہت خوش دل و شادماں دیکھ رہے ہیں (جس کے آثار چہرہ اقدس پر نمایاں ہیں ) ‘‘ ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ’’ہاں ﷺ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اہل مجلس دولتمندی کے ذکر میں مشغول ہوئے (یعنی آپس میں یہ گفتگو کرنے لگے کہ مالداری و دولتمندی اچھی چیز ہے یا بُری چیز ؟ ) رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے (ہماری یہ گفتگو سُنکر) فرمایا ’’اس شخص کا دولت مند ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جو اﷲ تعالیٰ سے ڈرے ! اور (جسم کی ) صحت مندی ، خدا سے ڈرنے والے (یعنی متقی و پرہیزگار) شخص کے لئے دولت مندی سے زیادہ بہتر ہے (اگرچہ وہ صحت مندی فقر و افلاس کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ) نیز شادمانی و خوش دلی اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جس پر اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے اور اس کے بارے میں قیامت کے دن بندہ سے سوال ہوگا ۔(احمدؒ)

TOPPOPULARRECENT