Thursday , August 17 2017

حدیث

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(قیامت کے دن) اللہ تعالی مؤمن کو اپنے (فضل و کرم اور اپنی رحمت کے) قریب کرے گا اور (پھر) اس کو اپنی حفاظت اور اپنی عنایت کے سائے میں چھپائے گا (تاکہ وہ اہل محشر پر اپنے گناہوں اور اپنی بداعمالیوں کے کھل جانے کی وجہ سے شرمندہ اور رسوا نہ ہو) پھر اللہ تعالی اس (مؤمن) سے پوچھے گا کہ کا تو اس گناہ کو چاہتا ہے، کیا تو اس گناہ کو جانتا ہے (یعنی کیا تجھے یاد اور اعتراف ہے کہ تونے دنیا میں فلاں فلاں گناہ کئے تھے؟) وہ (مؤمن عرض کرے گا کہ ہاں اے پروردگار (مجھے اپنا وہ گناہ یاد ہے اور میں اپنے بدعملی کا اعتراف کرتا ہوں۔ غرض کہ اللہ تعالی اس (مؤمن) سے اس کے تمام گناہوں کا اعتراف و اقرار کرائے گا اور وہ (مؤمن) اپنے دل میں کہتا ہوگا کہ (ان گناہوں کی پاداش میں) میں اب ہلاک ہوا، اب تباہ ہوا، لیکن اللہ تعالی فرمائے گا کہ ’’میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں اور عیوب کی پردہ پوشی کی اور آج بھی میں تیرے ان گناہوں کو بخش دوں گا‘‘۔ پس اس (مؤمن) کو اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دے دیا جائے گا (اور برائیوں کا اعمال نامہ کالعدم کردیا جائے گا) اور جہاں تک کافروں اور منافق لوگوں کا تعلق ہے تو ان کو تمام مخلوق کے سامنے طلب کیا جائے گا اور پکارکر کہا جائے گا کہ ’’یہ وہ لوگ ہیں، جنھوں نے (کفر و شرک کے ذریعہ) اپنے رب پر بہتان باندھا تھا، جان لو ظالموں پر خدا کی لعنت ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)
مؤمن سے جنس مؤمن مراد ہے، یعنی تمام مؤمنوں کے ساتھ اللہ تعالی اپنے فضل و کرم کا یہی معاملہ فرمائے گا اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ یہ بشارت ان مؤمن بندوں کے حق میں ہے، جو اس دنیا میں کسی کی غیبت نہیں کرتے، کسی پر عیب نہیں لگاتے، کسی کو ذلیل و رسوا نہیں کرتے، کسی مسلمان کی فضیحت سے خوش نہیں ہوتے، بلکہ اللہ تعالی کے نیک بندوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں اور لوگوں میں کسی کی آبرو ریزی کا باعث نہیں بنتے۔ پس اللہ تعالی ان کے اوصاف کی جزا کے طورپر قیامت کے دن ان کی پردہ پوشی فرمائے گا۔

TOPPOPULARRECENT