Tuesday , September 26 2017

حدیث

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے ایک بلند مکان (کی چھت) پر چڑھے اور پھر (صحابۂ کرام کو مخاطب کرکے) فرمایا: ’’کیا تم اس چیز کو دیکھتے ہو، جس کو میں دیکھ رہا ہوں؟‘‘۔ صحابۂ کرام نے جواب دیا کہ ’’نہیں!‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’حقیقت یہ ہے کہ میں ان فتنوں کو دیکھ رہا ہوں، جو تمہارے گھروں پر اس طرح برس رہے ہیں، جس طرح مینہ برستا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)
حدیث شریف میں ’’اٰطام‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جب کہ  ’’اُطُم‘‘  پہاڑ کی چوٹی، قلعہ اور بلند مکان کو کہتے ہیں اور ’’اٰطام‘‘ اس کی جمع ہے۔ یہاں ’’اٰطام‘‘ سے مراد مدینہ منورہ کے ارد گرد واقع وہ فلک بوس مکانات اور قلعے ہیں، جن میں وہاں کے یہودی رہا کرتے تھے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان ہی قلعوں میں سے ایک قلعہ کی چھت پر تشریف لے گئے اور پھر مذکورہ بالا حدیث شریف ارشاد فرمائی۔
’’میں ان فتنوں کو دیکھ رہا ہوں…الخ‘‘ کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گویا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت جب کہ آپﷺ قلعہ کی چھت پر چڑھے، فتنوں کا قریب ہونا دِکھایا، تاکہ آپ فتنوں کے بارے میں آگاہ کردیں اور لوگ یہ جان کر کہ ان فتنوں کا نازل ہونا مقدر ہوچکا ہے، لہذا ان سے بچنے کے طریقے اختیار کرلیں اور اس بات کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں شمار کریں کہ آپﷺ نے جو پیشین گوئی فرمائی تھی، وہ بالکل صحیح ثابت ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT