Tuesday , April 25 2017
Home / مضامین / حرمتِ مکہ اور دشمنان اسلام

حرمتِ مکہ اور دشمنان اسلام

کے این واصف
حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کو میزائیل سے نشانہ بنانے کی گھناؤنی کوشش نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ دنیا کے ہر حصہ میں مسلمان اور امن پسند غیر مسلم کو اس واقعہ نے شدید صدمہ پہنچایا۔ ہر شخص نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کھلی جارحیت ہے اور ایک گھناؤنا جرم ہے ۔ اس سے زیادہ شرم ناک حرکت اور اس سے بڑا ظلم کوئی نہیں ہوسکتا۔ اللہ کے شعائر کی تعظیم میں یقین نہیں رکھنے والے یہ ظالم حوثی کیسے مسلمان اور مسلمانوں کے ہمدرد کہلائے جاسکتے ہیں۔ مکہ مکرمہ کو میزائیل کانشانہ بنانے کی کوشش کرنے سے بڑی دہشت گردی اور کچھ نہیں ہوسکتی ۔ حوثیوں نے مقدس شہر کو بربریت کا ہدف بنانے کی کوشش کر کے انسانیت ، اخلاق اور دینی حدود کو پار کردیا۔
اس واقعہ کے بعد سے ساری دنیا میں اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے ۔ پچھلے جمعہ کو حوثیوں کے اس حملے کی حرمین شریفین اور دیگر مساجد کے ائمہ نے بھی اپنے خطاب میں شدید مذمت کی ہے ۔ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ عبداللہ البعجان نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو ازل ہی میں مقدس قرار دیا تھا اور اس پر جارحانہ حملے کو عظیم جرم قرار دیا تھا ۔امام مسجد نبوی نے کہاکہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ مکہ مکرمہ کی توہین کرنے والوں کے خلاف متحد ہوجائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھیں کہ خانہ خدا کی حفاظت کرنے والا پروردگار موجود ہے ۔ امام البعجان نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مقدس شہر کی توہین کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور جو بھی مکہ کے تقدس کو پامال کرنا چاہے اس کے خلاف صف بستہ ہوجائیں۔
دوسری جانب مکہ مکرمہ میں جامع مسجد شیخ بن باز کے امام ڈاکٹر بدرالغیث نے واضح کیا کہ حوثی زبان سے اسلام کے دعویدار ہیںاور عمل سے اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ لوگ نہ جانے کس دین کے علمبردار ہیں۔ پتہ نہیں ان کا عقیدہ کیا ہے ۔ یہ کیسے نام نہاد مسلمان ہیں جو مسلمانوں کے خلاف جنگ کا بگل بجائے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے جذبات میں ہیجان برپا کر رہے ہیںاور مسلمانوں کے قبلہ پرحملہ کر کے اللہ کے دشمنوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کی حرکتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے دل خراب ہیں اور یہ اپنے چہروں پر سیاہ نقاب ڈال کر اپنی گھناؤنی شکل چھپائے ہوئے ہیں ۔
اس طرح مسجد ا لحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر خالد انعامدی نے کہا کہ فرقہ پرست لوگ اور مسلمانوں کے مقامات مقدسہ سے کینہ رکنے والے افراد اپنے کردار کے حوالے سے یہودیوں سے مماثلت  رکھتے ہیں۔ یہ مقدس ماہ محرم کے دوران مقدس شہر مکہ مکرمہ تہس نہس کرنے کے در پے ہوئے ۔ ڈاکٹر انعامدی نے کہا کہ محترم مہینے کے دوران حوثیوں نے جو کچھ کیا وہ گھناؤنا جرم ہے ۔ ان لوگوں نے حرم شریف کو اپنے مذموم حملے کا ہدف بناکر وہی کیا جو راندہ درگاہ ابرہہ نے خانہ کعبہ کو منہدم  کرنے کی نیت سے مکہ مکرمہ پر یلغار کر کے کیا تھا ۔ کینہ پرور فرقہ پرست یہ لوگ یہودیوں سے کس قدر مشابہہ اور ان سے کتنے قریب ہیں۔ دلوں میں کفر رکھنے والے اور اسلامی مقامات مقدسہ سے نفرت کرنے والے اہل نفاق کا یہی وطیرہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں اور ان کے مقامات سے نفرت کے باب میں ہر ظالم اور ہر سرکش سے ہاتھ ملائے ہوئے ہیں۔ امام حرم نے مزید کہا کہ نبی کریمؐ کی تعظیم اور ان سے محبت ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ اسلامی شریعت کا اہم ستون ہے۔ پوری امت کو تباہی و بربادی سے بچنے کیلئے رسول کریمؐ سے محبت اور اس کا اظہار واجب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رسول کریم کی تعظیم اور آپ سے محبت کی شکلیں بے شمار ہیں۔ سب سے بہترین اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ہم پیغمبر اسلامؐ کی سنتوں کی تابعداری کو اپنی پہچان اور اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں۔ رسول کریم ؐ کی سنتوں سے اعراض بدعات و خرافات میں پڑنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زبان و مکان سے تعلق رکھنے والے اسلامی شعائر کی تعظیم نہ کرنا اسلامی شریعت کی توہین ہے ۔ رسول کریمؐ نے ماہ محرم ، مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس کی تعظیم کو اسلامی شعائر کا ا ٹوٹ حصہ قرار دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زمان و مکان کے شعائر عطا کئے ہیں۔ قدیم زمانے سے ہی مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور محرم کی تعظیم مسلمانوں کے یہاں دینی شعائر کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اسلام کے دشمن ماضی میں اسلامی شعائر کے حوالے سے دلوں میں جلن محسوس کرتے تھے ۔ مسلمانوں کے یہاں اسلامی شعائر کی تعظیم دشمنوں پربھاری پڑتی تھی ۔ یہودی مسجد اقصیٰ میں قتل ، خونریزی ، تخریب کاری اور فساد انگیزی کے مرتکب ہوئے ۔ اب بھی وہ ایسا ہی کر رہے ہیں۔ پھر فرقہ پرست اور مسلمانوں کے مقامات مقدسہ سے نفرت کرنے والے وہ لوگ جو کردار کے حوالے سے یہودیوں سے مماثلت رکھتے ہیں، ابھرے اور وہ ماہ محرم میں مقدس شہر مکہ مکرمہ کو تخریبی عمل کا ہدف بنارہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کی گھات میں تھا لہذا اس نے ان کے حملے کو ناکام بنایا۔
حوثیوں کی اس حر کت پر یہاں مقیم مختلف ممالک کے تارکین وطن میںبھی شدید غم و غصہ ہے ۔ سیاست نیوز نے اس سلسلے میں چند سماجی تنظیموں کے ذمہ داران سے ان کے خیالات حاصل کئے ۔ بہار فاؤنڈیشن کے چیرمین عبید الرحمن نے کہاکہ حرمین شریفین عالم اسلام اور پوری کائنات کے مسلمانوں کے مراکز  ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی تسکین کا ذریعہ ہیں۔ اس کے خلاف کوئی بھی سازش پوری دنیا کے مسلمانوں میں اضطراب پیدا کردے گی۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے انجنیئر سہیل احمد نے کہا حرمین شریفین کی طرف نگاہ اٹھانے والوں کو مسلمان کسی طور معاف نہیں کریں گے ۔ مسلمانوں میں مسلکی اختلاف ہیں لیکن حرمت کعبہ کے معاملے میں پوری دنیا کے مسلمان ایک ہیں اور اس کی حفاظت کیلئے خون کا آخری قطرہ تک بہا سکتے ہیں۔
جامعہ عثمانیہ المنائی اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری محمد شہباز شریف نے حوثی باغیوں کی طرف سے مبینہ طور پر مکہ مکرمہ پر میزائیل داغے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ اس کی حفاظت اور اس پر اپنی جاں نچھاور کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ انہوں نے خادم حرمین شریفین کی ستائش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ کسی بھی فتنہ پرور کی نظر حرمین شریفین پر نہیں پڑنے دیں گے ۔ بزم اردو ٹوسٹ ماسٹرز کلب ریاض کے صدر تقی الدین میر نے کہاکہ مکہ مکرمہ پر میزائیل حملے کی کوشش عالم اسلام کے دیڑھ ارب مسلمانوں پر حملے کی کوشش ہے۔ مکہ مکرمہ پرحملہ کی کوشش کرنے والے ملت اسلامیہ کی وحدت ، ان کے مرکز اور بقاء کے دشمن ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ ویب سائیٹ ’’یا ہند‘‘ کے CEO سید ضیاء الرحمن نے کہا کہ حوثیوں کی یہ مذموم حرکت عالم اسلام کی تاریخ میں سب سے شرمناک حادثے کے مترادف ہے ۔ وہ پوری مسلم دنیا کے مجرم ہیں۔ یہ لوگ ناقابل معافی ہیں۔ اس شرم ناک حرکت سے حوثیوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کردی۔
بے شک شہر مقدس کو میزائیل کا نشانہ بنانے کے اس ارادے سے متعلق دنیا کے ہر باضمیر مسلمان کے احساسات و جذبات ایسے ہی ہوں گے جیسے کے اوپر بیان کئے گئے ہیں۔ حوثیوں کی حقیقت کیا ، ان کے پیچھے کونسی طاقت کارفرما ہے، یہ ہر ذی شعور مسلمان جانتا ہے ۔ ان انتہا پسند گروپس کا مسلمانوں سے یا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ اپنے مفادات کیلئے ضمیر و ایمان بیچ سکتے ہیں تو پھر اب دنیا کا مسلمان کرے تو کیا کرے ۔ ان مسلم دشمن طاقتوں سے بچنے یا نجات حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ نظر آتا ہے جس کی تلقین مسلمانوں کا ہر قائد کرتا ہے وہ ہے اتحاد بین المسلمین لیکن امت ہے کہ جاگنے کا نام نہیں لیتی ۔ ہمارے اس تساہل و غفلت نے ہم سے ہماری طاقت چھین لی، ہمیں اقتدار سے محروم کردیا ، ہماری حکومتیں چلی گئیں ، ہمارے ملک تباہ ہوگئے ، ہم دنیا میں بے وقعت ہوکر رہ گئے۔ مگر ہم اب بھی فرقوں میں تقسیم ہورہے ہیں، ٹکڑوں میں بٹ رہے ہیں جو ہمیں مزید کمزور کر رہا ہے ۔ ادھر امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے حیرت انگیز اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ یہ مسلمانوں پر ایک اور عذاب آیا ہے ۔ اس سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے ، عالمی سطح پر مسلمانوں میں اتحاد۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT