Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / حرمِ مدینہ کی حرمت و تقد س و اولاد کی تربیت

حرمِ مدینہ کی حرمت و تقد س و اولاد کی تربیت

حبیب سہیل بن سعید العیدروس
حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی ذاتِ گرامی جس سرزمین پر ہوتی ہے امرِ مثبت ہے کہ وہ جگہ وہ مقام اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اتنا معزز ہوجاتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس کی قسمیں کھاتا ہے ۔ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے وجودِ مسعود کی برکات ہی نے مکۃ المکرمہ کو بھی اﷲ تعالیٰ کے پاس قابلِ ذکر بنایا ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
’’میں اس شہر (مکہ ) کی قسم کھاتا ہوں ۔ ( اے حبیب مکرم! ) اس لئے کہ
آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں ‘‘۔  ( سورۃ البلد: آیت :۱۔۲)
معلوم ہوا کہ جب نبیٔ مکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم مکہ میں ہوں تو ، اس شہر کو لائق قسم بنایا جاتا ہے اور جب نہ ہوں تب اس کی قسم نہیں اُٹھائی جاتی ، جیسا کہ ایک اور معنیٰ کی رُو سے ترجمہ یوں ہوگا :
’’میں (اُس وقت ) اس شہر مکہ کی قسم نہیں کھاؤں گا ( اے حبیب ! )
جب آپ اس شہر سے رخصت ہوجائیں گے ‘‘۔ ( تفسیر قرطبی)
جب حضور صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم اس شہر مکہ سے نکل جائیں گے تب عدم وجودِ رسالت کی بناء پر اُم القریٰ ہوکر بھی مکہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک لائق قسم نہیں رہتا ۔ وہ وجود محمدی ﷺ ہی کی خیرات ہے جو مکان و مکین کی عزت و سرفرازی کا باعث بنتی ہے ، اگر کسی مخلوق کا تعلق و نسبت اُس وجودِ بابرکت سے ٹوٹ جاتا ہے تو چاہے وہ کوئی ہو اﷲ تعالیٰ کے پاس ہیچ ہوجاتا ہے ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم اس شہر مکہ سے روانہ ہوجائیں تو یہ شہر کی قسم نہیں کھائی جائیں گی تو پھر یہ اعزازِ قسمی کس کو دیا جائے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے حبیب صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم جدھر ہوں گے وہی شہر اﷲ تعالیٰ کے الطاف و اعزاز کا مرکز اور وہی قابل قسم ہوگا ۔ چونکہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کا وجودِ مسعود زمانۂ ہجرت سے آج تک مدینہ پاک میں اپنی جنبش نورانی سے اُمت کو مستفیض کررہا ہے لہذا یہی وہ شہر ہے جس کی قسم اﷲ تعالیٰ اُٹھاتا ہو ۔
قرآن نے قسم کھائی ، اُس شہر کی اماں کی
جس شہر کی گلیوں نے تجھے وِرد کیا ہے
ہمارے اس جواب کی حمایت احادیث ِ مبارکہ کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ حضور اکرم ﷺنے فرمایا : ’’مدینہ کے راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں ، اس میں نہ دجال آئے گا اور نہ ہی طاعون‘‘ (بخاری و مسلم )
پس جہاں نہ دجّال جیسے شیاطین کا داخلہ ممکن ہو اور نہ طاعون جیسی مہلک وباؤں کا تو وہ سرزمین شہر اماں ہی ہوگی جس کی قسم اﷲ تعالیٰ نے اُٹھائی ہو :
’’اور اس امن والے شہر کی قسم ‘‘ (سورۃ التین ، آیت :۳)
مدینہ طیبہ یہ وہ بستی ہے کہ جہاں حضور نبی اکرم ﷺ کا روضۂ انور ہے ، جس پر کروڑوں مسلمانوں کی جانیں قربان ہیں ، جس کے بارے میں حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا : ’’یہ وہ بستی ہے جو تمام بستیوں پر باعتبارِ فضائل و برکات غالب ہے ‘‘ ۔ (بخاری و مسلم )
ایسے مقدس شہر کے تقدس کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والے ، جہنم کی دہکتی آگ کا ایندھن ہیں۔ یہ شرپسند غیراخلاقی و بے ایمان افراد کہ جو اس شہر کا امن و سکون برباد کرنا چاہتے ہیں ، وہ دراصل اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے خسارے کاسودا کررہے ہیں۔ حضور اکرم ﷺنے فرمایا : جو شخص اہل مدینہ کو ڈرائے گا ، اﷲ تعالیٰ اسے خوف میں ڈالے گا ‘‘۔ ( بخاری و مسلم )
’’جو اہل مدینہ پر ظلم کرے اور انھیں ڈرائے وہ خوف میں مبتلا ہوگا اور اس پر اﷲ اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور اس کا نہ فرض قبول کیا جائے گا نہ نفل ‘‘۔ ( نسائی ، طبرانی )
وہ جنھوں نے اﷲ تعالیٰ کے دین کا نام لیکر لوگوں کو خوف زدہ کر رکھا ہے اور دنیا بھر میں دہشت گردی کی وباء پھیلا رکھی ہے وہ اصل میں خود خائف ہیں اور غلبۂ حق کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے تبھی خودکش دھماکوں اور ہوائی حملوں سے ان مقدس مقامات کو نقصانات پہنچانا چاہتے ہیں جہاں سے عوالم خلقت کو ایمان کی حرارتیں نصیب ہوتی ہیں ۔ جہاں سے لوگوں کے سینوں میں جذباتِ ایمانی کی شمعیں فروزاں کی جاتی ہیں جو مومنین کے ایمان کا مرکز و محور ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان مقامات کو مٹادیا جائے تو مسلمانوں کے اعتقاد تبدیل کئے جاسکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی حب نبوی ﷺ جو کہ روحِ ایمان ہے اسے دل و دماغ سے نکال کر مسلمانوں کو چلتی پھرتی کھوکھلی عمارت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور صرف فرائض اور ظاہری احکام کورسمی طورپر ادا کرنے والے پتلے بنانا چاہتے ہیں ۔ جن کے قلوب عشقِ محمدی ﷺ کی تپش و جنوں سے خالی ہوجائیں تاکہ انھیں صفحۂ ہستی سے مٹانا آسان ہوجائے لیکن یاد رہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ہے کہ اس شہرِ عظیم اور شعائرِ اسلام کا ذمہ خود رب العلمین کے سپرد ہے اور تاقیامت اس میں کسی قسم کی شر و فساد کرنے والے خود ہی ملیا میٹ ہوجائیں گے ۔
حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے : ’’جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ فریب کرے گا ایسا گھل جائے گا جیسا نمک پانی میں گُھلتا ہے ‘‘۔ (بخاری و مسلم )
لہذا مسلمان جو دنیا بھر میں ہیں ، انھیں ضبط و تحمل سے کام لینا چاہئے اور اﷲ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے جو اُن ظالموں کے حق میں ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی تربیت میں کمال درجہ کا احتیاط کرنا ہوگا اور ان کے معاملات و اُمور پر گہری نظر رکھتے ہوئے ان کی رہبری کرنی ہوگی تاکہ وہ اس داعش (آئی ایس آئی ایس )کے حواریین سے محفوظ رہیں اور ان کی تربیت اسلامی طرزِ اُلفت و محبت اور پیغمبر امن حضرت محمد مصطفی ﷺ کے پیغامِ امن و اخوت پر کرنی ہوگی تاکہ یہ آگے چل کر ایسی نسلوں میں تشکیل پائیں کہ فتنہ پرور اور دہشت گردوں کی گرد و غبار بھی ان کے عقائد و تعلیمات ، مزاج و اعمال میں فرق نہ لاسکیں اور دنیا میں امن کے سفیر کے طورپر خدمات انجام دیں۔ ہمیں موجود اور آنے والی نسلوں کو حضور اکرم ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کی اہلبیت و اولاد کی محبت اور قرآن کی تفہیم سکھانی ہوگی اور حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ عالیہ کی حیات جو روضۂ اطہر کے اندر بھی اپنے عروج و کمال کے ساتھ ہے اس کا علم یقینی دینا ہوگا ۔ جہاں اولاد کی تربیت صحیح ہوگی تب وہاں وباء  ودہشت کا خوف بھی گزر نہ سکے گا ۔
حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا : ’’اپنی اولاد کی تین خصلتوں پر تربیت کرو ، ایک اپنے نبی کی محبت ، دوسری نبی کی آل اور تیسری تلاوتِ قرآن‘‘ ۔ ( طبرانی)
پس جب یہ چیزیں جمع ہوجائیں گی تو انشاء اﷲ اقدارِ اسلام پر کوئی حرف بھی اُٹھا نہ سکے گا جو مشقتوں سے اس وقت اہلِ مدینہ دوچار ہیں ، اُن کو لیکر دوسرے مسلمانوں میں یقینا غصہ اور غضب بھرا ہوا ہے لیکن یاد رکھیں کہ اس کا استعمال صحیح طرز پر کریں اور اولاد کو راہِ ہدایت کی طرف مائل کریں ۔ اﷲ تعالیٰ اہلِ مدینہ کا محافظ ہے اور حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ہے کہ : ’’جو مدینہ کی تکلیف و مشقت پر ثابت قدم رہے گا حضور اکرم ﷺ قیامت کے دن اس کی شفاعت فرمائیں گے‘‘۔ ( مسلم )
اس مضمون کا حاصل یہ ہے کہ انتشار اور غم و غصہ کو غلط راہ میں نہ جانے دیا جائے اور اس پر بے اختیاری سے پہلے قابو پایا جائے کہ  ؎
خلافِ معشوق کچھ ہوا ہے ، نہ کوئی عاشق سے کام ہوگا
خدا بھی ہوگا وہیں ائے دل ، جدھر وہ عالی مقام ہوگا
اﷲ تعالیٰ ہم تمام کو صبر و تحمل عطا فرمائیں اور غیراسلامی تنظیم آئی ایس آئی ایس سے امان دے اور اس کے خلاف پرامن احتجاج کی توفیق عطا فرمائے  اور اسلام کے پیام انسانیت کو دو عالم پر ظاہر فرمائے ۔ آمین
آخر میں دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہم سب  کو حب نبیؐ و اہلبیت سے سرفراز فرمائے  ؎
میری آنے والی نسلیں تیرے ؐ  عشق ہی میں مچلیں

TOPPOPULARRECENT