Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / حرم شریف سانحہ کے شہیدوں کی تعداد 107 ، تحقیقات کا آغاز

حرم شریف سانحہ کے شہیدوں کی تعداد 107 ، تحقیقات کا آغاز

جاں بحق ہونے والوں میں 2 ہندوستانی خاتون عازمین حج شامل ، طوفانی ہواؤں کے باعث حادثہ : سعودی عرب

مکہ معظمہ۔12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی حکام نے کہا کہ جمعہ کو حرم شریف میں پیش آئے سانحہ میں شہیدوں کی تعداد بڑھ کر 107 ہوگئی ہے۔ مسجد الحرام کے توسیعی پراجکٹ کے تحت تعمیراتی کاموں کیلئے رکھے گئے کرین کے انہدام سے یہ حادثہ پیش آیا جس کی تحقیقات کا آغاز ہوا ہے۔ کنسٹرکشن کی بڑی کمپنی سعودی بن لادن گروپ کے ذمہ مسجد الحرام کی توسیع اور ابرج البیت پراجکٹ کی تعمیر بھی ہے۔ مکہ معظمہ کے حرم شریف میں سالانہ حج کیلئے اقطاع عالم سے آنے والے لاکھوں مسلمان عبادت و طواف میں مصروف تھے۔ شہیدوں میں ہندوستان کے 2 شہری بھی شامل ہیں جن کا تعلق کیرالا اور مغربی بنگال سے بتایا گیا ہے۔ جدہ میں انڈین کونسلیٹ نے بتایا کہ کیرالا کی مومنہ اسماعیل شہید ہوئیں۔ بنگالی شہری کے تعلق سے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے آج کولکاتا میں کہا کہ آسنسول کی منیزہ احمد شہید ہوگئی ہیں۔ ویسٹ مدناپور کے لیاقت حسین اور مالدہ کے ہاشم علی 15 ہندوستانی زخمیوں میں شامل ہیں۔ سانحہ کے جملہ زخمیوں کی تعداد کم از کم 238 بتائی گئی ہے۔ بڑا کرین مسجد پر گرنے کے فوری بعد عازمین میں سراسمیگی پھیل گئی۔ یہاں جمعہ کی نماز کے لئے لاکھوں عازمین کا اجتماع تھا۔ حج کیلئے لاکھوں عازمین مکہ معظمہ پہونچ چکے ہیں۔ سعودی عہدیداروں نے کہا کہ یہ سانحہ کے باوجود اس سال مناسک حج کا عمل پرسکون طور پر مکمل ہوگا۔ بلاشبہ اس سانحہ کا حج کے انتظامات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ مناسک حج کا آغاز ہونے کیلئے ابھی چند دن باقی ہیں۔ انڈونیشیا نے جو دنیا کا سب سے بڑا مسلم آبادی والا ملک ہے، کہا کہ اس سانحہ میں اس کے بھی 2 شہری شہید ہوئے ہیں جبکہ ملائیشیا اور ایران نے کہا کہ مہلوکین میں ان کے شہری بھی شامل ہیں۔ ساری دنیا کے قائدین نے سانحہ پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ مکہ معظمہ کے گورنر شہزادہ خالدالفیصل نے سانحہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

حرم شریف میں خدمت انجام دینے والے ایک خادم عبدالعزیز ناقورنے بتایا کہ اس نے دیکھا کہ تیز ہواؤں کے بعد بڑا تعمیراتی کرین گر رہا ہے۔ اگر درمیان میں ال طواف بریج نہ ہوتا تو پھر جانی نقصان اور زخمیوں کی تعداد اور زیادہ ہوسکتی تھی۔ کرین گرنے سے حرم شریف کے ایک باب الداخلہ کو نقصان پہونچا ہے۔ مقامی صحافی کمال ادریس نے بتایا کہ کل رات سعودی اور بیرونی باشندوں کی طویل قطار دواخانوں کے باہر دیکھی گئی ہے تاکہ اس سانحہ میں زخمی ہونے والے افراد کو خون کا عطیہ دے سکیں۔ ایک دواخانہ کے باہر زائد از 100 افراد کو سڑک پر قطار میں انتظار کرتے ہوئے دیکھا گیا جو خون کا عطیہ دینے کیلئے جمع تھے۔ ٹوئٹر پر اس سانحہ کی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ خون میں لت پت نعشیں کرین کے اوپری حصہ کے نیچے دب گئی ہیں۔ سفید اور سرخ رنگ کے کرین کو مسجد کے فرش پر گرا دکھایا گیا ہے۔ فرش اندر کی جانب دھنس گیا ہے۔ اس کرین کے اطراف دیگر کئی کرینس بھی ہیں۔ اس سانحہ کے ایک گھنٹہ بعد مغرب کی نماز کیلئے لاکھوں عازمین صف باندھ کر کھڑے نظر آئے۔ حرم شریف کے ترجمان محمد المنصوری نے کہا کہ کرین کا یہ حصہ مقامی وقت شام 5 بجکر 10 منٹ (ہندوستانی وقت کے مطابق 7 بجکر 40 منٹ) پر گرا۔ کرین گرنے کا سبب تیز ہوائیں اور شدید بارش بتائے گئے۔ مکہ اسلامک ہیرٹیج ریسرچ فاؤنڈیشن کے عہدیدار عرفان ال للوی نے بتایا کہ کرین کے گرنے کی آواز ایک بم پھٹنے کے مانند تھی۔ انہوں نے حکام کو متنبہ کیا تھا  کہ حرم شریف کے اطراف اتنی تعداد میں کرین نہ رکھے جائیں لیکن انہوں نے اسے نظرانداز کردیا۔ تعمیرات کے ذمہ داروں نے اس مقام کی تاریخی اہمیت کی پرواہ نہیں کی اور عوامی صحت و سلامتی پر بھی خاطرخواہ توجہ نہیں دی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ 910,000 عازمین حج سلطنت کو پہنچ چکے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ امریکہ اس گھڑی میں  سعودی عرب کے ساتھ ہے۔

 

مکہ سانحہ پر صدرجمہوریہ، نائب صدر ، وزیراعظم کا اظہارِ دکھ
نئی دہلی، 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی ، نائب صدر حامد انصاری اور وزیراعظم نریندر مودی نے مکہ معظمہ کے حرم شریف میں کرین سانحہ میں کم از کم 107 عازمین حج شہید ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور تعزیت پیش کی۔ اس سانحہ میں دو ہندوستانی بھی شہید ہوئے جبکہ 238 زخمیوں میں بھی ہندوستانی شامل ہیں۔ پرنب مکرجی نے شہید عازمین کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے وہ دعاگو ہیں۔ نائب صدر حامد انصاری نے بھی شہیدوںکے خاندان والوں کو تعزیت پیش کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم مودی نے اپنے ٹوئٹر پیام میں کہا کہ میری دعا ہے کہ خدا کرین سانحہ میں جاں بحق عازمین حج کے رشتہ داروں کو صبر جمیل عطا کرے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کردے۔ جدہ میں ہندوستانی قونصل خانہ کے عہدیداروں نے صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT