Monday , August 21 2017
Home / مضامین / حرم شریف میں کرین سانحہ سعودی حکومت کے مثالی اقدامات

حرم شریف میں کرین سانحہ سعودی حکومت کے مثالی اقدامات

فیض محمد اصغر
سعودی عرب نے عازمین حج اور معتمرین کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ حکومت اور عوام عازمین کو اللہ تعالی کے مہمان (ضیوف الرحمن) تصور کرتے ہیں ۔ سعودی حکومت کی جانب سے تقریباً دو دہوں سے حرم شریف کے توسیعی پراجکٹ پر کام جاری ہے ۔ اور یہ کام بن لادن کنسٹرکشن کمپنی انجام دے رہی ہے ۔ حرف شریف کا یہ تیسرا توسیعی منصوبہ ہے جس پر 100 ارب ڈالرس کے مصارف سے عمل آوری کی جائے گی ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ عازمین حج اور معتمرین کی تعداد میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے ۔ ہر سال زائد از 30 لاکھ خوش نصیبوں کو حج بیت اللہ اور روضہ رسولﷺ پر حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوتی ہے ۔ عازمین حج کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر سعودی حکومت حرمین شریفین کی توسیع پر مسلسل توجہ مرکوز کرتی ہے ۔چنانچہ 356800 مربع میٹر پر محیط حرم شریف کامپلکس میں بھی توسیعی کام بڑی تیزی سے جاری ہے ۔ اور اس کیلئے بن لادن کمپنی کا دعوی ہے کہ اس نے تمام حفاظتی انتظامات کررکھے ہیں ۔

گذشتہ جمعہ کو چھت پھاڑ کر کرین گرنے کا جو سانحہ پیش آیا اس بارے میںیہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی مرضی ہے ۔ جب موت کا وقت آتا ہے تو اسے کوئی نہیں ٹال سکتا ۔ کسی بھی بہانے سے موت آتی ہے ۔ لہذا عازمین حج کی شہادت کا بہانہ بھی کرین کا گرنا بن گیا ۔ اس سانحہ میں 111 عازمین حج جاں بحق اور 344 زخمی ہوئے ہیں ۔ خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز نے سانحہ کے فوری بعد نہ صرف مقام واردات کا معائنہ کیا بلکہ شہداء کے رشتہ داروں سے ملاقات بھی کی ، ساتھ ہی زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے ان سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ۔ شاہ سلمان کی جانب سے ہر شہید کے ورثاء کو ایک ملین ریال تقریباً تین کروڑ روپے ، زندگی بھر معذور ہونے والوں کو فی کس ایک ملین اور دیگر زخمیوں کو فی کس 5 لاکھ ریال بطور معاوضہ پیش کرنے کا اعلان کیا ۔ حکومت سعودی عرب کا یہ اقدام اس لئے غیر معمولی ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ایسے بے شمار واقعات پیش آتے ہیں ۔ حکومتیں معمولی معاوضوں کی ادائیگی کے اعلانات کرتی ہیں لیکن اس پر عمل آوری میں ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے ۔ سعودی حکومت نے شہدا اور زخمیوں کے ورثاء کے لئے غیر معمولی اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ بن لادن کنسٹرکشن کمپنی کی سرگرمیوں کو معطل بھی کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ بن لادن خاندان کے ارکان کے بیرونی سفر پر تحقیقات کی تکمیل تک پابندی بھی عائد کردی ہے ۔ شاہ سلمان کا یہ اقدام دوسری حکومتوں کے لئے قابل تقلید ہے ۔ سعودی حکومت نے جس بن لادن گروپ کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی ہے وہ نہ صرف حرم شریف کے توسیعی پراجکٹ پر کام کررہا ہے بلکہ نئے مکانات ، رنگ روڈس ، پارکنگ لاٹس ، ہوٹلوں ، عبوری پلوں ، زیر زمین راستوں کے پراجکٹس پر بھی کام کررہا ہے ۔

سعودی عرب میں خاص بات ہے کہ وہاں حکومت ہر دو برس میں حرم شریف اور اس کے اطراف ایک نئے تعمیراتی منصوبہ کا اعلان کرتی ہے ۔ فی الوقت سارے مکہ شریف میں تعمیری کام تیزی سے جاری ہے ۔ اس کیلئے قدیم ورثا کے تحفظ کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ خود سعودی عوام نے قدیم آثار کے وجود کو مٹانے کی کوشش پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں راقم الحروف عینی شاہد ہے کہ 1980 سے لیکر موجودہ دور تک کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ جس کی کوئی مثال نہیں ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ حکومت نے ماہ رمضان میں حرم شریف کے جس تیسرے توسیعی منصوبہ کا آغاز کیا اس پر عمل آوری کے بعد حرم شریف میں 1,85,000 عازمین حج کی گنجائش پیدا ہوگی  ۔ہم نے مکہ مکرمہ میں تعمیری کاموں کے زور و شور سے جاری ہونے کا ذکر کیا ہے ۔ اس ضمن میں یہ بھی بتادیں کہ آئندہ سال سعودی حکومت دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل تعمیر کررہی ہے جس میں 10 ہزار کمرے ہوں گے ۔ دوسری طرف بلند و بالا مکہ ٹاور سعودی حکومت کے تعمیری منصوبوں پر کامیاب عملدرآمد کی واضح مثال ہے ۔ جہاں تک حرم شریف میں پیش آئے کرین سانحہ کا تعلق ہے ، تعمیری منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر وہاں دنیا کے بلند ترین کرین ٹھہرائے گئے ہیں اور پچھلے تین دہوں سے ان کرینوں کا استعمال ہورہا ہے تاہم کوئی سانحہ پیش نہیں آیا ۔ لیکن پچھلے جمعہ کو جو سانحہ پیش آیا وہ طوفانی ہواؤں کے باعث پیش آیا ہے ۔ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ اس کے باوجود سعودی حکام نے اس واقعہ پر جس انداز میں قابو پایا اور شہدا کے لواحقین کو کثیر معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے اس سے حرف شریف کے پراجکٹ میں سعودی حکومت کی سنجیدگی اور عازمین حج کے تئیں اس کے خلوص کا اظہار ہوتا ہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT