Wednesday , August 23 2017
Home / ہندوستان / حریت کانفرنس میں علحدگی پسند قائدین کی شمولیت

حریت کانفرنس میں علحدگی پسند قائدین کی شمولیت

سنگھ پریوار سے درپیش چیلنجس کا مقابلہ کرنے کا عزم
سرینگر ۔ 9 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : سید علی شاہ گیلانی کی زیر قیادت سخت گیر حریت کانفرنس کو آج اس وقت نئی جہت اور تقویت حاصل ہوئی جب 3 ممتاز علحدگی پسند قائدین بشمول شبیر شاہ نے کانفرنس میں شمولیت اختیار کرلی تاکہ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے لیے اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانے ایک متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جاسکے ۔ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے شبیر شاہ ، نیشنل فرنٹ کے نعیم خاں اور انجمن شیر شعیان کے آغا سید حسن المسوی نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں گیلانی کی زیر قیادت گروپ میں شمولیت کے فیصلہ کا اعلان کیا جب کہ گذشتہ سال شبیر شاہ اعتدال پسند گروپ زیر قیادت میر واعظ عمر فاروق سے علحدگی اختیار کر کے علحدہ تنظیم قائم کرلی تھی جس کا آج شدت پسند حریت کانفرنس میں انضمام عمل میں لایا گیا ۔ مذکورہ قائدین کا خیرمقدم کرتے ہوئے سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ان کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے ہیں جو کہ ہماری تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کے خواہش مند ہیں

انہوں نے کہا کہ علحدگی پسند قائدین کو کئی ایک چیلنجس درپیش ہیں جس کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے ہم جسمانی ، ذہنی اور نظریاتی طور پر متحد ہوں گے ۔ علحدگی پسند لیڈروں کی جدوجہد پر متواتر تحدیدات کی مذمت کرتے ہوئے گیلانی نے چیف منسٹر مفتی محمد سعید کو انتباہ دیا کہ اگر یہ پالیسی برقرار رہے گی تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ مفتی صاحب خبردار ۔ ہمیں اور عوام کو مذہبی فرائض ادا کرنے دیجئے اور تمہیں سماجی ، اخلاقی اور قانونی اختیار نہیں ہے اگر تم غیر جمہوری روش پر قائم رہیں گے تو سنگین عواقب نتائج بھگتنے پڑیں گے ۔ اس موقع پر شبیر شاہ نے بتایا کہ سال 2008 میں ہی علحدگی پسندوں کے اتحاد کی کوشش شروع کردی گئی تھی لیکن اب تو سنگھ پریوار اور بی جے پی سے زبردست چیلنج درپیش ہے جو کہ مشن کشمیر کے نام پر ہماری آزادی کو کچلنے کے درپہ ہے اور چیلنجس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT