Wednesday , October 18 2017
Home / سیاسیات / حریت کی دعوت پر مرکز اور بی جے پی کا متضاد موقف

حریت کی دعوت پر مرکز اور بی جے پی کا متضاد موقف

سیاحت کے فروغ کا خیرمقدم : مہیش شرما ۔ اِرادے مشکوک : رام مادھو
نئی دہلی؍جموں۔ 7 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مودی حکومت اور بی جے پی نے آج علیحدگی پسند حریت کانفرنس کی سیاحوں اور یاتریوں کو وادی کشمیر کی دعوت کے تعلق سے متضاد موقف اختیار کیا۔ حکومت نے جہاں اس پیشرفت کا ’خیرمقدم‘ کیا، وہیں بی جے پی نے اسے محض ایک ’دِکھاوا‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ منسٹر آف اسٹیٹ سیاحت مہیش شرما نے اس پہل کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام کو میرا سلام جو سیاحت کے فروغ کی تائید کرتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کا ویژن بھی یہ ہے کہ وادی میں عام حالات بحال ہوں۔ یہاں سیاحتی شعبہ کو فروغ ملے اور اس ضمن میں جو بھی قدم اُٹھایا جائے گا، ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ کرن رجیجو نے کہا کہ ہر شخص کو سیاحت کے فروغ میں حصہ لینا چاہئے، کیونکہ جموں و کشمیر کیلئے سیاحت ایک انتہائی اہم شعبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں امن قائم ہوگا تو سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ حریت کانفرنس کے دو گروپس اور جے کے ایل ایف نے کل رات ایک بیان جاری کرتے ہوئے حیرت انگیز طور پر سیاحوں اور یاتریوں کو وادی کے دورہ کی دعوت دی اور کہا کہ وہ یہاں کی روایتی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوں اور ان کے تحفظ کی مکمل طمانیت دی جاتی ہے، تاہم بی جے پی کے قومی سیکریٹری رام مادھو نے علیحدگی پسند کے اِرادوں کے بارے میں شبہات ظاہر کئے۔مادھو نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ‘مجھے لگتا ہے کہ علیحدگی پسندوں کی جانب سے سیاحوں کو دی گئی کشمیر آنے کی دعوت میں املا کی غلطی ہے‘۔ مادھو جو پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان بحیثیت رابطہ کار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، مخلوط حکومت کے کام کاج کا جائزہ لینے کیلئے جموں کے دو روزہ دورے پر آئے ہوئے تھے ۔ بی جے پی لیڈر نے کہا ‘علیحدگی پسندوں نے دہشت گردوں کو دعوت دی ہوگی، سیاحوں کو نہیں’۔رام مادھو نے کہا ‘ایک طرف وہ (علیحدگی پسند) سیاحوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتے ہیں اوردوسری طرف ہڑتالی کلینڈروں میں توسیع کرتے ہیں’۔ انہوں نے کہا ‘سیاحت اور ہڑتالی کلینڈر ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، یہ دونوں ایک ہی کشتی میں سوار نہیں ہوسکتے ‘۔ صدر نیشنل کانفرنس فاروق عبداللہ کے بیان پر کہ اُن کی جماعت کشمیر کی موجودہ تحریک کے ضمن میں حریت کانفرنس کیساتھ کھڑی ہے ، پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی قومی جنرل سکریٹری نے کہا ‘یہ افسوس ناک اور غیرذمہ دارانہ بیان ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ نیشنل کانفرنس کو کیا ہوگیا ہے ، انہوں نے کہاڈاکٹر فاروق جو حریت کی مخالفت کرتے تھے ، اب اُن کی ہی راہ پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ڈاکٹر فاروق علیحدگی پسندوں کی وکالت کررہے ہیں اور دوسری طرف اُن کے صاحبزادے عمر عبداللہ پاکستان کے حق میںبات کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT