Tuesday , October 17 2017
Home / جرائم و حادثات / حریف گینگسٹرس کی ایک ہی جیل میں موجودگی سے پریشان کن صورتحال

حریف گینگسٹرس کی ایک ہی جیل میں موجودگی سے پریشان کن صورتحال

روڈی شیٹر محمد قیصر عدالت سے رجوع ‘ حریف ایوب خان سے خطرہ کے پیش نظر دوسری جیل منتقل کرنے کی درخواست
ایس ایم بلال
حیدرآباد۔/6فبروری۔شہر کے دو گینگسٹرس کی آپسی لڑائی جیل میں بھی ایک نیا رُخ اختیار کرگئی ہے اور ایک گینگسٹر نے عدالت سے رجوع ہوکر اپنی زندگی کو خطرات کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے دوسری جیل منتقل کرنے کی خواہش کی۔ گینگسٹر ایوب خان کو فرضی پاسپورٹ مقدمہ میں ساؤتھ زون پولیس نے 25 ڈسمبر کو چنچلگوڑہ جیل منتقل کیا تھا۔ دو دن قبل ایک اور گینگسٹر محمد قیصر کو بھی جبری وصولی کے ایک مقدمہ میں اسی جیل لایا گیا ہے اور اس کے بعد صورتحال بالکل تبدیل ہوگئی۔ محمد قیصر نے ایوب خان سے خطرہ ظاہر کیا۔ یہ دونوں حریف گینگسٹرس ہیں جس کی وجہ سے جیل میں بھی سیکوریٹی کا مسئلہ درپیش ہوگیا ہے۔ روڈی شیٹر قیصر نے نامپلی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی جانب سے 14دن کی عدالتی تحویل میں دیئے جانے کے دوران ایک درخواست داخل کی تھی جس میں اس نے یہ بتایا کہ چنچلگوڑہ جیل میں اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے اور اسے دوسری جیل منتقل کیاجائے۔ اس سلسلہ میں سب انسپکٹر ہمایوں نگر مسٹر کروناکر ریڈی نے بتایا کہ گینگسٹر قیصر کی جانب سے داخل کی گئی جیل کی تبدیلی کی درخواست پر عدالت سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور وہ زیر التواء ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب سے ممبئی لوٹنے کے بعد ایوب خان کو ایمیگریشن عہدیداروں نے ممبئی انٹر نیشنل ایرپورٹ پر اسے حراست میں لیکر ساؤتھ زون پولیس کے حوالے کردیا تھا اور کاماٹی پورہ پولیس نے اسے ایک فرضی پاسپورٹ کیس میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا اور بعد ازاں اسے ایک ہفتہ طویل پولیس تحویل میں بھی لیا گیا تھا۔ حالیہ دنوں ایوب خان کے خلاف مزید پانچ مقدمات درج کئے جانے کے نتیجہ میں کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر مہیندرریڈی نے اس کے خلاف سخت پی ڈی ایکٹ قانون نافذ کرتے ہوئے اسے ایک سال طویل عرصہ کیلئے جیل بھیج دیا ہے۔ اسی دوران ہمایوں نگر پولیس نے دو دن قبل روڈی شیٹر قیصر کو ٹراویل ایجنسی پارٹنرس اسد خان اور اعظم کے درمیان پیدا ہوئے تنازعہ کی یکسوئی کے دوران اسد کی فارچیونر کار کو جبری طور پر چھین لیا تھا جس کے نتیجہ میں روڈی شیٹر کے خلاف ٹاسک فورس میں شکایت درج کروائی گئی تھی اور اسے فوری گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ ایوب خان اور  محمد قیصر کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے شہر میں تسلط کیلئے دونوں گینگس کے درمیان کئی جھگڑے اور وارداتیں رونما ہوئی ہیں۔ 2010 میں قیصر نے مبینہ طور پر ایوب خان کے ایک قریبی رشتہ دار محمد فضل الدین عرف فضل روڈی شیٹر کا علاقہ نامپلی میں بے رحمانہ طور پر قتل کروادیا تھا۔ جبکہ سال 2011میں قیصر کو ایوب خان کی گینگ کے اہم رکن اشفاق روڈی شیٹر کالا پتھر پولیس اسٹیشن کو قتل کی سازش تیار کرنے کے الزام کے تحت ٹاسک فورس نے گرفتار کرلیا تھا اور جیل سے رہا ہونے کے بعد سال 2012 میں قیصر کو اسوقت کے کمشنر پولیس مسٹر اے کے خان نے 6 ماہ کیلئے شہر بدر کردیا تھا۔ روڈی شیٹر قیصر نے مبینہ طور پر اشفاق روڈی شیٹر کو قتل کرنے کے منصوبہ کے تحت ناندیڑ سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ خنجر حاصل کرتے ہوئے انہیں شہر منتقل کیا تھا اور اسے دوبارہ ٹاسک فورس نے گرفتار کرلیا تھا۔ ایوب خان کی گینگ کے اہم ارکان اشفاق ، معراج، رستم، غوث، بابا اسٹک، عبید، حبیب قریشی اور اسد ہیں جبکہ قیصر گینگ کے ارکان محمد بن عبداللہ، ابراہیم، یوسف ماموں، بورا بنڈہ فیروز، واحد، بیگم بازا شہباز، سید مجید، اور تبریز خان ہیں۔ کمشنر ٹاسک فورس وقفہ وقفہ سے دونوں گینگس کے ارکان کے خلاف کارروائی کرتی رہی ہے اور حالیہ دنوں مذکورہ روڈی شیٹرس کی کونسلنگ بھی کی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT