Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / حسن روحانی کی دوسری صدارتی معیاد کیلئے بھاری اکثریت سے فتح

حسن روحانی کی دوسری صدارتی معیاد کیلئے بھاری اکثریت سے فتح

Iran's President Hassan Rouhani visits the election office in Tehran, Iran, May 19, 2017. Picture taken May 19, 2017. President.ir/Handout via REUTERS ATTENTION EDITORS - THIS PICTURE WAS PROVIDED BY A THIRD PARTY. FOR EDITORIAL USE ONLY. NO RESALES. NO ARCHIVE.

تشدد و انتہاپسندی کا دور ختم ، ’’عقل و اُمید‘‘ کی کامیابی ۔ اعتدال پسند قائدین کا ادعاء معیشت کے استحکام کو ترجیح
تہران ۔20 مئی ۔(سیاست ڈاٹ کام) ایران کے صدر حسن روحانی اسلامی جمہوریہ کے صدارتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے شاندار فتح کے ساتھ دوبارہ منتخب ہوگئے ۔ رائے دہندوں نے اپنے ملک کی لڑکھڑاتی معیشت کو مستحکم بنانے اور بیرونی تعلقات کی تعمیرنو کیلئے اُن کی مساعی کی بھرپور ستائش کی ہے۔ وزیرداخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اس نتیجہ کی توثیق کی اور کہاکہ فاتح امیدوار روحانی کو 23.5 ملین یعنی تقریباً 57 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ان کے حریف سخت گیر امیدوار ابراہیم رئیسی کو 15.8 فیصد یعنی 38.3 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ۔ ایران میں جمعہ کو منعقدہ رائے دہی میں 73 فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔ رائے دہندوں کی بھاری تعداد کے پیش نظر حکام کو پولنگ کے وقت میں کئی گھنٹوں کی توسیع کیلئے مجبور ہونا پڑا تھا ۔ نائب صدر اسحاق جہانگیری نے حکومت کے نعرہ ’’عقل و امید‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ٹوئٹر پر مبارکباد دی اور کہا کہ ’’میں ’عقل و امید‘ کے راستہ پر برقراری کیلئے ایک عظْم اور یادگار تاریخ بنانے پر ایرانی قوم کو اس عظیم فتح پر مبارکباد دیتا ہوں‘‘ ۔ اعتدال پسند عالم دین 68 سالہ حسن روحانی نے 2015ء میں عالمی طاقتوں کے ساتھ نیوکلیئر سمجھوتہ کیلئے مساعی کی قیادت کی تھی اور رواں انتخابی مہم کو عظیم تر شہری آزادیوں اور انتہاء پسندی کے مابین انتخابی مقابلہ قرار دیا تھا ۔ 56 سالہ سخت گیر عالم دین ابراہیم رئیسی نے خود کو غریبوں کے حامی کے طورپر پیش کیا تھا اور مغربی ممالک کے ساتھ مزید سخت موقف اختیار کرنے پر زور دیا تھا لیکن محنت کش طبقات کیلئے سہولتوں میں اضافہ کا وعدہ اور انقلابی پروپگنڈہ کا ووٹروں پر محدود اثر مرتب ہوسکا ۔

ایک مفکر ادارہ انٹرنیشنل کرائیسیس گروپ کے تجزیہ نگار علی واعظ نے کہا ہے کہ ’’روحانی کے ووٹوں بالخصوص دیہی علاقوں میں ان کے حق میں ہوئی رائے دہی سے ظاہر ہوگیا ہے کہ ایرانی عوام کو اب معاشی اُمور پر پرفریب نعروں اور انقلابی تبدیلیوں کے وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں رہا‘‘ ۔ واعظ نے اے ایف پی سے مزید کہاکہ ’’ان (رائے دہندوں) میں یہ سمجھنے کیلئے پختگی پیدا ہوگئی ہے کہ ان کے ملک کے حالات و مسائل کا حل معیشت کے موثر انتظامات اور بین الاقوامی تعلقات میں اعتدال میں مضمر ہے‘‘ ۔ حسن روحانی کی پہلی میعاد کا اصل کارنامہ امریکہ کے زیرقیادت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ نیوکلیئر سمجھوتہ ہے جس کے تحت اسلامی جمہوریہ کے نیوکلیئر پروگرام میں تخفیف و پابندیوں کے بدلے اقتصادی پابندیوں سے نجات مل سکی ہے ۔ روحانی کو اس ہفتہ مزید راحت ملی جب واشنگٹن نے نیوکلیئر سے متعلق پابندیوں کی برخاستگی کا عمل جاری رکھنے اور فی الحال اس سمجھوتہ کو جاری رکھنے سے اتفاق کیا تھا ۔ اس کے باوجود امریکہ کے ساتھ ایران کے تعلقات میں کشیدگی کے ماحول میں یہ انتخابات منعقد ہوئے تھے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ طے شدہ نیوکلیئر سمجھوتہ کو ترک کرنے کی دھمکی دی تھی اور ایران کے کٹر علاقائی حریف سعودی عرب کے دورہ کا آغاز کیا۔ حسن روحانی اگرچہ ایران میں اسلامی انقلاب کے اوائل میں سکیورٹی انتظامیہ سے قریبی وابستگی رکھتے تھے لیکن 2009 ء میں اصلاح پسندوں کی تحریک کمزور ہونے کے بعد وہ اصلاحات و معیارات کے علمبردار کی حیثیت سے اُبھرے تھے ۔ روحانی نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران بار بار یہ کہا تھا کہ ’’ہم یہ کہنے کے لئے اس انتخاب میں اُترے ہیں کہ جنھوں نے تشدد و انتہاپسندی کا ارتکاب کیا تھا اب اُن کا دور ختم ہوچکا ہے ‘‘ ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT