Tuesday , July 25 2017
Home / دنیا / حسینہ پر بنگلہ دیشہندوستان کے ہاتھ فروخت کرنے کا الزام

حسینہ پر بنگلہ دیشہندوستان کے ہاتھ فروخت کرنے کا الزام

عوام سے غداری کا الزام ‘بنگلہ دیش کی صیانت اور بقاء خطرہ میں ‘ قائد اپوزیشن بنگلہ دیش خالدہ ضیاء کا بیان

ڈھاکہ۔9اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی قائد اپوزیشن خالدہ ضیاء نے وزیراعظم شیخ حسینہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے ملک کو ہندوستان کے ہاتھ فروخت کر کے زندگی بھر برسراقتدار رہنے کے خواب کو حقیقت میں بدلنا چاہتی ہے ۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اہم شعبوں جیسے دفاع میں 22معاہدوں پر دستخط کے چند گھنٹوں بعد سابق وزیراعظم و صدر اور اہم اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنے پارٹی پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے کل رات کہا کہ شیخ حسینہ زندگی بھر برسراقتدار رہنے کے خواب کو حقیقت میں بدل دینے کیلئے ایسے کام کررہی ہیں ۔ انہوں نے ملک کے لئے کچھ نہیں رکھا ‘ ہرچیز فروخت کردی ہے ۔ خالدہ ضیاء کا یہ تبصرہ وزیراعظم شیخ حسینہ کے چار روزہ دورہ ہند کے دوران اہم شعبوں بشمول دفاع و شہری ہوابازی کے 22 معاہدوں پر دستخط کے چند گھنٹوں بعد منظر عام پر آیا ہے حالانکہ تیستا آبی معاہدہ اور سیول معاہدہ کے بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ۔ نریندر مودی نے اپنی حکومت کی جانب سے اس تنازعہ کی عاجلانہ یکسوئی کا تیقن دیا ۔ شیخ حسینہ نے کہاکہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی اپنے ملک کو فروخت کر کے خود باقی نہیں رہ سکا ۔ شیخ حسینہ کے ساتھ جامع تبادلہ خیال کے بعد وزیراعظم ہند نے بنگلہ دیش کیلئے نئی رعایتوں کا اعلان کیا ۔ 71سالہ خالدہ ضیاء اور 69سالہ شیخ حسینہ جنگ کرنے والی بیگمات کے نام سے شہرت رکھتی ہیں ۔

دونوں ایک دوسرے کی کٹر حریف ہیں جس کی وجہ سے تقریباً 30سال سے بنگلہ دیش کی سیاست زہریلی ہوگئی ہے ۔ قبل ازیںبی این پی نے شعبہ دفاع کے معاہدہ کو بنگلہ دیش کے سلامتی نظام کو ہندوستان کے سامنے بے نقاب کردینے کا الزام عائد کیا تھا ۔ بی این پی کے ترجمان روح الکبیر رضوی نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی دفاعی ترقی ہندوستان پر ظاہر ہوجائے گی ۔ برسراقتدار عوامی لیگ کی جنرل سکریٹری اور روڈ ٹرانسپورٹ اور پلوں کے وزیر عبیدالقادر نے پُرزور انداز میں کہا کہ بی این پی کو مفاہمتوں کی یادداشتوں کے بارے میں تفصیلات سے واقف کئے بغیر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہیئے ۔ 22 یادداشتوں پر ہندوستان اور بنگلہ دستخط کرچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹکنالوجی کا دور ہے کوئی بھی سودا پوشیدہ رکھا نہیں جاسکتا ۔ دریں اثناء سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بی این پی نے اپنا وجود منوانے کا ایک موقع دیکھا اور 2014ء کے انتخابات کے بائیکاٹ کی وجہ سے یہ پارٹی تقریباً ختم ہوچکی ہے ۔ قبل ازیں وہ پارلیمنٹ میں طاقتور حریف کی حیثیت رکھتی تھی ۔ شیخ حسینہ نے گذشتہ ماہ الزام عائدکیا تھا کہ ہندوستان کے بارے میں بی این پی ڈوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ جب کہ بی این پی نے دورہ ہند کے موقع پر معاہدات پر دستخط کے بارے میں منفی ردعمل ظاہر کیا تھا ۔ شیخ حسینہ نے عوامی لیگ کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ہندوستان کو گیس فروخت کرنے کا نظریہ سب سے پہلے خالدہ ضیاء نے ہی پیش کیا تھا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT