Thursday , May 25 2017
Home / شہر کی خبریں / حسین ساگر میں گنیش و سرجن میں تخفیف اور بند کرنے کے اقدامات

حسین ساگر میں گنیش و سرجن میں تخفیف اور بند کرنے کے اقدامات

جی ایچ ایم سی سے تالابوں کی تعمیر کے لیے ٹنڈرس کی طلبی ، 20 تا 25 کروڑ کے خرچ کا تخمینہ
حیدرآباد۔12مئی (سیاست نیوز) حسین ساگر میں گنیش وسرجن میں تخفیف اور بتدریج بند کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت شہر میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے 20نئے چھوٹے تالاب تعمیر کئے جا رہے ہیں اور ان میں 16تالابوں کیلئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے ٹنڈرس کے عمل کو بھی قطعیت دی جا چکی ہے اور جاریہ سال جولائی کے اواخر تک 7تا9تالابوں کی تعمیر مکمل کرلی جائے گی۔ریاستی حکومت کی جانب سے حسین ساگر میں گنیش وسرجن بند کرتے ہوئے ساگر کو آلودگی سے پاک بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا تھا لیکن اس سلسلہ میں تاحال کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن اب جی ایچ ایم سی کی جانب سے ٹنڈرس کے عمل کی تکمیل کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ بہت جلد بلدی حدود میں نئے چھوٹے تالاب تعمیر کرلئے جائیں گے جو کہ صرف وسرجن کیلئے مخصوص ہوں گے۔بتایاجاتا ہے کہ اس مقصد کیلئے پاتھی کنٹہ‘ میر عالم ‘ لنگم چیروو‘ بوئن چیروو‘ ناگول ‘ کوٹھا‘ بنڈہ‘ موتھوکلا‘ نلہ چیرووکے علاوہ دیگر علاقو ںمیں یہ تالاب تعمیر کئے جائیں گے جہاں گنیش وسرجن کے مؤثر انتظامات ہوں گے ۔بلدی حدود میں کئے جانے والے ان اقدامات کے متعلق بتایاجا رہا ہے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے گنیش وسرجن کے سبب حسین ساگر میں ہونے والی آلودگی کو دور کرنے کیلئے کئے جانے والے ان اقدامات پر 20تا25کروڑ روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں تاکہ حسین ساگر میں کئے جانے والے وسرجن کو بتدریج بند کیا جا سکے اور اس اہم ترین ذخیرہ آب کو محفوظ رکھنے کے اقدامات میں حکومت کو کامیابی حاصل کی جاسکے۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حسین ساگر میں گنیش وسرجن فوری نہیں بلکہ بتدریج بند کیا جائے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT