Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حصول اراضی کا جی او 123 کالعدم، حکومت خانگی پراپرٹی ڈیلر نہیں

حصول اراضی کا جی او 123 کالعدم، حکومت خانگی پراپرٹی ڈیلر نہیں

ہائیکورٹ کا ریمارک، تلنگانہ میں کئی پراجکٹس متاثر ہونے کا امکان، عدالت کے فیصلہ کا اپوزیشن کی جانب سے خیرمقدم
حیدرآباد ۔  /3 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے مختلف پراجکٹس کی تعمیر کیلئے اراضی کے حصول کی کوششوں کو آج اس وقت دھکا لگا جب حیدرآباد ہائیکورٹ نے اراضی کے حصول سے متعلق جی او 123 کو کالعدم کردیا ۔ عدالت نے عوامی مقاصد اور پراجکٹس کیلئے اراضی کے حصول کی حکومت کی کوششوں پر ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوئی خانگی پراپرٹی ڈیلر نہیں ہے ۔ جسٹس سریش کمار کیت نے آج یہ اہم فیصلہ سنایا جس سے تلنگانہ میں کئی پراجکٹس بشمول ملنا ساگر کے متاثر ہونے کے اندیشہ ہے ۔ جی او 123 کے ذریعہ حکومت زمین مالکین سے اراضی کے حصول کو جلد یقینی بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ عدالت نے میدک ضلع کے جارہ سنگھم منڈل کے موضع بردیپور سے تعلق رکھنے والے تکماں اور 22 دوسرے زرعی مزدوروں کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا ۔

درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نیشنل انوسٹمنٹ اینڈ مینوفیکچرنگ زون کے قیام کیلئے ان کی اراضیات حاصل کررہی ہیں ۔ تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹرئیل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے یہ زون قائم کیا جارہا ہے ۔ درخواست گزاروں نے بتایا کہ وہ ایس سی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے زرعی مزدور ہیں اور اراضی کے حصول کی صورت میں وہ اپنی روزی روٹی سے محروم ہوجائیں گے ۔ عدالت نے اراضی کے حصول سے متعلق قانون 30 ، 2013 ء کی موجودگی میں نئے قانون کی تیاری پر سوال اٹھایا ۔ جج نے کہا کہ اراضی کے حصول کیلئے قانون کی موجودگی کے باوجود اس جی او کی کیا ضرورت تھی ۔ ایکٹ 30 ، 2013 ء کے تحت بے زمین غریبوں کو مختلف فوائد کی گنجائش رکھی گئی ہے ۔ جی او 123 جو جولائی 2015 ء میں تلنگانہ حکومت نے جاری کیا اس میں زرعی مزدوروں کیلئے کسی رعایت یا امداد کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

درخواست گزاروں کا استدلال تھا کہ بے زمین غریبوں کو حکومت اس طرح بے سہارا نہیں چھوڑسکتی اور اراضی کے حصول کے ساتھ ان کی بازآبادکاری کی جانی چاہئیے ۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے استدلال پیش کیا گیا کہ جی او 123 اراضی کے عاجلانہ حصول کیلئے صرف ایک متبادل طریقہ کار ہے ۔ سرکاری وکیل نے کہی کہ جب درخواست گزاروں کی زمین حاصل ہی نہیں کی گئی تو پھر انہیں کس بات کی شکایت ہے ۔ جسٹس سریش کمار کیت نے 40 منٹ سے زائد تک فریقین کی دلائل کی سماعت کی اور اوپن کورٹ ہال میں فیصلہ قلمبند کرایا ۔ عدالت نے کہی کہ مدعی علیہان رٹ پٹیشن میں پیش کئے گئے مسئلہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ عدالت نے یاد دلایا کہ 2013 ء کا قانون 30 میں بے زمین مزدوروں کو مکمل حصہ داری دی گئی اور انہیں متاثرہ خاندان کا درجہ دیا گیا ۔ اس قانون کے دوسرے شیڈول میں متاثرہ خاندانوں کیلئے مختلف فوائد کی گنجائش رکھی گئی ہے ۔ جج نے کہا کہ اگر جی او 123 کے تحت اراضیات حاصل کرلی گیئں تو ان زرعی مزدوروں کو ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا اور یہ قانون ایکٹ 30 کے مغائر ہے ۔ جج نے ریمارک کیا کہ معاوضہ میں اضافہ کے بجائے بازآبادکاری اور ری سیٹلپمنٹ کی ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے جی او 123 کے تحت مختلف پراجکٹس کیلئے اراضیات کے حصول کا آغاز کیا ہے اور ملنا ساگر پراجکٹ کے مسئلہ پر زبردست تنازعہ جاری ہے ۔ ایسے میں عدالت کا یہ فیصلہ تلنگانہ حکومت کیلئے دوررس نتائج کا حامل ثابت ہوگا ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت اس فیصلہ کو ڈیویژن بنچ پر چیالنج کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور کانگریس کے ہیڈکوارٹر گاندھی بھون میں قائدین نے آپس میں مٹھائی تقسیم کی ۔

TOPPOPULARRECENT