Wednesday , August 16 2017
Home / اضلاع کی خبریں / حصول تحفظات کیلئے مسلمانوں میں زبردست جوش و جذبہ

حصول تحفظات کیلئے مسلمانوں میں زبردست جوش و جذبہ

روزنامہ ’’سیاست ‘‘ کی مہم کے ثمر آور نتائج ‘ اضلاع کے بے شمار وفود کی بی سی کمیشن سے نمائندگیاں

نارائن پیٹ  :   روزنامہ ’’سیاست‘‘ کی مہم اور اخبار کے ذریعہ رہنمائی پر نارائن پیٹ کے تقریباً دو سو سے زائد مختلف شعبوں  سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے علاوہ طلباء و طالبات نے بھی بی سی کمیشن سے آن لائن درخواستوںکے ذریعہ نمائندگیاں کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان ملک میں انتہائی پسماندہ ہیں ۔ اس خصوص میں قبل ازیں سچر کمیٹی ‘ رنگناتھ مشرا کمیشن ‘ سدھیر کمیشن نے واضح طور پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی پُرزور سفارش کی ہے ۔ لہذا بی سی کمیشن اس خصوص میں سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے مسلمانوں کیلئے تحفظات کو یقینی بنائے ۔ جناب محمد یونس ( ایم پی جے ) اور جناب محمد ذاکر حسین تاج ‘ صدر مدرس  ماڈرن ہائی اسکول نے اس مہم میں حصہ لیتے ہوئے نمائندگیوں کیلئے آن لائن رہنمائی کی ۔ جناب مجاہد صدیقی نمائندہ ’’سیاست‘‘ نارائن پیٹ نے مسلم تحفظات کیلئے روزنامہ ’’سیاست‘‘ کی مہم کی ستائش کی ۔ بالخصوص جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر کی جانب سے مسلمانوںکو 12فیصد تحفظات کیلئے زبردست تحریک چلانے اور ریاست بھر کے تمام اہم شہروں کا دورہ کر کے مسلمانوں میں شعور بیدار کرنے پر مبارکباد دی ہے ۔ انہوں نے تمام مسلمانوںسے اپیل کی کہ وہ ویب سائٹ reply2bc.comپر آن لائن فارم پر 12فیصد تحفظات کے حق میں نمائندگی کرتے ہوئے فارم داخل کریں ۔
مدور : صدر مسجد کمیٹی کمرویلی ضلع سدی پیٹ جناب محمد لعل باگن نواز پٹیل نے آج بی سی کمیشن سے رجوع ہوکر مسلمانوں کو 12% تحفظات  کو یقینی بنانے کی سفارش کرنے کیلئے صدر بی سی کمیشن مسٹر راملو سے تحریری نمائندگی کی ۔ اس موقع پر انہوں نے ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 12% تحفظات کیلئے بی سی کمیشن سے رجوع ہوکر نمائندگی کرنے کا مشورہ دیا ۔
شاد نگر : مسلمانوں کو 12% فیصد تحفظات فراہمی کیلئے بی سی کمیشن سے کثیر تعداد  میں نمائندگیاں کی گئیں اور مسلمانوں کی پسماندگیکے خاتمہ کیلئے حکومت سے موثر سفارش کرنے کا بی سی کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ۔ صدر تنظیم ائمہ اہل سنت الجماعت شاد نگر حافظ سید منور علی کی قیادت میں شاد نگر کا ایک وفد بی سی کمیشن سے نمائندگی کی ۔ اس موقع پر حافظ منصور علی خان ‘ اسد اللہ خان ‘ محمد معین الدین خان ‘ محمد عبدالعزیز ‘ آصف علی خان ‘ سراج خان ‘ عارف علی خان ‘ محمد بابا ‘ محمد اقبال حسین ‘ محمد بابا فخر الدین ‘ ایم اے  کبیر ‘ محمد فاروق ‘ محمد فیروز وغیرہ موجود تھے ۔
ورنگل :  ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کو سرکاری ملازمت ‘ تعلیمی اداروں میں تحفظات کی فراہمی کیلئے ریاستی حکومت نے بی سی کمیشن کی تشکیل عمل میں آئی تھی ۔ کمیشن کی جانب سے عوام فلاحی تنظیموں و دیگر سے اس ضمن میں درخواستیں قبول کی جارہی ہیں ۔ ورنگل میں الفیضان ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی ‘ مسلم ویلفیر سوسائٹی و دیگر فلاحی تنظیموں نے ’’سیاست‘‘ کی جانب سے فراہم کردہ فارم کی خانہ پوری کے علاوہ ویب سائٹ پر نمائندگی کیلئے عوام میں شعور بیدار کرتے ہوئے 500 سے زائد نمائندگیوں کو یقینی بنائیں ۔ بی سی کمیشن کی نمائندگی کرنے والوں میں ایم اے نعیم جرنلسٹ ‘ اسمعیل ذبیح ‘ محمد ایوب صدر سٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ ورنگل و دیگر شامل ہیں ۔ ورنگل سے بی سی کمیشن کو نمائندگی کرنے میں عوام میں شعور بیدار کرنے میں محمد خواجہ حسین شریف سکریٹری محبوبیہ پنجتن ایجوکیشنل سوسائٹی ورنگل ‘ جونیئر کالج پرنسپل ڈاکٹر محمد یعقوب علی ‘ محمد مجاہد حسین لکچرر کیمسٹری محبوبیہ پنجتن جونیئر کالج ورنگل ‘ محمد سراج سکریٹری مسلم ویلفیر سوسائٹی ورنگل ‘ مرزا مفتح اللہ بیگ ‘ محمد بابر ‘ڈاکٹر انیس صدیقی صدر شانتی سنگھم ‘ محمد اقبال علی سکریٹری مسجد النور ملگ روڈ ورنگل ‘ ایم اے باسط طاہر سینئر کانگریس قائد ‘ محمد نعیم الدین ٹی آر ایس ڈسٹرکٹ صدر میناریٹی سیل و دیگر شامل ہیں ۔
کاغذنگر  :  تحریک تلنگانہ کے دوران کے سی آر نے علحدہ ریاست کی تشکیل ہونے پر مسلمانوں کو 12% فیصد تحفظات دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو 12% فیصد تحفظات پر عمل آوری اور بی سی کمیشن کا قیام کرنے میں لاپرواہی اور تاخیر کی جارہی تھی لیکن ’’سیاست‘‘ اخبار اور نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان کی جانب سے تلنگانہ کے مسلمانوں میں 12% فیصد تحفظات سے متعلق مہم چلاتے ہوئے شہروں سے لیکر دیہی علاقوں تک تلنگانہ کے مسلمانوں میں 12% فیصد تحفظات سے متعلق شعور بیداری مہم چلاتے ہوئے مسلمانوں میں شعور بیداری کی گئی اور نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان کی تحریک کے اثر سے ریاستی تلنگانہ حکومت نے مجبوراً  بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لاتے ہوئے تلنگانہ کے مسلمانوں کی جانب سے نمائندگی حاصل کرنے کی 17ڈسمبر آخری تاریخ رکھی گئی تھی ۔ اس ضمن میں تلنگانہ کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ نئے اضلاع آصف آباد ‘ کاغذ نگر اور رپور ٹاؤن کے علاقوں سے ’’سیاست‘‘ اخبار کی جانب سے دیئے گئے فارم کی خانہ پوری کرتے ہوئے مقامی نامہ نگار محمد عبدالجمیل کی جانب سے حیدرآباد پہنچ کر نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان کے حوالے کیا گیا اور جناب عامر علی خان نے کاغذ نگر اور سرپور ٹاؤن کی جانب سے 222 فارم کو بی سی کمیشن تلنگانہ مسٹر راملو کے حوالے کیا اور اس موقع پر جناب عامر علی خان نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کو بی سی کمیشن کے ذریعہ سماجی اور تعلیمی میدان میں مسلمانوںکو 12% فیصد تحفظات پر عمل آوری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ۔
سدی پیٹ  :  مسلمانان تلنگانہ کو 12فیصد تحفظات کے مسئلہ پر ادارہ ’’سیاست‘‘ کی جانب سے شروع کردہ مسلم تحفظات تحریک کے ثمر آور نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ جناب زاہد علی خان صاحب ایڈیٹر سیاست کی ہدایت پر ملت کے ہمدرد نوجوانوں کے رہبر جناب عامر علی خان صاحب نیوز ایڈیٹر سیاست نے شہر کے علاوہ اضلاع میں موثر تحریک چلاتے ہوئے مسلمانوں میں ایک ایسا جذبہ ابھارا جس کی آج ہر طرح سے ستائش کی جارہی ہے ۔ ادارہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ مسلم تحفظات تحریک کا اثر تلنگانہ حکومت پر بھی اثرانداز  ہوا جس کی وجہ سے حکومت نے بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لایا ۔ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر مزید زور ڈالنے کیلئے آج ضلع سدی پیٹ کے کئی مسلم تنظیموں کے قائدین الگ الگ قافلے کی شکل میں حیدرآباد آکر ادارہ سیاست کی تحریک  کے روح رواں جناب عامر علی خان صاحب نیوز ایڈیٹر و مدیر اعلیٰ جناب زاہد علی خاں صاحب سے تحریک میں جان پیدا کرنے کے سلسلہ میں ان کی ستائش کی اور مبارکباد پیش کی ۔ بعد ازاں وفود کے قائدین نے الگ الگ گروپ کی شکل میں اپنی کمیٹیوں کی جانب سے صدرنشین بی سی کمیشن سے ملاقات کر کے یادداشت پیش کی اور صدرنشین سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنائے ۔ صدر نشین بی سی کمیشن نے وفود کو تیقن دیا کہ اس مسئلہ پر ہمدردانہ اقدامات کریں گے ۔ اس وفود میں تنظیم المساجد ‘ حج کمیٹی ‘ ملت اسلامیہ سدی پیٹ فاؤنڈیشن اور دیگر تنظیموں کے علاوہ ٹی آر ایس و کانگریس قائدین بھی شامل تھے ۔
٭٭  مسلمانان سدی پیٹ کے ذی اثر اصحاب کا وفد سید مسکین احمد اور سلطان عارف کی قیادت میں آج بی سی کمیشن کو مقررہ فارم پر مشتمل نمائندگی داخل کی اور صدرنشین کو واقف کروایا کہ سینکڑوں مسلمان سدی پیٹ سے آج نمائندگی کیلئے کمیشن کے روبرو پیش ہوئے ہیں اور حکومت وقت کو اب مزید کسی انتظار کے بغیر مسلمانوں کو وعدہ کے مطابق 12% تحفظات فراہم کرنے کیلئے تمام اقدامات کرنا چاہیئے اور کئی دہوں سے استحصال کا شکار بنے مسلمانوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرنا چاہیئے ۔ مسلمان پسماندہ ہیں یہ گذشتہ کئی کمیشنوں نے رپورٹ دی ہے ‘ غریب مسلمان کے شاپنگ مال نہیں ہیں صرف لکڑی کی ٹال ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ پسماندگہ مسلمانوں کو غربت سے اونچا اٹھانا چاہیئے ۔ اس وفد میں سید نظیر احمد ‘ محمد شہید خان ‘ ماجد ‘ رفیق ‘ یوسف الدین ‘ کاشف اسد ‘ قطب ‘ باقر ‘یونس ‘ وسیم ‘  مزمل ‘ بیگ ‘ معظم ایڈوکیٹ شامل تھے ۔ یہ نمائندہ وفد پہلے دفتر ’’سیاست‘‘ پہنچ کر تحریک کے روح رواں عامر علی خان کی گلپوشی کی اور انہیںمبارکباد دی کہ مسلمانوں میں بیداری پیدا کرتے ہوئے بڑی خدمت کی ہے ۔
جنگاؤں  :  جنگاؤں یکمینار مسجد پر بی سی کمیشن کو دیئے جانے والے 12% تحفظات کے فارمس بعد نماز جمعہ تقسیم کئے گئے ۔ اس موقع پر جمال شریف ایڈوکیٹ ‘ محمد فضل الرحمن پاشاہ ‘ ظفر شریف ‘ عظیم الدین  ‘ ناہد ‘ گیسو ‘ عبدالمنان اور دوسرے موجود تھے ۔
بودھن  : آج عوامی سماعت کی سنوائی کیلئے مقرر آخری دن بودھن شہر سے علماء ‘ سیاسی قائدین اور صحافیوں پر مشتمل وفد کمیشن کے چیرمین مسٹر راملو سے ملاقات کرتے ہوئے نمائندگیاںپیش کئے ۔ آج کمیشن کے چیرمین سے ملاقات کر کے حلف نامہ پیش کرنے والے وفد میں تلنگانہ اردو جرنلسٹ فورم کے عہدیدار محمد خورشید حسین اختر ‘ محمد کلیم قائدین  عابد احمد صوفی ‘ محمد ظہیر الدین بابر ‘ محمد رفیع ‘ شاہد حسین اور علماء مولانا عبدالحمید ‘ مولانا شیخ نعیم ‘ مولانا شبیر ‘ مولانا شیخ جابر اشاعتی ‘ مولانا محمد الیاس ‘ حافظ ابراہیم ‘ حافظ  محمد فیروز ‘ محمد احمد ‘ شیخ نصیر ‘ شیخ عظیم الدین ‘ شیخ افسر ‘ ابراہیم خان ‘ مرزا عماد اللہ بیگ ‘ احمد پاشاہ ‘ عبدالمبین ‘ محمد فہیم الدین ‘ کریم الدین ‘ شیخ اسد وغیرہ شامل ہیں ۔
کورٹلہ :  تحفظات کی فراہمی کے ضمن میں بی سی کمیشن سے نمائندگی کرنے کیلئے کورٹلہ کا ایک 60 رکنی کُل جماعتی وفد موٹر کاروں کے قافلے کے ذریعہ حیدرآباد پہنچ کر بی سی کمیشن سے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے ضمن میں نمائندگی کی گئی ۔ اس موقع پر احمد عبدالنعیم ریاستی نائب صدر ایم پی جے ‘ جناب محمد مبین باشاہ ایڈوکیٹ و کوآپشن ممبر مجلس بلدیہ کورٹلہ ‘ جناب محمد نعیم الدین ناظم ضلع جماعت اسلامی جگتیال ‘ جناب محمد رفیع الدین نائب صدرنشین مجلس بلدیہ کورٹلہ ‘جناب الیاس احمد خان امیرمقامی جماعت اسلامی کورٹلہ ‘ جناب محمد عبدالسلیم فاروقی نامہ نگار ’’سیاست‘‘ کورٹلہ ‘ جناب محمد نعیم ٹی آر ایس قائد ‘ جناب محمد مجیب ‘ جناب محمد فصیح الدین ‘ جناب محمد عبدالنعیم انجمن ترقی اردو ‘ جناب سید اقبال ٹی آر ایس قائد ‘ ایس آئی او ممبرس جناب محمد فیصل ‘ محمد عبدالماجد ‘ محمد ساجد نے چیرمین بی سی کمیشن مسٹر راملو اور وی کشن راؤ سے نمائندگی کی ۔ بعدازاں کورٹلہ کا مسلم وفد دفتر روزنامہ ’’سیاست‘‘ پہنچ کر 12% فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘ کی جانب سے چلائی گئی مہم پر ان کی گلپوشی و شال پوشی کرتے ہوئے تہنیت پیش کی۔
کاماریڈی  :  ضلع کاماریڈی سے جناب محمد جاوید علی اسٹاف رپورٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘ اور مقصود خان ایڈوکیٹ نے آج بی سی کمیشن سے نمائندگی کرتے ہوئے 12%فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کمیشن کو مثبت انداز سے سفارش کرنے کی اپیل کی اور بتایا کہ ضلع کاماریڈی میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد معاشی ‘تعلیمی اور سماجی لحاظ سے پسماندگی کی زندگی گزارتی ہے ۔ کاماریڈی ضلع میں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی جہاں جُزمعاش سے وابستہ ہے وہیں مسلمانوں کے ایسے طبقات بھی آباد ہیں جنہوں نے مداری ‘ پتھرپھوڑنے ‘ ریچ چلانے والوں کا پیشہ اختیار کیا ہے ۔ تعلیمی لحاظ سے مسلمانوں کی پسماندگی اظہر من الشمس ہے ۔ ان حالات کی روشنی میں آج مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسی کے خاتمہ کے ذریعہ مسلمانوں کی ترقی کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔
نلگنڈہ  : مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوسائٹی نلگنڈہ کے صدر جناب محمد رضی الدین کی قیادت میں ایک وفد بی سی کمیشن کو تفصیلی یادداشت پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو تمام شعبہ حیات میں 12 فیصد  تحفظات فراہم کرنے کی خواہش کی ۔ جسٹس راجندر اور رنگناتھ مشرا کمیشن کے علاوہ سدھیر کمیشن نے بھی تلنگانہ کے مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کی ۔ ان قائدین نے مسلمانوں کو تمام شعبوں میں 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی سی کمیشن کو تحریری یادداشت پیش کی ۔
کوہیر : ضلع سنگاریڈی کے کوہیر منڈل اور ظہیرآباد سے تعلق رکھنے والے مسلم تنظیمیں ‘ عوامی نمائندے ‘ سیاسی قائدین کے علاوہ انفرادی طور پر بی سی کمیشن سے نمائندگیاں پیش کی ہیں ۔ اس موقع پرجناب محمد عمر احمد صدر ٹی آر ایس پارٹی کوہیر منڈل ‘ جناب محمد اظہر احمد صدر مسلم ڈیولپمنٹ اسوسی ایشن نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کے مسلمان ایس سی ‘ ایس ٹی طبقات سے زیادہ پسماندہ ہیں ۔ ہر حال میں مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں ۔ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر  روزنامہ ’’سیاست‘‘ نے ریاست تلنگانہ میں سرکاری عہدیداروں اور سیاسی قائدین بی سی کمیشن کے مقرر  کرنے کیلئے سینکڑوں کی تعداد میں نمائندگیاں پیش کی تھی  ۔ سیاست اخبار داحد اخبار ہے جس نے مسلمانوں میں شعور بیدار کیا ہے ۔ اس موقع پر محمد فردوس ‘ محمد واجد ‘ محمد اکبر فاروق ‘ محمد نعیم الدین ‘ محمد زبیر احمد ‘ ماجد علی ‘ عبدالوحید‘ صدام ‘ معین الدین ‘ رفیع قریشی ‘ عبدالرحمن ‘ محمد ریاض الدین ‘ محمد سمیع الدین ‘ محمد ظہیر الدین سکندر ‘ معین الدین کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔

نظام آباد:17؍ ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)شہر نظام آباد کے معروف اقلیتی تعلیمی اداروں نالج پارک انٹرنیشنل اسکول ، کریسنٹ گروپ آف اسکولس کی جانب سے ایک زبردست سائنس اینڈ آرٹس فیر کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔ سائنس فیر کا افتتاح ڈائریکٹر گروپ آف انسٹیٹیوٹس جناب سید مجیب علی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقع پر اے سی پی نظام آباد آنند کمار کے علاوہ پی ستیش کرسپانڈنٹ نوار بھارتی اسکول بھی موجود تھے ۔ 1500 سے زائد طلباء نے سائنس ، انفارمیشن ٹکنالوجی ، طبیعات ، ماحولیات ، معاشی اصلاحات ، تاریخ ، ادب ، سماجیات کے علاوہ سماج کے فرسودہ نظاموں پر مختلف تخلیقات کے ذریعہ اپنی بھر پور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ۔ کریسنٹ ہائی اسکول اُردو میڈیم کے طلبائے نے 250 فٹ اونچا تک پانی اور ہوا کی مدد سے راکٹ لانچر اڑانے کا کامیاب مظاہرہ کیا جو معمولی اشیاء سے تیار کیا گیا تھا ۔ برقی کے بغیر چلنے والی پانی کی موٹروں ، سولار سسٹم کے ذریعہ برقی کی سہولتوں ، ماحولیات کے علاوہ خطرات کو دور کرنے  والے عوامل سر سبز و شاداب ماحول کی ضرورت ، اہمیت و افادیت ، مصنوعی آلات اور انسانی نشوو نما و ارفقاء ،نباتات و جمادات کے ماحول کی عکاسی ، حیوانات میں پائی جانے والی خصوصیات ، مختلف بیماریوں سے بچنے احتیاطی تدابیر اور متعدد بیماریوں کے علاج جیسے امور اور نوٹوں کی تبدیلی کے بعد پلاسٹک ، منی کے استعمال کے رحجان

TOPPOPULARRECENT