Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / حصول تحفظات کیلئے مسلمانوں کو جرأتمندانہ مظاہرہ کی ضرورت

حصول تحفظات کیلئے مسلمانوں کو جرأتمندانہ مظاہرہ کی ضرورت

12 فیصد تحفظات مسئلہ کو مرکز سے رجوع کرنا نوانٹری جبکہ بی سی کمیشن کا قیام رائٹ انٹری کہلائیگا
ٹامل مٹول پالیسی کے بجائے ٹھوس اقدام کرنے حکومت سے خواہش
مسلمانوں میں شعور بیداری کیلئے ادارہ سیاست کی ستائش

سنگاریڈی میں ایم پی جے کا جلسہ عام ، جناب عامر علی خان، جناب ملک معتصم خان اور دیگر کا خطاب
سنگاریڈی۔11 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ کو مرکز سے رجوع کرنا نو انٹری کہلائے گا جبکہ بی سی کمیشن کا قیام رائٹ انٹری ہوگی۔ اس لئے کہ بی سی کمیشن ہی مسلمانوں کی پسماندگی کا پیمانہ طے کرسکتی ہے جس کی سفارش پر حکومت کو عدالتی کشاکش کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار ملت کے دردمند اور 12 فیصد تحفظات کے روح رواں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان نے ایم پی جے ضلع میدک کی جانب سے سنگاریڈی کے اسلامک سنٹر میں بضمن 12 فیصد مسلم تحفظات پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سکریٹری ملی و ملکی مسائل جماعت اسلامی ہند جناب ملک معتصم خان مفتی اسلم قاسمی، سکریٹری تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ و اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست مسٹر عبدالقادر فیصل، صدر آیٹا مسٹر عبدالکریم بھی موجود تھے۔ صدر یم پی جے ضلع میدک جناب ایم جی انور نے صدارت کی اور نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ جناب عامر علی خان نے اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وعدے کے مطابق 12 فیصد تحفظات فراہم کرنا ٹی آر ایس حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تاہم چیف منسٹر تلنگانہ 9 ویں شیڈول میں ترمیم کرنے کے لئے مسئلہ کو مرکز سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے جس پر مسلمانوں کو بھروسہ نہیں ہے۔ اگر مسئلہ کو مرکز سے رجوع کیا گیا تو 12 فیصد مسلم تحفظات نو انٹری میں چلا جائے گا اگر حکومت مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے لئے سنجیدہ ہے تو بی سی کمیشن تشکیل دیں اور پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کا یہ اقدام  حکومت کے لئے رائٹ انٹری کہلائے گا۔ مسلمانوں کی پسماندگی کو ظاہر کرنے کے لئے کئی رپورٹس اور سفارشات موجود ہیں ملک میں اگر 41 لاکھ ایس سی طبقہ گریجویٹ ہے تو مسلمانوں میں گریجویٹ کا تناسب صرف 28 لاکھ ہے۔ سدھیر کمیٹی کی سفارشات اور اعداد و شمار مسلمانوں کی پسماندگی کو ظاہر کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ مگر اس کمیشن کو مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لئے جراتمندانہ مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے سیاسی جراتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کیا ہے۔ جس میں مسلمانوں کو بہت فائدہ ہوا اگر کے سی آر سیاسی جراتمندی کا مظاہرہ کریں تو  مسلمانوں کو مزید تین گناہ زیادہ فائدہ ہوگا۔ سارے تلنگانہ میں 512 لاکھ مسلمان خاندان ہیں۔ اگر 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کئے گئے تو 50 ہزار مسلم خاندانوں کو فائدہ ہوگا جس میں 20 ہزار مسلمانوں کو سرکاری ملازمت حاصل ہوگی اور 25 تا 30 ہزار مسلم طلبہ کو سرکاری فیس پر پروفیشنل کورسس میں داخلے ملیں گے ۔ جناب عامر علی خان نے مزید کہا کہ جس سیاسی جماعت کو مسلمانوں کی یاری ملی اس کو حکومت کی سواری ملی۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کا فیصلہ کن موقف ہے۔ مسلمان کسی کو بھی جماعت اقتدار کے زینے تک پہونچا سکتے ہیں اور کسی بھی جماعت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مختلف قوانین بناتے ہوئے مسلمانوں کی اراضیات چھین لی گئی۔ آزادی کے بعد ہر شعبہ میں مسلمانوں سے نا انصافی ہوئی ہے۔ بابری مسجد کا انہدام قابل مذمت ہے۔ مگر اس کے بعد مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیدار ہوا۔ گجرات فسادات کے بعد مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہوا ہے۔ جب بھی مسلمانوں کو سہارے کی ضرورت پڑی روزنامہ سیاست نے ہاتھ بڑھایا۔ مظفر نگر میں فسادات کے بعد اسکول قائم کیا جہاں 450 مسلم طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ زلزلہ آیا تو کشمیر ہاسپٹل تعمیر کیا گیا۔ مسلمانوں کا آپسی اتحاد ہی مسلمانوں کی کامیابی ہے۔ مسلم طلبہ میں خداداد صلاحیتیں ہیں صرف انہیں سہارے کی ضرورت ہے۔ وہ جماعت اسلامی کے علاوہ سارے مسلمانوں سے اظہار تشکر کرتے ہیں جنہوں نے 12 فیصد مسلم تحفظات کی مہم کو تحریک میں تبدیل کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ بالخصوص جماعت اسلامی نے ہر پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ سکریٹری ملی و ملکی مسائل جماعت اسلامی ہند ملک معتصم خان نے 12 فیصد مسلم تحفظات کی کامیاب تحریک شروع کرنے پر روزنامہ سیاست کے علاوہ تحریک کے روح رواں جناب عامر علی خان کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے ہر شہر اور بستی کا دورہ کرتے ہوئے نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان نے مسلمانوں میں شعور بیدار کرنے کے علاوہ وعدے سے حکومت کو توجہ دلانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ جماعت اسلامی جمعیت العلماء کے علاوہ دوسری مسلم تنظیموں اور مسلمانوں نے اس تحریک کو کامیاب بنانے میں اپنا تعاون پیش کررہے ہیں۔ امت کی ترقی اصل موضوع ہے۔ مسلمانوں کی پوزیشن اور ذمہ داری پر ہمدردانہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصی حکمت عملی کے ذریعہ اندھیرے کو دور کرتے ہوئے روشنی جگانے کی ضرورت ہے۔ اخلاق اور کردار ہماری بڑی طاقت ہے۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال حالیہ دنوں میں کرپشن کے خاتمہ کی شناخت بن کر ابھرے ہیں۔ جبکہ یہ شناخت کسی مسلم قائد کو حاصل ہونے کی ضرورت تھی۔ 12 فیصد مسلم تحفظات یقینا امت کی ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔ آزادی کے بعد ملک میں سرکاری ملازمتوں کے علاوہ فیصلہ ساز اداروں میں مسلمانوں کا تناسب 42 فیصد تھا جو اب گھٹ کر 2 فیصد ہوگیا ہے۔ شادی مبارک اسکیم، آٹوز اسکیم مساجد اور درگاہوں کی آہک پاشی، اماموں اور موزن کی تنخواہیں مسلمانوں کی ترقی نہیں ہوسکتی ۔ تعلیم اور ملازمتوں میں مسلمانوں کو فراہم کیا جانے والا 12 فیصد مسلم تحفظات مسلمانوں کی ترقی کا ضامن ہوسکتا ہے۔ اگر وعدے کے مطابق چیف منسٹر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہیں تو تاریخ میں انہیں صدیوں تک یاد رکھا جائے گا اگر وعدہ پورا نہیں کیا گیا تو دوسرے چیف منسٹرس کا جو حشر ہوا ہے وہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔ آج کانگریس کو جو مقام حاصل ہے۔ وہ کل ٹی آر ایس کا بھی ہوسکتا ہے۔ ہم ٹی آر ایس کی تعریف کرنا چاہتے ہیں۔ مگر حکومت کے کوئی ایسے اقدامات نہیں ہیں جس کی تعریف کی جاسکے۔ سپریم کورٹ کے 50 فیصد سے زائد تحفظات عبور  کرنے کے احکام کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ نے گنجائش رکھی ہے اگر حکومت کسی طبقہ کی پسماندگی سائنٹفک طریقے سے پیش کرسکتی ہے تو تحفظات 50 فیصد عبور کرسکتے ہیں۔ جناب ملک معتصم خان نے جناب عامر علی خان کو مشورہ دیا کہ اس مسئلہ پر حیدرآباد میں دانشوروں، ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار کے علاوہ وکلاء کا اجلاس طلب کریں اور مستقبل کی حکمت عملی طے کریں۔ انہوں نے کہا کہ روزنامہ سیاست کی جانب سے چلائی جارہی 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک کو جماعت اسلامی کی مکمل تائید و حمایت ہے۔ سکریٹری تلنگانہ ورکنگ جرنلسٹ مسٹر عبدالقادر فیصل نے کہا کہ مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کے لئے کے سی آر نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدے کو اپنے منشور میں شامل کیا۔ 4 ماہ میں دینے کا وعدہ کیا مگر 19 ماہ گزرنے کے باوجود مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ سدھیر کمیٹی آنسو پوچھنے کے مترادف ہے۔ سارے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جماعتی، مسلکی وابستگی سے بالا تر ہوکر اس تحریک کی تائید کریں۔ صدر ایٹا مسٹر عبدالکریم نے کہا کہ ملت اسلامیہ میں شعور بیداری کرنے اور حکومت کو وعدہ یاد دلانے کے لئے اور جن کی رسائی حکومت تک ہے ان کی توجہ دہانی کے لئے ایم پی جے کی جانب سے سنگاریڈی میں 12 فیصد مسلم تحفظات کے جلسہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ صدر یو ایم ایف سنگاریڈی جناب محمد عارف الدین نے کہا کہ اگر اب مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات نہیں ملے تو آئندہ بیس سال تک مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں میں اتنے بڑے پیمانے پر نمائندگیاں ملنا مشکل ہے۔ روزنامہ سیاست اور جناب عامر علی خان قابل مبارکباد ہیں جنہوں نے تحریک شروع کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے۔ صدر ایم پی جے ضلع میدک جناب ایم جی انور نے کہا کہ مسلم تحفظات فراہم کرنے کے لئے روزنامہ سیاست تحریک چلا رہی ہے اور جماعت اسلامی بھی تحریک کو کامیاب بنانے میں روز اول سے پیش پیش ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک تلگو فلم پوسٹر کے پس منظر میں اللہ اور پیغمبر اسلام کے ناموں کا استعمال کرنے کی گستاخی کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری ان ناموں کو نکال دینے کی ایک قرارداد منظور کی۔ اس موقع پر صدر ضلع میدک اردو ٹیچرس اسوسی ایشن مسٹر محمد ساجد اور نائب صدر مسٹر محمد عمر علی کے علاوہ ٹی آر ایس کے قائد ایم اے حکیم ایڈوکیٹ کے ساتھ ساتھ مفتی اسلم قاسمی ، امان الحق قاسمی، محمود علی امیر، محمد خواجہ علی، سید شاہنواز، محمد مختار، محمد مظہر حسین، محمد محمود، سید فصیح الدین قاسمی، محمد غلام قادر، قمر الدین باقری، سید رافع الشمس، صلاح الدین بابر، محمد سلیمان ، محمد جلال الدین معین، محمد متین، حافظ شیخ عارف، محمد اکمل، محمد نجیب، ایم جی اکرم حافظ محمد واجد علی، نمائندہ سیاست جوگی پیٹ مسٹر محمد ارشد محی الدین، نمائندہ سیاست کوہیر طیب علی، اس جلسہ میں جوگی پیٹ سے صدر مسلم ویلفیر کمیٹی جوگی پیٹ مسٹر محمد عرفات محی الدین احمد علی، اسلم خان، عمر بن عبداللہ، واجد، غوث اور خلیل نے بھی شرکت کی۔ صحافتی میدان میں 25 سال مکمل کرنے پر اسٹاف رپورٹر سیاست سنگاریڈی مسٹر عبدالقادر فیصل کی کثرت سے گلپوشی کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT