Tuesday , October 17 2017
Home / ہندوستان / حصول قرض کے لیے ریاستوں کی ایکدوسرے پر سبقت

حصول قرض کے لیے ریاستوں کی ایکدوسرے پر سبقت

 
مقروض ریاستوں میں مہاراشٹرا سرفہرست ، سود ادائیگی میں آندھرا پردیش و تلنگانہ ریاستیں دوسرے نمبر پر
حیدرآباد ۔ 22اپریل (سیاست نیوز ) ملک بھر میں ریاستیں حصول قرض کے معاملہ میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے لگی ہیں۔ ملک کے تجارتی مرکز سمجھے جانے والا ممبئی شہر رکھنے والی ریاست مہاراشٹرا ملک کی مقروض ریاستوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے لیکن قرض پر سود ادا کرنے والی ریاستوں میں سب سے آگے نوتشکیل شدہ ریاست آندھرا پردیش ہے او ر دوسرے نمبر پر ریاست تلنگانہ ہے جو سب سے زیادہ قرض ادا کر رہی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق جاریہ سال مارچ تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست مہاراشٹرا 3لاکھ 9ہزار 330کروڑ کی مقروض ہے جو کہ ملک میں سرفہرست ہے۔ ریاست آندھرا پردیش کی جانب سے 127.1فیصد سود ادا کیا جا رہا ہے جو ملک بھر کی دیگر ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح ریاست تلنگانہ 44.8فیصد سود ادا کرتے ہوئے دوسرے نمبر پر ہے۔ اتر پردیش ‘ مغربی بنگال اور گجرات ملک کی ان ریاستوں کی فہرست میںشامل ہیں جن کے قرض میں سالانہ 16فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔لیکن ان ریاستوں کی جانب سے قرضہ جات کی ادائیگی میں کوئی تاخیر نہیں ہو رہی ہے جس کے سبب ان ریاستوں کو بہ آسانی قرض حاصل بھی ہورہا ہے۔ آر بی آئی کی رپورٹ کے مطابق کرناٹک نے اپنے جملہ قرض میں 15.5فیصد کی بازادائیگی کو یقینی بنایا ہے جبکہ کیرالاکی جانب سے 15فیصد قرض کی ادائیگی کردی گئی ہے اسی طرح ٹاملناڈو نے 17.2فیصد قرض ادا کر دیا ہے۔ آر بی آئی کے بموجب اگر ریاستوں کی جانب سے قرض کی بروقت ادائیگی یقینی نہیں بنائی جاتی تو ایسی صورت میں قومی سطح پر ایسے معاشی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جنہیں کنٹرول تو کیا جا سکتا ہے لیکن سخت اقدامات درکارہوں گے۔ آندھرا پردیش ‘ ٹاملناڈو ‘ کرناٹک اور کیرالا ایسی ریاستوں میں شمار کیئے جانے لگے ہیں جو بتدریج قرض میں کمی کرنے کے اقدامات میں مصروف ہیں۔جبکہ چھتیس گڑھ اور ہریانہ ایسی ریاستیں ہیں جو قرض میں اضافہ کرتی جا رہی ہیں۔ چھتیس گڑھ کے قرض میں مالی سال کے دوران 23فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہریانہ میں 18فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بہار ‘ جھارکھنڈ ‘ مدھیہ پردیش ‘ پنجاب ‘ گوا اور راجستھان کے قرض میں بھی اضافہ ہی ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔مجموعی اعتبار سے ملک بھر میں ریاستوں کی جانب سے حاصل کیئے جانے والے قرضہ جات میں 11.3فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ 2015مالی سال کے اختتام پر یعنی ماہ مارچ کے دوران ریاستوں کی جانب سے حاصل کیا جانے والا قرض 27لاکھ 85ہزار 340کروڑ تک پہنچ چکا تھا جو اب 7اپریل 2016کے اعداد و شمار کے مطابق 24لاکھ 71ہزار260کروڑ ہو چکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT