Wednesday , June 28 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت امام اعظمؒ کی تدبیر

حضرت امام اعظمؒ کی تدبیر

حضرت نعمان بن ثابت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پڑوس میں ایک نوجوان رہتا تھا۔ ایک دن اُس نے حضرت امام اعظم سے عرض کیا ’’حضور! میں جس گھرانے میں شادی کرنا چاہتا ہوں، اُس گھر کے لوگ میری طاقت سے زیادہ مہر طلب کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟‘‘۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس نوجوان کے لئے استخارہ کیا اور اسے اس گھرانے میں شادی کی اجازت دے دی۔ چنانچہ اس نوجوان نے شادی کرلی، تاہم شادی کے بعد لڑکی والوں نے پورا مہر ادا کئے بغیر لڑکی رخصت کرنے سے انکار کردیا۔ حضرت امام اعظم نے فرمایا ’’تم کسی سے قرض حاصل کرکے مہر کی رقم ادا کردو‘‘۔ چنانچہ نوجوان نے بشمول حضرت امام اعظم کچھ لوگوں سے قرض حاصل کرکے لڑکی والوں کو مہر کی رقم ادا کردی اور اس کے بعد لڑکی والوں نے لڑکی کی رخصتی کردی۔
دوسرے روز حضرت امام اعظم نے اس نوجوان سے فرمایا کہ ’’اب تم اپنے سسرال والوں کے سامنے اپنا یہ ارادہ ظاہر کرو کہ میں اپنی بیوی کو لے کر ایک دُور دراز مقام جانا چاہتا ہوں‘‘۔ چنانچہ نوجوان نے آپ کی بتائی ہوئی تدبیر پر عمل کیا۔ اس کے سسرال والوں نے جب یہ ارادہ سنا تو پریشان ہو گئے اور حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر نوجوان کی شکایت کی اور اس بارے میں فتویٰ طلب کیا۔حضرت امام اعظم نے فرمایا کہ ’’شوہر کو اختیار ہے کہ اپنی بیوی کو جہاں چاہے لے جائے‘‘۔ ان لوگوں نے کہا ’’مگر ہم لوگوں سے یہ نہیں ہوسکتا کہ لڑکی ہم سے جدا ہوکر کسی دور دراز مقام پر رہے‘‘۔ آپ نے فرمایا ’’تو تم نے جو کچھ اس نوجوان سے لیا ہے، وہ اُسے واپس کرکے راضی کرلو‘‘۔ وہ لوگ اس بات پر رضامند ہو گئے تو آپ نے اپنے پڑوسی نوجوان کو بلایا اور فرمایا کہ ’’تمہارے سسرال والے اس بات پر راضی ہیں کہ جو کچھ انھوں نے بعوض مہر تم سے لیا ہے تم کو واپس کردیں، تاکہ تم اپنے سفر کا ارادہ ترک کردو‘‘۔ نوجوان نے یہ سن کر موقع کا ناجائز فائدہ اُٹھانا چاہا اور کہا کہ ’’میں اس سے زیادہ لوں گا‘‘۔ حضرت امام اعظم نے فرمایا ’’ان لوگوں کی پیشکش منظور کرتے ہو یا کوئی قرض خواہ تمہارے خلاف یہ دعویٰ کرے کہ تمھیں اس کا قرض ادا کرنا ہے، لہذا جب تک تم قرض خواہ کا قرض ادا نہ کردو اس وقت تک کسی دوسرے مقام کا سفر نہیں کرسکتے۔ بولو! منظور کرتے ہو یا قرض خواہ تم سے اپنا مطالبہ شروع کرے؟‘‘۔ نوجوان نے عرض کیا ’’حضور! خدا کے واسطے اس بات کا ذکر ہمارے سسرال والوں سے ہرگز نہ کیجئے گا، ورنہ ان لوگوں کو اگر یہ بات معلوم ہو گئی تو وہ ہمیں کچھ بھی نہیں دیں گے‘‘۔ (لطائف علمیہ کتاب اولیاء۔۱۴۲)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT