Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حضرت امام حسینؓ کی شہادت تاریخ عالم کا منفرد اور غم ناک سانحہ

حضرت امام حسینؓ کی شہادت تاریخ عالم کا منفرد اور غم ناک سانحہ

ڈاکٹر سیدمحمد حمید الدین شرفی، پروفیسر سید محمد حسیب الدین حمیدی اور دیگر علماء کے خطابات
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکٹوبر : ( پریس نوٹ ) : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے حسن و جمال اقدس کا عکس اور سیرت طیبہ کا پر تو سبط معظم شہید اعظم حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی صورت و سیرت میں نمایاں تھا جنھوں نے اپنی بے نظیر قربانیوں اور شہادت کے ذریعہ دنیا کو حق و باطل کا فرق سمجھا کر اقامت دین کی خاطر ہر طرح کے ایثار اور بقاے حق و صداقت کے عظیم مقصد کے لئے سب کچھ قربان کر دینے کا راستہ دکھایا، احقاق حق اور ابطال باطل، یقین و توکل، عزم و استقامت، جراء ت و ہمت، شجاعت و حوصلہ مندی اور صبر و رضا کا کوئی تذکرہ ہو وہ حضرت امام حسینؓ اور واقعہ کربلا کے اولین حوالے کے بغیر نامکمل رہ جاتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت تاریخ عالم کا نہایت غم ناک اور حیرت انگیز سانحہ ہے ظلم و استبداد ، حق ناشناسی، خود غرضی، نفس پرستی، ناانصافی اور عدم مساوات کے نا پسندیدہ معمولات اور ضد، شرانگیزیوں اور ہٹ دھرمی کے اندہیروں میں رحم و مروت، حق پرستی، بے غرضی و اخلاص، عدل و انصاف اور ایثار و وفا کے چراغ جلاتے رہنا ہمیشہ ہی اہل حق و صداقت کا شعار رہا ہے۔ حضرت امام حسینؓ اور آپ کے اقرباء و انصار نے ان تمام محاسن اور خوبیوں کے اجالوں سے جادئہ عمل کو ہمیشہ کے لئے تابناک و منور بنا دیا۔ قیام حق و انصاف اور تدارک ظلم و استبداء کے لئے جد و جہد اور مخلصانہ کاوش کرنے والوں کے نزدیک عددی قوت یعنی قلت و کثرت کوئی معنی نہیں رکھتی، حصول مقصد کی اہمیت ہوتی ہے فتح و کامیابی مقصد حقہ کا پا جانا ہے حضرت امام حسینؓ نے اس معرکہ حق و باطل میں جام شہادت نوش کر کے جو ظفر مندی پائی ہے اس کی حقیقت سے ہر صاحب نظر خوب واقف ہے اور قیامت تک جملہ حق پسندوں کو اس کا صحیح احساس رہے گا معرکہ کربلا نے واضح کر دیا کہ کثرت تعداد ، سامان حرب اور جنگی طور و طریق اہل حق کے عزائم پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ 72 نفوس عالیہ کا ہزاروں اشقیاء کے مقابلہ میں حق پرستانہ استقامت کے ساتھ ڈٹے رہنا اور متاع جان کا لٹاتے جانا اس کی بہترین مثال ہے ۔سادات ذی احترام، مشائخ عظام، علمائے کرام او ر دانشوران ِگرامی نے ان خیالات کے اظہار کے ساتھ 12 اکٹوبر م 10 محرم الحرام کو 10 بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی ، مالاکنٹہ روڈ، روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا ( آئی ہرک) کے زیر اہتمام منعقدہ 26 ویں سالانہ مرکزی جلسہ شہادت عظمیٰ حضرت امام حسین ؓ کے موقع پر سیرت حسینی ؓ کے مختلف پہلؤوں پر شرف تخاطب حاصل کیا۔ قراء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ ،قصیدہ بردہ شریف، نعت شہنشاہ کونینؐ ، سلام ومنقبت امام حسینؓ سے آغاز ہوا۔ ڈاکٹر سید محمد حمید ا لدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے نگرانی کی۔ اس موقع پر اہل علم، باذوق حضرات و نیز شیدائیان امام حسینؓ کی کثیر تعداد موجود تھی۔ پروفیسر سید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے اپنے دلنشین، موثر اور پر مغز خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؓ اور خانوادئہ نبوت کے محترم افراد، مہاجرین اور انصار کا مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آنا، وہاں سے کربلا تک کا سفر محض اقامت دین، تحفظ شریعت مطہرہ اور ظلم و تشدد کے خلاف عملی جد و جہد دراصل حق پرستانہ کاوش اور ابطال باطل کے لئے بے نظیر اقدام تھا۔ سبط رسول مقبولؐ نے اپنے شایان شان اقدام کیا، سچائی کی خاطر اپنی گردن کٹوانا منظور کر کے ثابت کر دیا کہ بڑے لوگوں کے کام بھی بڑی نوعیت کے ہوا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے رسول اللہؐ کا اسوئہ حسنہ اور حضرت امام حسین ؓ کی مبارک زندگی اور حق و صداقت پر مبنی تعلیمات پر عمل پیرائی لازمی اور موجب سعادت دارین ہے۔ جناب سید محمد علی موسیٰ رضا حمیدی نے بھی مخاطب کیا ۔ آخر میں حافظ حبیب حمیدی نے قصیدہ بردہ شریف پیش کیا ۔

TOPPOPULARRECENT