Wednesday , May 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت امام شافعی ؒدربارِ رسول گہر بار میں

حضرت امام شافعی ؒدربارِ رسول گہر بار میں

قریش کے مفلوک الحال فرزند نے ہوش و خرد کی بلند ترین چوٹی کو سر کرلیا تھا ۔ مگر ابھی اس کا دل مطمئن نہیں تھا ۔ امام مالکؒ کے فضل و کمال کے تذکرے اسے اکثر بے قرار رکھتے تھے ۔ نصف شب کے سناٹے میں شہر رسولؐ سے آنے والی ہوائیں اس سے سرگوشیاں کرتی تھیں۔
’’عنقریب لوگ علم کی طلب میں سفر کرکے اونٹوں کے جگر پگھلادیں گے مگر پھر بھی انھیں عالم مدینہ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں ملے گا‘‘۔
(امام شافعیؒ )
امام شافعیؒ غائبانہ طورپر تو بہت پہلے ہی امام مالکؒ سے متاثر ہوچکے تھے ۔ مگر جب ’’موطا‘‘ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا تو پھر مکمل طورپر امامِ مدینہ کی شخصیت کے دائرے میں محصور ہوگئے ۔ اب ایک ہی جذبہ سینۂ سوزاں میں باقی رہ گیا تھا کہ کس طرح مالک بن انسؓ کے حضور پہنچ کر دماغ و روح کی تشنگی کو سیراب کریں۔ امام شافعیؒ نے اپنے استاد حضرت سفیان عینیہؒ سے امام مالکؒ کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا ’’مالک بن انسؓ کے سامنے ہماری حیثیت ہی کیا ہے ؟ ہم تو ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں‘‘۔ پھر امام شافعیؒ نے اپنی تمام تر مجبوریوں کے باوجود دربار امام مالکؒ میں حاضر ہونے کافیصلہ کرلیا ۔
آپ لرزتے قدموں سے روضۂ رسولؐ کی طرف بڑھے ۔ امام شافعیؒ جس کے اقوالِ قدسیہ کا علم حاصل کرنا چاہتے تھے ، وہی ذاتِ گرامی آپ کی نظروں کے سامنے محو خواب تھی ۔ امام شافعیؒ اس طرح روضہ رسولؐ کی جانب بڑھ رہے تھے جیسے کوئی لاغر و نحیف انسان بستر سے اُٹھ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کررہا ہو ۔ جلالِ رسالتؐ سے امام شافعیؒ کے جسم کی ساری توانائی سلب ہوچکی تھی ۔ آپ نے زیرلب اپنے خدا کو پکارا ۔ ہمت و استقامت کی دعا مانگی ۔ پھر آہستہ آہستہ سرور کونینؐ کے پائے اقدس کی طرف بڑھے ۔ جذبہ، امام ؒ کا دستگیر تھا اور شوق ، مشکل کشا ۔ چند لمحوں کافاصلہ صدیوں میں تبدیل ہوتا محسوس ہورہا تھا ۔ امامؒ نے اپنی غلامی کا حوالہ پیش کیا اور اس کے ساتھ ہی نہایت پرسوز آواز میں رحمتہ اللعالمینؐ کے حضور اسلام عقیدت پیش کیا۔ یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں بھیگ گئیں اور شدید عالمِ اضطراب میں دعا کے لئے دونوں ہاتھ بلند ہوگئے ۔
’’میں کہ تیرا نقشِ کف پا ، میں کہ تیرے راستے کا غبار ، میں کہ تیری بارگاہِ کرم کاگدائے اذلی‘‘ ۔ امام شہہ عرب و عجمؐ کے دربارِ ابدی میں گریہ و زاری کررہے تھے ۔ ’’اگر تمام کائنات مل کر بھی مدح و ثنا کا اہتمام کرے تو حشر تک تیری سیرت کا بیان ختم نہ ہو ۔ زبانیں عاجز رہ جائیں اور لفظوں کا ذخیرہ اپنی تنگ دامانی پر شرمسار ہوجائے۔ اے مولائے کلؐ ، اے خْتم الرسلؐ ہماری کوتاہیوں اور لغزشوں کو معاف فرما کہ ہم تو حضورِ شاہ ، حال دل کہنے کا بھی سلیقہ نہیں رکھتے ۔ اے صحراؤں پر برسنے والے ابرِ کرم ! شافعیؒ کے رہگزار قلب پر بھی آگہی کی چند بوندیں ، عشق جاں سوز کے چند قطرے‘‘ ۔ امامؒ درود و سلام کے بعد دیر تک دعا کرتے رہے ۔ پھر جب آپ کے بے قرار دل کو سکون حاصل ہوگیاتو اس مجلس نور کی طرف بڑھے جہاں امام مالکؒ تشنگانِ علم کو حدیث رسولؐ کا درس دے رہے تھے ۔
’’تمہارا نام کیا ہے ؟ ‘‘ امام مالکؒ نے علم کی طلب میں سفر کرنے والے مفلس نوجوان پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔ ’’محمد بن ادریس‘‘ ۔ امام شافعیؒ نے نہایت مودبانہ لہجے میںمختصر جواب دیا ۔ امام مالکؒ چند لمحوں تک آپ کو گہری نظروں سے دیکھتے رہے پھر محبت بھرے انداز میں فرمایا ’’اﷲ سے ڈرو اور گناہوں سے بچتے رہو۔ تم ایک دن ضرور انسانیت کے بلند درجے تک پہنچو گے ‘‘ ۔ یہ ایک سند تھی جو امام مالکؒ کی طرف سے فرزند قریش کو عطا کی گئی تھی ۔ امام مدینہ کی زبان سے تحسین آمیز کلمات سن کر امام شافعیؒ آبدیدہ ہوگئے اور اظہارعقیدت کیلئے سر جھکالیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT