Friday , September 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ذہانت

حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ذہانت

ابوعبداﷲ
دین اسلام کے عظیم فرزندان میں سے حضرت امام شافعی رحمہ اللہ علیہ ایک ہیں آپ کے والدین نے بچپن ہی سے آپ کی بہترین تربیت فرمائی، جوانی میں حضرت امام شافعی رحمہ اللہ علیہ نے تقویٰ کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا، آپ کی والدہ محترمہ بہت نیک اور متقیہ تھیں، اکثر لوگ اپنی امانتیں ان کے پاس رکھواتے تھے اور وقتِ ضرورت واپس لے جاتے تھے، ایک مرتبہ دو آدمی آپ کی والدہ صاحبہ کے پاس کچھ رکھواگئے، ان میں سے ایک آدمی آیا اور وہ چیز لے گیا، تھوڑے ہی عرصہ کے بعد دوسرا آدمی آیا اور اپنی چیز کا تقاضہ کرنے لگا، آپ کی والدہ محترمہ نے بتایا کہ تمہارا دوسرا ساتھی لے جاچکا ہے، مگر وہ آدمی نہ مانا اور قاضی کے روبرو پیش ہوا، قاضی نے اپنا آدمی اس کے ساتھ بھیجا کہ معاملہ کی چھان بین کرے، اسی دوران امام شافعیؒ بھی مدرسہ سے گھر تشریف لے آئے تھے، والدہ کو پریشان دیکھ کر دریافت کیا اور قاضی کے آدمی کے سامنے ہی اس آدمی سے فرمایا کہ تم اگر اکیلے چیز رکھوا کر گئے تھے تو اکیلے لے جاسکتے ہو اور اگر تمہارے ساتھ تمہارا دوسرا ساتھ بھی تھا تو اس آدمی کو لے آؤ تمہاری چیز تمہیں مل جائے گی۔ قاضی کا فرستادہ اس بچے کی عقل و فہم پر ششدر رہ گیا اور جھگڑا پل دو پل میں ختم ہوگیا، یہی بچہ بڑا ہوکر فقیہ اعظم بنا ۔ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے شاگرد رشید تھے۔ آخر وقت بڑے ہی عجز و نیاز کے ساتھ اﷲ کے حضور اپنے لئے بخشش طلب کرنے لگے ۔
امام مزنیؒکہتے ہیں جس دن حضرت امام شافعی ؒ نے انتقال کیا تو اس کی صبح کو میں عیادت کے لئے حاضر ہوا تھا:مزاج کیسا ہے؟ میں نے سوال کیا،انہوں نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا:’’دنیا سے جارہا ہوں‘ دوستوں سے جدا ہورہا ہوں‘ موت کا پیالہ منہ سے لگا ہے‘ نہیں معلوم میری روح جنت میں جائے گی اسے مبارکباد دوں یا دوزخ میں جائے گی اسے تعزیت پیش کروں‘ پھر یہ شعر پڑھے:
ولما قسیٰ قلبی وضاحت مذاہبی
جعلت الرجاء فی عفوک سلما
’’اپنے دل کی سختی اور اپنی بے چارگی کے بعد میں نے تیری عفو پر اپنی امید کو سہارا بنالیا ہے‘‘۔
تعظمی ذنبی فلما قرنتہ
بعفوک ربی کان عفوک اعظما
ترجمہ:’’میرا گناہ میری نظر میں بہت ہی بڑا ہے مگر جب تیری عفو کے مقابلے میں اسے رکھا تو اے رب! تیرا عفو زیادہ نکلا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT