Tuesday , June 27 2017
Home / شہر کی خبریں / حضرت بلالؓ نے راہ ایمان میں جسمانی اذیتیں اور ہر ظلم و ستم کو برداشت کیا

حضرت بلالؓ نے راہ ایمان میں جسمانی اذیتیں اور ہر ظلم و ستم کو برداشت کیا

اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کا خطاب
حیدرآباد ۔12؍مارچ( پریس نوٹ) حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ عبد اللہ بن جدعان کے غلام تھے۔ حضرت بلالؓ ، حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے اور مسلمان ہو گئے لیکن اپنے اسلام کو چھپائے رکھا۔ ایک روز انہوں نے ان بتوں سے جو کعبۃ اللہ کے چاروں طرف رکھے ہوئے تھے، مخاطب ہو کر کہا کہ ’’جس نے تمہاری عبادت کی وہ تباہ و برباد ہو گیا‘‘۔ یہ بات جب قریش کو معلوم ہوئی تو وہ سب عبد اللہ بن جدعان کے پاس آئے اور اس کی شکایت کی۔ عبد اللہ بن جدعان نے ایک سو درہم دئیے تا کہ بتوں کی اس توہین کی وجہ سے ان کے نام کے کچھ جانور ذبح کر دئیے جائیں ساتھ ہی اس نے حضرت بلال کو اس کے بدلہ میں سزائیں اور اذیتیں دینے کے لئے قریش کو ان پر پورا اختیار دے دیا۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن، سبزی منڈی قدیم اور 11.30بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’1242‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے دونوں سیشنوں میںواقعات ما بعد بعثت شریف کے معظم و مکرم موضوع پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوے بتایا کہ قریش کا سردار امیہ بن خلف پہلے تو حضرت بلالؓ کو پورے دن اور پوری رات بھوکا پیاسا رکھتا اور پھر جب دو پہر چڑھ جاتی اور سورج آگ برسانے لگتا تو ان کو گھر سے نکال کر گرم اور تپتی ہوئی ریت پر چت لٹا دیتا تھا اس وقت وہ ریت اتنی گرم ہوتی تھی کہ اگر اس پر گوشت کا ٹکڑا ڈال دیں تو وہ بھن جاتا تھا اس کے بعد وہ ایک بہت بڑا اور وزنی پتھر منگاتا اور وہ حضرت بلالؓ کے سینہ پر رکھ دیتا تا کہ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکیں۔پھر امیہ حضرت بلالؓ سے کہتا کہ ’’اب یا تو ایمان کا انکار کر اور لات و عزیٰ (قریش کے بت) کی عبادت کر، ورنہ تجھے اس وقت تک یہاں اسی طرح ڈالے رکھوں گا جب تک کہ تیرا دم نہ نکل جائے ‘‘۔ مگر اس حالت میں بھی حضرت بلالؓ کا جواب ہوتا ’’احد ، احد‘‘۔ ایک مرتبہ حضرت بلال کو ایذائیں دی جارہی تھیں کہ وہاں سے رسول اللہؐ کا گزر ہوا (اور اس وقت حضرت بلالؓ ’’احد ، احد‘‘ کہہ رہے تھے) حضور انورؐ نے حضرت بلالؓ کو اس حال میں دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ ’’تمہیں یہ ’’احد ، احد‘‘ ہی نجات دلائے گا‘‘۔ اسی طرح ایک دفعہ بلال کو اذیتیں دی جارہی تھیں اور وہ ’’احد احد‘‘ کا ورد کر رہے تھے کہ وہاں سے ورقہ بن نوفل گزرے تو انہوں نے یہ دیکھ کر کہا کہ ’’ہاں خدا کی قسم اے بلال! اللہ ایک ہی ہے‘‘۔ اس کے بعد ورقہ بن نوفل، امیہ بن خلف کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ ’’خدا کی قسم! اگر تم نے اس کو اسی طرح مار ڈالا تو میں ان کی قبر کو زیارت گاہ بنائوں گا کیوں کہ وہ جنتیوں میں سے ہے‘‘۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT