Thursday , September 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / حضرت بندہ نواز ؒ کی تعلیمات کو عام کرنا ہمارا فریضہ

حضرت بندہ نواز ؒ کی تعلیمات کو عام کرنا ہمارا فریضہ

گلبرگہ۔/6ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)حضرت مخدوم ابوالفضل سید محمد گیسو دراز بندہ نواز ؒ کے عرس شریف کے موقع پر علمی مذاکرے کا اہتمام سالہا سال سے تواتر سے منعقد کیا جارہا ہے اور اب یہ ایک تاریخی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔برسہا برس سے چلتی آرہی ایک صحت مند روایت کا یہ سیمنار ایک حصہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار 611ویں عرس شریف حضرت سلطان دکن بندگی ٔ مخدوم سیدنا بندہ نواز گیسودراز ؒ کی مناسبت سے آج 5ستمبر 2015کو  سماع خانہ بارگاہ عالیہ میں منعقدہ علمی مذاکرے کی صدارت فرماتے ہوئے شاہ زادہ خانوادۂ بندہ نواز حضرت ڈاکٹر سید شاہ گیسور دراز خسرو حسینی سجادہ نشین بارگاہ بندہ نواز ؒ نے کیا۔حضرت سجادہ نشین نے علمی مذاکرے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے مختصر خطاب میںکہاکہ حضرت خواجہ صاحب کے نام نامی بندہ نواز سے عوام واقف ہیں مگر خواص انھیں گیسو دراز کے اسم مبارک سے جانتے ہیں ۔آپ نے فرمایا کہ یہ میرا فریضہ ہے کہ میں حضرت بندہ نواز ؒ کی تعلیمات کو عام کروں ،لوگو ں میں پھیلائوں تا کہ انھیں اپنی زندگیوں میں دین اسلام پر چلنے کا حوصلہ ملے اور راستہ ملے۔انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ صاحب کثیر التصانیف ولی صفت صوفی بلند پایہ بزرگ گزرے ہیں۔آپ نے 22برس گلبرگہ میں قیام فرمایا اور یہاں رشد و ہدایت کی مشعل روشن کی جو آج بھی اسی تابناکی اور نور سے معمور ہے اور انشا اللہ تاقیامت یہ سلسلہ نور جاری و ساری رہے گا۔آپ خاندان چشتیہ میں جلوہ افروز ہوئے اور تقریباً 44برس دہلی میں رشد و ہدایت کی تلقین فرماتے رہے۔آپ 80برس کی عمر میں اورنگ آباد تشریف لائے اور آپ کا ارادہ وہیں مقیم ہونے کا تھا مگر گلبرگہ میں اس وقت بہمنی شاہوں کی حکومت تھی اور اس وقت کے حکمراں فیروز شاہ بہمنی نے آپ کی شہرت سن کر آپ کو گلبرگہ آنے کی دعوت دی ۔اس نے یہاں قلعہ کے مغربی گوشہ میں ایک خانقاہ تعمیر کروائی اور اس میں آپ نے قیام فرمایا ۔مگر کسی وجہ سے بادشاہ سے آپ کے تعلقات میں آئی سرد مہری کے باعث آپ نے یہاں صرف چھ ماہ کے مختصر قیام کے بعد اس مقام پر نقل مکانی فرمائی جہاں اس وقت آپ کی بارگاہ شریف ہے۔اس مقام کو حضرت خواجہ صاحب نے خرید ا تھا۔مختلف کتب اور تذکرو ں میں اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ حضرت خواجہ صاحب ؒ کا قیام خانقاہ میں صرف چھ ماہ ہی رہا۔حضرت قبلہ نے فرمایا کہ سیر محمدی میں آپ کے نام سے منسوب 37کتابوں کے نام ملتے ہیں جبکہ دیگر کتابوں میں 44کتابوں کا ذکر مذکور ہے خواجہ صاحب کی تحریر کردہ کتاب عوارف المعارف کی شرح بھی لکھی جاچکی ہے ۔قبل ازیں علمی مذاکرے کا آغاز خطیب و امام مسجد درگاہ شریف حافظ مولانا محمد اویس کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ ممتاز نعت خواںجناب الحاج طیب یعقوبی نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں نذرانہ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔جناب حامد اکمل ایڈیٹر عالمی شمع و ایقا ن نے منقبتی قطعات پیش کیے۔ممتاز شاعر و ادیب و فدائے اولیا و صوفیا ڈاکٹر راہی فدائی (بنگلور) نے بعنوان ’’سلسلہ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کے معروف صوفیہ ٔ کرام‘‘ ،یکتائے علم و فضل اور حمید اولیا کرام جناب پروفیسر عبدالحمید اکبر صدر شعبہ اُردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ نے ’’حضرت جلال الدین رومیؒ و حضرت شمس تبریز ؒ‘‘ اور حضرت پروفیسر مصطفی شریف ڈائریکٹر دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد نے حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کی تصنیف ’’معارف العوارف :ایک جائزہ ‘‘کے عناوین پر اپنے اپنے گراں قدر مقالہ جات پیش کیے ۔جنھیں سید محمد گیسودراز اکیڈمی گلبرگہ کے زیر اہتمام انشا اللہ اگلے عرس شریف کے موقع پر کتابی شکل میں  شائع کیا جائے گا۔اس موقع پر مولانا فضل الحسن چشتی اجمیری ، ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسرو حسینی اور پروفیسر مصطفی شریف کے ہاتھوں سے تین کتابوں رسالہ قشیریہ ،فوائد بندہ نواز اور رسالہ شہاز (جس میں سال گزشتہ کے علمی مذاکرے کے دوران پڑھے گئے مقالہ جات کو کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے ) کی علی الترتیب  رسم اجرا عمل میں لائی گئی ۔عرس حضرت خواجہ کے موقع پر سالہا سال سے ملک کے طول و عرض سے علما و فضلا و محققین نے اپنے مقالے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے اور فیوض و برکات بندہ نواز کا یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے جس میں انسانی قلوب کو جوڑنے کا کام کیا جاتا رہا ہے اور یہ کام تعلیمات بندہ نواز کا حصہ ہے۔ڈاکٹر وہاب عندلیب نے جلسہ کی کارروائی بحسن و خوبی چلائی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT