Tuesday , September 19 2017
Home / ہندوستان / حضرت حاجی علیؒ کی درگاہ میں خواتین کے داخلہ پرتنازعہ

حضرت حاجی علیؒ کی درگاہ میں خواتین کے داخلہ پرتنازعہ

رپورٹ پیش کرنے عدالتی ہدایت، خواتین کو حکومت مہاراشٹرا کی تائید
ممبئی 9 فروری (سیاست ڈاٹ کام) حضرت حاجی علیؒ کی درگاہ میں مزار مبارک کے پاس خواتین کے داخلہ پر امتناع کے بارے میں اپنا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے بمبئی ہائیکورٹ نے تمام فریقین سے اپنے دلائل تحریری طور پر اندرون دو ہفتہ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ دریں اثنا حکومت مہاراشٹرا نے آج خواتین کے حضرت حاجی علیؒ کی درگاہ میں داخلہ پر عائد امتناع برخاست کرنے کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ جب تک قرآن مجید کے حوالہ سے اِس امتناع کی تائید میں دلائل پیش نہ کئے جائیں، حکومت کی خواہش ہے کہ یہ امتناع برخاست کردیا جائے۔

ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل شری ہری اینے نے عدالت میں کہاکہ حکومت مہاراشٹرا خواتین کے درگاہ میں داخلہ پر امتناع کی برخاستگی کی خواہاں ہے۔ درگاہ بورڈ نے ڈیویژن بنچ پر بیان دیتے ہوئے کہاکہ مزار مبارک کے پاس خواتین کے داخلہ پر اسلئے امتناع عائد کیا گیا کیونکہ اسلام میں کسی بھی خاتون کو ایک مرد بزرگ دین یا اُس کے مقبرے کو چھونے پر امتناع عائد ہے۔ درخواست گذار راجیو مورے نے تاہم درگاہ بورڈکے دلائل پر اعتراض کیااور کہاکہ سرکاری طور پر حضرت حاجی علی ؒ کی درگاہ کے ویب سائٹ پر نہیں کہا گیا کہ مقبرے کے اندر درحقیقت کسی کی میت دفن ہے۔ اِسلئے جب تک حضرت حاجی علیؒ کی درگاہ کے ویب سائٹ پر اُن کی دلیل کی تردید کرتے ہوئے بیان موجود نہ ہو ، خواتین کے داخلہ پر امتناع غیر قانونی ہے۔ عدالت نے 3 فروری کو ریاستی حکومت سے رائے طلب کی تھی جس پر ریاستی حکومت نے عدالت میں اپنی رائے داخل کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT